تیانجن (شِنہوا) 46 سالہ امریکی ایسوسی ایٹ پروفیسر برائے فلسفہ میشا ٹاڈ کے لئے چین کے پہاڑ اور دریا قدیم چینی کلاسیکی کتاب ’’تاؤ تے چھنگ‘‘ کے جیتے جاگتے صفحات کی طرح ہیں جو صرف مناظر کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں سمجھنے کا ہنر رکھنے والوں کے لئے پڑھے جانے کے منتظر رہتے ہیں۔
اس موسم گرما میں ٹاڈ اپنی بہن کے لئے خصوصی ٹور گائیڈ بن گئے جو پہلی مرتبہ چین کا دورہ کر رہی تھیں۔ ان کا سفر تیانجن اور بیجنگ کے تاریخی مقامات سے ہوتا ہوا چین کے شمالی صوبے شنشی کے دیہی مناظر تک پہنچا۔
ٹاڈ کے لئے اس سفر کی داستان محض سیاحت سے کہیں زیادہ تھی۔ یہ چینی فلسفی لاؤ زو کی قدیم کلاسیکی تعلیمات پر ایک چلتی پھرتی درسگاہ کی مانند تھی جہاں ہر منظر سفر کے دوران ایک نیا سبق سامنے لاتا تھا۔
چین کے شمالی شہر تیانجن میں واقع نان کائی یونیورسٹی کے گلوبل لاؤزے گیتکس ریسرچ سنٹر کے سربراہ ٹاڈ نے کئی برس تاؤ تے چھنگ کے مطالعے کے لئے وقف کئے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کلاسیکی تعلیمات کو ان کے اصل ماخذ تک لے جانا اور ان مناظر و علاقوں سے براہ راست واسطہ پیدا کرنا جنہوں نے ان فلسفیانہ خیالات کو جنم دیا خود فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ یہ اس دنیا کے ساتھ ایک زندہ تعلق ہے جس نے لاؤ زو کے طرز فکر کو تشکیل دیا۔
تیانجن میں مازو مندر اور تاریخی فائیو گریٹ ایونیو سے گزرتے ہوئے اور بیجنگ میں ممنوعہ شہر اور عظیم دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر ٹاڈ نے اپنی بہن کو دکھایا کہ چین اپنے قدیم مقامات میں نئی روح کیسے پھونکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم عمارتوں کو جدید دور کے منظرنامے پر اپنی کہانیاں سنانے کا موقع دینا بذات خود ’فطرت کی پیروی کرنے والے راستے‘ (چینی زبان میں داؤ فا زی ران) کی دانش مندی کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘
شنشی میں ماؤنٹ ووتائی کے قریب فوگوانگ مندر اور نان چھان مندر کی سادہ اور صدیوں پرانی عمارتیں تاؤ ازم کی ایک اور بصیرت کی یاد دلاتی ہیں، یعنی ’’عقلمند ظاہری طور پر کھردرا لباس پہنتا ہے، لیکن باطن میں یاقوت کو گلے لگائے رکھتا ہے۔‘‘
شنشی کے شہر داتونگ کا سفر کرتے ہوئے منظر اچانک کھل گیا اور پہاڑی ڈھلوانیں شمسی پینلوں سے ڈھکی نظر آئیں جو دھوپ میں نیلے رنگ کی چمک بکھیر رہے تھے۔ ٹاڈ نے انہیں ’’وو وے‘‘ کی ایک عملی مثال قرار دیا جس کا ترجمہ اکثر ’’بے جا مداخلت سے گریز‘‘ یا ’’بغیر زور لگائے فطری انداز میں کام کرنا‘‘ ہے۔
ٹاڈ نے اپنی بہن کو سمجھایا کہ ’’شمسی توانائی کا استعمال ’وو وے‘ کے اصول سے اچھی طرح ہم آہنگ ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ یہ پینل ماحول میں کم سے کم مداخلت کے ساتھ سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں جو خاص طور پر لکڑی یا کوئلہ جلانے کے ماحولیاتی اثرات کے مقابلے میں عدم مداخلت کا ایک فائدہ مند نتیجہ ہے۔
تاہم ٹاڈ کے لئے ’’وو وے‘‘ کی معنویت شمسی پینلوں سے کہیں آگے ہے۔ وہ اسے انسانیت پر مرکوز سوچ کے لئے ایک فلسفیانہ اصلاح سمجھتے ہیں جو نشاۃ ثانیہ کے بعد سے مغرب میں غالب رہی ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ اس سوچ نے سائنسی اور سماجی ترقی کو آگے بڑھایا ہے، لیکن اس نے کائنات کے سامنے انسان کی عاجزی کے احساس کو بھی کم کر دیا ہے، جبکہ ٹاڈ کے خیال میں آج اس عاجزی کی فوری ضرورت ہے۔
ٹاڈ نے قدیم فلسفے کے مزید قریب جانے کے عزم کے ساتھ چینی زبان سیکھنا شروع کر دی۔ کالج میں جونیئر طالب علم کی حیثیت سے انہوں نے چین کے شمال مغربی صوبہ شانشی کے قدیم دارالحکومت شی آن میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور یہی فیصلہ انہیں چینی ثقافت کے تاحیات مطالعے کی راہ پر لے گیا۔
ٹاڈ کا خیال ہے کہ لاؤ زو کے بہت سے نظریات چین کے منفرد جغرافیے کے مشاہدے سے پیدا ہوئے ہیں اور آج بھی ان کی معنویت برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شی آن دریائے زرد کے طاس میں واقع ہے۔ ایسے ماحول میں آپ پانی کی طاقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ ایک زمانے میں اس دریا کو قابو کرنا انتہائی مشکل تھا۔‘‘
امریکی سکالر نے لاؤ زے کے ذریعے چین میں فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کا راز پا لیا



