کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ نے کیسے تاریخ کو ترقی میں بدلا، یان آن میں سیاحوں کا مشاہدہ

یان آن، شانشی (شِنہوا) ایوان راکان ابھی 10 سال کے بھی نہیں تھے جب ان کے والد 1981 میں چین سے واپس کروشیا گئے اور اپنے ساتھ تین تاروں والا روایتی چینی ساز سان شیان بھی لے گئے۔
یہ ساز ان کے بچپن سے ہی کمرے کی دیوار پر لٹکا رہتا تھا اور یوں چین کا ایک حصہ ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا۔ 40 سال سے زیادہ عرصے بعد راکان کو شنگھائی کے ایک عجائب گھر میں ایسا ہی ساز نظر آیا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اگرچہ سان شیان ساز میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی لیکن چین خود بہت تیزی سے بدل چکا ہے۔
کروشیا کی پارلیمنٹ کے رکن اور سابق کروشیائی وزیراعظم ایویکا راکان کے بیٹے ایوان راکان کے لئے یہ ساز چین کی جدید تاریخ کے دو ادوار کو آپس میں جوڑتا ہے۔ ان کے والد سابق یوگوسلاویہ کے ایک عہدیدار کی حیثیت سے چین آئے تھے۔ راکان نے بتایا کہ واپسی پر ان کے والد چین کے بارے میں ایسی باتیں اور واقعات ساتھ لائے تھے جو اس تبدیلی کے ابتدائی دور کی عکاسی کرتے تھے جس نے آنے والی دہائیوں میں ملک کی صورت بدل دی۔
کئی دہائیوں بعد راکان خود چین آئے اور انہوں نے یان آن جانے کا خصوصی اہتمام کیا جو کبھی چینی انقلاب کا ایک اہم مرکز تھا۔ چین کے شمال مغربی صوبہ شانشی کے اس شہر کے سفر کے دوران انہوں نے ایک ایسا جدید چین دیکھا جس کا 1981 میں تصور کرنا بھی مشکل تھا۔
10 ستمبر کو 50 سے زائد ممالک کے 200 سے زیادہ نمائندوں نے یان آن میں ایک موضوعاتی بریفنگ میں شرکت کی۔ دیہی ترقی، ماحولیاتی تحفظ، صنعتی ترقی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق مثالوں کے ذریعے اس تقریب میں بتایا گیا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) طویل مدتی اہداف کو عملی اقدامات میں تبدیل کرکے عام آبادی اور خاندانوں کی زندگیوں میں کس طرح تبدیلیاں لائی ہے۔
راکان نے شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسی چیز ہے جس کی تعریف، قدر اور اس کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔
رومانیہ کی سینیٹ کے سیکرٹری کے دفتر میں پارلیمانی مشیر اور الائنس فار دی یونین آف رومانینز کے تحت رومانیہ-چین دوستی گروپ کے سیکرٹری پیٹرے ڈانچی کے لئے چین کی ترقی کوئی سنی سنائی یاد نہیں بلکہ ان کی اپنی زندگی کا حصہ ہے۔
چینی زبان پر عبور رکھنے والے دانچی 2011 میں بیجنگ آئے تھے۔ انہوں نے کیپٹل یونیورسٹی آف اکنامکس اینڈ بزنس میں چینی زبان کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں مکمل کیں۔ بیجنگ میں سات سالہ قیام اور تعلیم کے دوران انہوں نے لیکچرز، دوستیوں اور طالب علم کی روزمرہ زندگی کے ذریعے چین کو قریب سے دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی میں چین آتا ہوں، مجھے بہت زیادہ ترقی نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر میں بیجنگ، شنگھائی یا کسی دوسرے بڑے مانوس شہر میں بھی جاؤں تو مجھے بہتری نظر آتی ہے۔
یان آن کے حالیہ سفر نے انہیں چین کی تاریخ کے ایک پہلے دور سے براہ راست روشناس کرایا۔
دانچی نے یان آن کے چینی انقلاب کے مرکز کے طور پر کردار کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور کہا کہ آج بھی چین میں یان آن کی روح محسوس کی جا سکتی ہے۔
یہ تعلق اس وقت مزید واضح ہوا جب انہوں نے لیانگ جیا حہ گاؤں کی ترقی، روایتی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور کئی سال تک شجرکاری کے ذریعے ماحولیاتی طور پر کمزور زمین کی بحالی کے بارے میں سنا۔
دانچی نے شِنہوا کوبتایا کہ اس کے لئے موثر نظام، قیادت اور تنظیم ضروری ہے۔
ان کے خیال میں زراعت، ماحولیاتی بحالی اور صنعتی جدت کے شعبوں میں چین کا تجربہ رومانیہ کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے کو من و عن نقل کرنے کے بجائے عوام، کاروباری اداروں اور حکومتوں کے درمیان تبادلے کے ذریعے مقامی حالات کے مطابق ڈھالا جانا چاہیے۔
چینی زبان کی تعلیم حاصل کرنے اور بطور طالب علم چین میں رہنے والے دانچی نے کہا کہ وہ رومانیہ اور چین کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔



  تازہ ترین   
اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہئے: جسٹس امین الدین خان
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں کے حملوں کا جواب دینے کا اعلان
مہنگائی کے ستائے عوام کو ایک اور دھچکا، پٹرول مزید 4 روپے 42 پیسے مہنگا
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کیلئے مثبت پیغام ہے: ترک صدر
یمن کی صورتحال پر گہری نظر، حوثیوں سے براہ راست مذاکرات جاری ہیں: جے ڈی وینس
آئین پاکستان تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے: وزیراعظم کا یوم جمہوریہ پر پیغام
ای سی سی نے وزیراعظم کے فیول ریلیف پیکج کی منظوری دے دی
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر