بیجنگ (شِنہوا) چین 2030 تک اناج کی اپنی مجموعی پیداواری صلاحیت میں بتدریج اضافہ کرے گا اور اناج میں بنیادی خود کفالت اور اہم غذائی اجناس کی مکمل سلامتی کی حد برقرار رکھے گا۔ یہ بات وزارت زراعت و دیہی امور کی جانب سے جاری کردہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران فصلوں کی کاشت سے متعلق قومی ترقیاتی منصوبے میں کہی گئی ہے۔
منصوبے کے تحت 2030 تک چین سویابین، تیل دار فصلوں، کپاس اور چینی کی فصلوں کی پیداواری صلاحیت کو مستحکم اور بہتر بنائے گا تاکہ خود کفالت کی مناسب سطح برقرار رکھی جا سکے، جبکہ سبزیوں، پھلوں اور چائے کی متوازن، متنوع اور محفوظ فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
منصوبے میں مختلف فصلوں اور علاقوں کے لئے ہدف پر مبنی اقدامات بھی مقرر کئے گئے ہیں۔
منصوبے میں ماحول دوست منتقلی پر بھرپور زور دیتے ہوئے زرعی پانی کے تحفظ اور کھاد و کیڑے مار ادویات کے زیادہ محتاط استعمال پر زور دیا گیا ہے۔
اس میں زراعت میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کے قائدانہ کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جن میں نئی اور اہم اقسام کی افزائش و ترویج اور سمارٹ مشینری کا استعمال شامل ہے۔
ٹیکنالوجی پہلے ہی چین کی زرعی پیداوار میں اضافے میں 64 فیصد سے زیادہ حصہ ڈال رہی ہے۔
فصلوں کی کاشت کا یہ منصوبہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران زرعی اور دیہی جدت کو تیز کرنے کے منصوبے سے ہم آہنگ ہے، جس میں 2030 تک ملک کی مجموعی اناج کی پیداواری صلاحیت بڑھا کر 14.5 کھرب جن (تقریباً 72 کروڑ 50 لاکھ ٹن) کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزارت زراعت و دیہی امور کے دیہی معیشت تحقیقی مرکز کے ڈائریکٹر ژاؤ چانگ باؤ نے حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا کہ ’’15ویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت بنیادی طور پر زرعی اور دیہی جدت کے حصول کے لئے انتہائی اہم ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’زمین کی پیداوار کی شرح، وسائل کے استعمال کی شرح اور محنت کی پیداواری صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرنا اندرون و بیرون ملک تبدیلیوں سے نمٹنے، زرعی ترقی کی بنیاد مستحکم کرنے اور قومی غذائی سلامتی کے تحفظ کے لئے ناگزیر ہے۔‘‘
ژاؤ نے نشاندہی کی کہ یہ منصوبہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران زرعی اور دیہی جدت کو تیز کرنے کے منصوبے کی اس ضرورت سے ہم آہنگ ہے کہ پیداوار اور پیداواری صلاحیت، پیداوار اور ماحولیات، نیز پیداوار اور آمدنی میں بیک وقت اضافہ کیا جائے۔
چین کی غذائی سلامتی کی بنیاد مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ ملک میں 2025 میں اناج کی پیداوار تقریباً 71 کروڑ 49 لاکھ ٹن رہی، جو مسلسل دوسرے سال 70 کروڑ ٹن سے زیادہ ہے۔
یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی غذائی سلامتی کو بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے پانچ خصوصی اداروں کی جانب سے جولائی میں جاری کی گئی ’’دنیا میں غذائی سلامتی اور غذائیت کی صورتحال 2026‘‘ کے عنوان سے رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2025 میں تقریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افراد، یعنی دنیا کی آبادی کا 7.8 فیصد بھوک سے متاثر تھے۔
چین دنیا کی تقریباً 20 فیصد آبادی کو دنیا کی قابل کاشت زمین کے 9 فیصد سے بھی کم رقبے کے ذریعے خوراک فراہم کرتا ہے اور اس نے اناج میں اپنی خود کفالت کی شرح کو بلند سطح پر برقرار رکھا ہے۔
چین نے 2030 تک اناج کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لئے فصلوں کی کاشت کا منصوبہ جاری کر دیا



