بیجنگ (شِنہوا) چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پھنگ کی بھارت میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت برکس تعاون کے اعلیٰ معیار کے فروغ میں رہنمائی کے لئے تزویراتی اہمیت رکھتی ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے اس دورے نے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان اتحاد کے ذریعے طاقت کو بھی فروغ دیا۔
وانگ یی نے ہفتے اور اتوار کو بھارت میں منعقد ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے صدر شی جن پھنگ کے دورہ بھارت کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دی۔
انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے شی جن پھنگ کے دورے نے برکس تعاون میں نئی روح پھونکی۔ چینی صدر نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران برکس کی ترقی کو ’’خود انحصاری اور خود کو مضبوط بنانا، مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہنا اور ثمر آور نتائج حاصل کرنا‘‘ کے 3 اہم فقروں میں سمیٹا۔
وانگ یی نے کہا کہ ایک نئے تاریخی نقط آغاز پر کھڑے ہو کر صدر شی نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ جدت پر مبنی ترقی کو آگے بڑھانے، امن و استحکام برقرار رکھنے، تہذیبوں کے درمیان باہم سیکھنے کو فروغ دینے اور عالمی نظم و نسق میں اصلاحات و بہتری لانے میں آگے بڑھیں۔
وانگ یی نے کہا کہ 2027 میں برکس اپنے چوتھے ’’چینی سال‘‘ میں داخل ہوگا۔ صدر شی نے اعلان کیا کہ چین اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر اتفاق رائے پیدا کرے گا، مستقبل کے امکانات کو روشن کرے گا اور برکس تعاون کی تیسری سنہری دہائی کی جانب قدم بڑھائے گا۔
وانگ یی نے کہا کہ دوسرا یہ کہ صدر شی کے دورے نے گلوبل ساؤتھ کو بااختیار بنایا۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر شی نے گلوبل ساؤتھ کو مضبوط بنانے کے لئے چار اہم تجاویز پیش کیں۔ ان میں بین الاقوامی معاملات میں قانون کی حکمرانی کا مشترکہ دفاع کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ بین الاقوامی قانون اور قواعد سب پر یکساں طور پر لاگو ہوں۔ اس کے علاوہ کثیرالجہتی نظام کا پرچم بلند رکھنا اور اقوام متحدہ کے اختیار اور کردار کو برقرار رکھنا، عوام پر مرکوز ترقی کے فلسفے پر کاربند رہنا اور پائیدار ترقی کے 2030 کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لئے کوششیں کرنا جبکہ سلامتی کے نظم و نسق کو مشترکہ طور پر آگے بڑھاتے ہوئے روایتی اور غیر روایتی دونوں طرح کے سلامتی کے خطرات سے نمٹنا بھی شامل ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے انقلاب اور صنعتی تبدیلی کے نئے دور پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے صدر شی نے متعدد انیشی ایٹوز تجویز کئے جن میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئی صنعتی ترقی کے لئے برکس انیشی ایٹو، اوپن سورس اور جامع مصنوعی ذہانت کا انیشی ایٹو، ڈیجیٹل صنعت میں تعاون کا انیشی ایٹو اور ذہین مینوفیکچرنگ میں تعاون کا انیشی ایٹو شامل ہیں۔
شی جن پھنگ نے برکس تعاون کو مزید وسعت دینے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے لئے سمت متعین کر دی، چینی وزیر خارجہ



