دل میں عشقِ رسول ﷺ ہو تو موت سے بھی ڈر نہیں لگتا ! ختم نبوت تحریک میں پھانسی کی سزا سننے کے بعد مولانا عبد الستار نیازیؒ ، جیسے کوئی بادشاہ وقت چل کر آ رہا ہے۔
ایمان کی وہ کیفیت ہے جو انسان کو دنیا کے بڑے سے بڑے خوف سے آزاد کر دیتی ہے۔ جب دل میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ گھر کر جائے تو تخت، تاج، جیل، زنجیریں اور پھانسی کا پھندا بھی اس کے سامنے اپنی ہیبت کھو دیتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں تحریکِ ختمِ نبوت کے وہ دن بھی اسی جذبۂ عشقِ رسول ﷺ کی ایک روشن داستان ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے تحفظ کے لیے علماء، مشائخ اور عام مسلمان میدان میں نکل آئے تھے۔ حالات سخت تھے، گرفتاریاں ہوئیں، مقدمات چلے اور کئی لوگوں کو موت کی سزائیں سنائی گئیں۔
انہی ناموں میں ایک نام مولانا عبد الستار نیازیؒ کا بھی تھا۔
کہتے ہیں کہ جب تحریکِ ختمِ نبوت ﷺ کے دوران مولانا عبد الستار نیازیؒ کو سزائے موت سنائی گئی تو عام انسان کے لیے شاید یہ خبر قیامت سے کم نہ ہوتی۔ موت کا نام ہی جسم پر کپکپی طاری کر دیتا ہے۔ مگر جس سینے میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن ہو، وہاں موت بھی اپنی دہشت کھو دیتی ہے۔
مولانا عبد الستار نیازیؒ سزا سننے کے بعد جب باہر آئے تو انکی چال میں ایسا فاتح انداز تھا کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی بادشاہ وقت چل کر آ رہا ہے .
سر بلند، قدم مضبوط، چہرے پر اطمینان اور دل میں اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت۔
وہ جانتے تھے کہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے، مگر رسولِ اکرم ﷺ سے وفا کا راستہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
یہی تو عشق ہے!
عاشق اپنے محبوب کے لیے اپنی جان کی قیمت بھی بھول جاتا ہے۔
جس دل میں عشقِ رسول ﷺ ہو، وہاں موت انجام نہیں رہتی، ایک سفر بن جاتی ہے۔ پھر انسان یہ نہیں سوچتا کہ “میں مر جاؤں گا”، بلکہ یہ سوچتا ہے کہ “اگر میری جان میرے نبی ﷺ کی محبت اور دین کی سربلندی کے راستے میں چلی جائے تو اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے؟”
مولانا عبد الستار نیازیؒ کے کردار میں یہی بے خوفی دکھائی دیتی ہے۔
وہ دور یاد کیجیے جب عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے تحفظ کے لیے لوگ اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ کسی کے پاس طاقت نہیں تھی، کسی کے پاس لشکر نہیں تھا، کسی کے پاس دنیاوی اقتدار نہیں تھا۔
ان کے پاس صرف ایک چیز تھی:
عشقِ رسول ﷺ۔
اور عشقِ رسول ﷺ وہ طاقت ہے جو نہ تلوار کی محتاج ہے، نہ تخت کی، نہ تاج کی۔
تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ دنیا سے چلے گئے، ان کے محلات خاک ہوگئے، ان کے تاج عجائب گھروں میں رہ گئے، مگر عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے نام آج بھی زندہ ہیں۔
مولانا عبد الستار نیازیؒ بھی انہی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے یہ پیغام دیا کہ ایمان صرف الفاظ کا نام نہیں، بلکہ وقت آنے پر اپنے عقیدے کے لیے ثابت قدم رہنے کا نام بھی ہے۔
سزائے موت سامنے ہو اور قدم نہ ڈگمگائیں، تو سمجھ لیجیے دل میں کوئی دنیاوی طاقت نہیں بلکہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ بول رہا ہے۔
موت تو ایک دن ہر انسان کو آنی ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی موت کے نام سے کانپتا ہوا دنیا سے جاتا ہے، اور کوئی اپنے ایمان، اپنے عقیدے اور اپنے محبوب ﷺ کی محبت کو سینے سے لگائے ہوئے رخصت ہونے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
اور شاید اسی لیے کہا جاتا ہے:
دل میں عشقِ رسول ﷺ ہو تو موت سے بھی ڈر نہیں لگتا۔
یہ عشق انسان کو باغی نہیں، باکردار بناتا ہے۔ یہ عشق انسان کو ظالم نہیں، ثابت قدم بناتا ہے۔ یہ عشق انسان کو نفرت نہیں، ایمان کی روشنی دیتا ہے۔
مولانا عبد الستار نیازیؒ کی بلند قامت شخصیت ہمیں آج بھی یہی سبق دیتی ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر دل میں اپنے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی محبت زندہ ہو تو انسان تنہا ہو کر بھی ایک پوری دنیا کے برابر کھڑا ہوسکتا ہے۔
وہی سر جو سجدۂ الٰہی میں جھکتا ہے، باطل کے خوف سے نہیں جھکتا۔
اور وہی دل جو محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت سے آباد ہو جائے، اسے دنیا کی کوئی دھمکی شکست نہیں دے سکتی۔
یہی عشق ہے۔
یہی وفا ہے۔
اور یہی وہ طاقت ہے جس نے مولانا عبد الستار نیازیؒ کو سزائے موت کے سائے میں بھی بادشاہوں جیسی شان کے ساتھ چلنے کا حوصلہ دیا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو بھی سچی محبتِ رسول ﷺ سے منور فرمائے، ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
سزائے موت کے سائے میں بادشاہوں جیسی چال: مولانا عبد الستار نیازیؒ اور عشقِ رسول ﷺ



