بیجنگ (شِنہوا) صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اعلان کیا ہے کہ چین بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لئے مزید اقدامات کرے گا جن میں بچوں کی دیکھ بھال کی خدمات زیادہ آسان اور سستی بنانا بھی شامل ہے کیونکہ ملک بچوں کی پرورش کے اخراجات میں کمی اور شرح پیدائش بڑھانے کے لئے کوشاں ہے۔
نیشنل ہیلتھ کمیشن کے سربراہ لی ہائی چھاؤ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کنڈرگارٹن اور نرسری مراکز میں خدمات کے مربوط فروغ اور کمیونٹیز اور آجروں کو بچوں کی دیکھ بھال کی سہولیات قائم کرنے میں مدد دینے کے لئے مسلسل کوششیں کی جائیں گی۔
لی نے کہا کہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خاندان اپنے گھروں یا کام کے مقامات کے قریب اور نسبتاً سستی قیمتوں پر دیکھ بھال کی خدمات تک رسائی حاصل کر سکیں۔
عہدیدار نے بتایا کہ کمیشن چھوٹے بچوں میں دیکھ بھال کی خدمات کے دائرے کو وسعت دینے کے لئے کام کرے گا تاکہ خاندانوں کے ہاں بچے پیدا کرنے، پرورش اور تعلیم کے اخراجات میں موثر طریقے سے کمی لائی جا سکے۔
لی کے مطابق ملک نچلی سطح کے طبی اداروں میں بچوں کی طبی دیکھ بھال تک رسائی بہتر بنانے کے لئے بھی کام کرے گا۔
لی نے بتایا کہ رواں سال کے آخر تک گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار مزید کمیونٹی سطح کے طبی اور صحت کے ادارے بچوں کی طبی دیکھ بھال کی سہولت فراہم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت تک ملک کے ٹاؤن شپ سطح کے پچانوے فیصد سے زائد کلینک اور کمیونٹی ہیلتھ سروس سنٹرز کے پاس متعلقہ خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت ہونے کی توقع ہے۔
لی نے کہا کہ کمیونٹی سطح پر بچوں کی طبی خدمات مضبوط بنانے کے لئے اعلیٰ سطح کے ہسپتالوں سے تین ہزار سے زیادہہ ماہر امراض اطفال نچلی سطح کے طبی اداروں میں بھیجے گئے ہیں۔
چین نے بچوں والے خاندانوں پر مالی بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اس پورے عمل میں حمل سے پہلے، دوران حمل اور بچے کی پیدائش سے پرورش تک کا احاطہ کرنے والا زچگی کے دورانیے کا ایک مکمل معاون نظام تیار کیا ہے جس میں زچگی کی مراعات، بچوں کی دیکھ بھال کی مالی معاونت، طبی بیمے کے اخراجات کی واپسی اور بچوں کی دیکھ بھال کی سستی خدمات جیسے اقدامات شامل ہیں۔
چین نے 2025 میں ملک گیر سطح پر بچوں کی دیکھ بھال کی مالی معاونت کا منصوبہ متعارف کرایا تھا جس کے تحت تین سال سے کم عمر کے ہر بچے کے لئے 3 ہزار 6 سو یوآن (تقریباً 530 امریکی ڈالر) کی سالانہ ٹیکس فری سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ 2025 کے خزاں کے سمسٹر سے کنڈرگارٹن کے آخری سال کی بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیمی فیس بھی معاف کرنا شروع کر دی گئی۔
اگست تک 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد شیر خوار اور نو مولود بچوں کو 2026 کے لئے دیکھ بھال کی مالی معاونت مل چکی ہے اور کنڈرگارٹن میں داخل 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچے فیس معافی کی پالیسی سے مستفید ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ اس وقت 26 کروڑ افراد زچگی بیمہ سکیم کے دائرہ کار میں شامل ہیں، جبکہ بہت سے علاقوں میں اس کوریج کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ عارضی روزگار سے وابستہ افراد ملازمین کے طبی بیمہ کے ساتھ ساتھ زچگی بیمہ میں بھی شامل ہو سکیں۔
یہ پالیسیاں گرتی ہوئی شرح پیدائش اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے تناظر میں پیدائش کے لئے سازگار معاشرہ بنانے کی چین کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔
شرح پیدائش میں اضافے کے لئے سازگار معاشرہ بنانا چین کی 15 ویں پانچ سالہ منصوبہ بندی کا بنیادی محور بن چکا ہے۔ اس کے خاکے میں پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لئے مراعات کے علاوہ بچے کی پیدائش، بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم کے اخراجات میں کمی لانے کی کوششیں شامل ہیں۔
اس کا مقصد نوزائیدہ بچوں کی پیدائش کی شرح مستحکم بنانا اور آبادی کے طویل المدتی متوازن فروغ کو یقینی بنانا ہے۔
چین بہتر نگہداشت کی خدمات کے ذریعے بچوں کی پیدائش کے لئے مزید سازگار ماحول پیدا کرے گا



