تحریر: شاہ ولی اللہ جنیدی
تاریخ صرف حکمرانوں، فاتحوں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے نام محفوظ نہیں کرتی، بلکہ بعض اوقات ایک ایسے درزی، مزدور اور فنکار کی داستان بھی اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے جس نے زندگی بھر انسان کی عزت، محنت کش کے حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد کی ہو۔ اوتار کشن ہینگل، المعروف اے کے ہینگل بھی ایسی ہی ایک غیر معمولی شخصیت تھے، جن کی زندگی برصغیر کی سیاسی تاریخ، مزدور تحریک، تقسیمِ ہند اور ہندوستانی فلمی دنیا کے کئی اہم ادوار سے گزری۔
ان کا پورا نام اوتار کشن ہنگل تھا۔ وہ یکم فروری 1914ء کو کشمیری پنڈت کے خاندان میں سیالکوٹ پنجاب میں پیدا ہوئے ۔ اے کے ہینگل کی زندگی کا ایک اہم باب کراچی سے وابستہ ہے۔ ان کے والد کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد خاندان پشاور سے کراچی منتقل ہوگیا -1939ء میں ہینگل بھی کراچی پہنچے۔ اس زمانے کا کراچی مختلف تہذیبوں، زبانوں اور سیاسی نظریات کا حسین سنگم تھا۔ صدر کی ایلفنسٹن اسٹریٹ، جہاں ان کے سالے رہتے تھے، ان کی ابتدائی کراچی زندگی کا مرکز بنی۔ انہوں نے یہاں ٹیلرنگ کا ہنر سیکھا اور اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے ایک دکان بھی کرائے پر لی، مگر کاروبار زیادہ دیر نہ چل سکا۔
بعد ازاں انہیں معروف کپڑے اور ٹیلرنگ کے ادارے ’ایسارداس اینڈ سنز‘ میں کٹر کی ملازمت مل گئی۔ لیکن ہینگل محض سوئی دھاگے اور کپڑے کی کٹائی تک محدود رہنے والے انسان نہیں تھے۔ ان کے اندر سیاسی شعور بیدار ہوچکا تھا۔ ابتدا میں وہ کانگریس سے وابستہ رہے، مگر 1941ء میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں شامل ہوگئے اور مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم ہوگئے۔
کراچی کی ٹیلرنگ دکانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے مسائل نے انہیں گہرا متاثر کیا۔ طویل اوقاتِ کار، کم اجرت اور بنیادی حقوق سے محرومی کے خلاف انہوں نے آواز بلند کی۔ یہی جدوجہد آگے چل کر کراچی ٹیلرنگ ورکرز یونین کے قیام کا سبب بنی، جس کے وہ پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اس سرگرمی نے انہیں مالکان کی ناراضی کا سامنا بھی کروایا اور بالآخر انہیں ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ دوسرے ٹیلرنگ ادارے بھی انہیں ملازمت دینے سے گریز کرنے لگے۔
مگر روزگار کا چھن جانا ان کے حوصلے کو نہیں چھین سکا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے لیے نظریہ صرف تقریر کا موضوع نہیں بلکہ زندگی کا عملی راستہ تھا۔
1946ء کی رائل انڈین نیوی کی بغاوت کے موقع پر کراچی میں ہونے والی ہڑتال میں بھی انہوں نے فعال کردار ادا کیا۔ اس دوران وہ فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچے۔ اسی سیاسی سرگرمی اور تنظیمی صلاحیت کے باعث 1946ء میں انہیں کراچی کمیونسٹ پارٹی کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔
یہ وہ دور تھا جب برصغیر آزادی کے آخری مرحلے میں داخل ہوچکا تھا۔ سیاسی فضا انتہائی کشیدہ تھی، برطانوی اقتدار کے خاتمے کی گھڑیاں قریب تھیں اور کراچی بھی ان سیاسی ہلچل سے محفوظ نہیں تھا۔ اسی شہر میں ایک طرف آزادی کی صبح طلوع ہونے والی تھی اور دوسری طرف تقسیمِ ہند کا المیہ اپنے سائے پھیلا رہا تھا۔
12 اگست 1947ء کو ہینگل سے ریڈیو اسٹیشن کے لیے ایک ڈراما تیار کرنے کو کہا گیا جسے آزادی کے موقع پر نشر کیا جانا تھا۔ صرف 48 گھنٹوں میں ڈراما تیار کرکے ریکارڈ اور نشر کرنے کی یہ ذمہ داری اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ صرف سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ فن اور تخلیق سے بھی گہرا تعلق رکھتے تھے۔
لیکن 14 اگست 1947ء کے بعد برصغیر کی سیاسی حقیقت بدل گئی۔ پاکستان وجود میں آیا اور نئی ریاست کو بے شمار انتظامی، سیاسی اور سماجی مسائل کا سامنا تھا۔ کمیونسٹ کارکنوں کے لیے حالات بتدریج مشکل ہوتے گئے۔ ہینگل بھی گرفتار ہوئے اور کراچی سینٹرل جیل پہنچا دیے گئے۔
ان کی زندگی کا یہ باب خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ ایک طرف انہیں غیر مسلم قیدی ہونے کی بنیاد پر ہندوستان منتقل کیے جانے کا امکان تھا، دوسری طرف انہوں نے خود پاکستان سے منتقلی کے خلاف درخواست دائر کردی۔ درخواست منظور ہوئی، تاہم ان کی قید میں اضافہ کردیا گیا۔ ان کے مقدمے کی قانونی پیروی کرنے والوں میں سندھ کے ممتاز ترقی پسند رہنما کامریڈ سوبھو گیان چندانی اور معروف شاعر شیخ ایاز سمیت چار وکلا شامل تھے۔
یہ منظر بھی برصغیر کی مشترکہ سیاسی اور ادبی تاریخ کا ایک خوب صورت حوالہ ہے کہ ایک طرف جیل کی سلاخوں کے پیچھے ایک ہندو کمیونسٹ کارکن تھا اور دوسری طرف اس کے دفاع کے لیے سندھ کے ترقی پسند مسلمان اور ہندو دانشور اور قانون دان کھڑے تھے۔ اختلافِ مذہب کے باوجود انسانی اور سیاسی وابستگی نے انہیں ایک دوسرے کے قریب رکھا۔
کراچی جیل کے بعد ہینگل کو حیدرآباد سینٹرل جیل منتقل کیا گیا۔ بالآخر کئی مشکلات، قید و بند اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے بعد 1949ء میں انہوں نے پاکستان چھوڑ کر ہندوستان کا رخ کیا۔
مگر کراچی ان کی زندگی سے کبھی پوری طرح جدا نہ ہوا۔ اس شہر میں گزارے ہوئے برس، مزدور تحریک، ترقی پسند سیاست، سوبھو گیان چندانی، شیخ ایاز اور دوسرے ہم خیال اہلِ فکر سے تعلقات ان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن گئے۔
ہندوستان پہنچنے کے بعد اے کے ہینگل نے زندگی کا ایک نیا باب شروع کیا۔ جس شخص نے کراچی کی گلیوں میں ٹیلرنگ کی تھی، مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی تھی اور جیل کی صعوبتیں برداشت کی تھیں، وہ آگے چل کر ہندوستانی فلمی دنیا کے معروف اداکاروں میں شمار ہونے لگا۔
انہوں نے تقریباً 225 فلموں میں اداکاری کی۔ اگرچہ انہیں مختلف نوعیت کے کردار ملے، لیکن عام ناظر کے ذہن میں ان کی سب سے یادگار شناخت ’شعلے‘ کے رحیم چاچا کی ہے۔ ان کا کردار فلم میں محض ایک کردار نہیں تھا؛ وہ محبت، انسانیت، برداشت، درد اور تہذیبی شائستگی کی علامت بن گیا۔
رحیم چاچا کے روپ میں اے کے ہینگل نے یہ ثابت کیا کہ بڑے فنکار کو بڑے مکالموں کی نہیں، بڑے احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے چہرے کی جھریاں، آواز کی گونج اور اداکاری کی سادگی نے کردار کو ایسا اثر بخشا کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود رحیم چاچا آج بھی ہندوستانی سینما کے یادگار کرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اے کے ہینگل کی اصل زندگی بھی کسی فلمی کردار سے کم نہیں تھی۔ انہوں نے غربت دیکھی، مزدوری کی، سیاسی جدوجہد کی، جیل کاٹی، ہجرت کی، پھر فلمی دنیا میں قدم رکھا اور شہرت حاصل کی۔ مگر شہرت کے باوجود ان کی زندگی آسائشوں سے بھرپور نہیں ہوئی۔
زندگی کے آخری برسوں میں انہیں مالی مشکلات اور صحت کے مسائل کا سامنا رہا۔ ایک ایسے اداکار نے جس نے پردۂ سیمیں پر لاکھوں لوگوں کو محظوظ کیا، اپنی بیماری کے علاج کے اخراجات پورے کرنے میں دشواری محسوس کی۔ یہ صورتحال ہندوستانی فلمی صنعت کے ان تلخ حقائق کی بھی یاد دہانی ہے جہاں شہرت ہمیشہ مالی تحفظ کی ضمانت نہیں بنتی۔
ان کی سیاسی وابستگی بھی آخری عمر تک ان کی شناخت کا حصہ رہی۔ اپنی سوشلسٹ سوچ اور نظریاتی وابستگی کے باعث انہیں بعض سیاسی مخالفین، خصوصاً شیو سینا کے کارکنوں کی جانب سے بھی مخالفت اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے اپنے نظریات سے دست برداری اختیار نہیں کی۔
26 اگست 2012ء کو ممبئی کے ایک اسپتال میں 98 برس کی عمر میں اے کے ہینگل کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے ساتھ ایک ایسا عہد رخصت ہوا جس میں سیاست، مزدور تحریک، آزادی کی جدوجہد اور فنونِ لطیفہ ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔
اے کے ہینگل کو صرف ’شعلے‘ کے رحیم چاچا کے طور پر یاد کرنا ان کی پوری شخصیت کے ساتھ انصاف نہیں۔ وہ ایک سیاسی کارکن، مزدور رہنما، کمیونسٹ نظریہ رکھنے والے جدوجہد کار، ٹیلر، قیدی اور پھر ایک ممتاز اداکار تھے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے پیشے یا شہرت سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے عہد کے مسائل کے سامنے کس قدر ثابت قدم رہتا ہے۔
اور اے کے ہینگل کی داستان کا کراچی والا باب ہمارے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ شہر کبھی صرف تجارت، صنعت اور سیاست کا مرکز نہیں تھا؛ یہاں آزادی کی تحریک کے کارکن، مزدور رہنما، ترقی پسند ادیب، شاعر اور فنکار بھی اپنی اپنی سطح پر تاریخ رقم کر رہے تھے۔
آج جب ہم کراچی کی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو صدر کی ایلفنسٹن اسٹریٹ کی وہ دکان، ٹیلرنگ کے کپڑے کاٹتا ہوا ایک نوجوان، مزدوروں کے حقوق کی آواز بلند کرتا ہوا ایک سیاسی کارکن، جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا ایک نظریاتی انسان اور پھر ہندوستانی سینما کے پردے پر رحیم چاچا کا کردار ادا کرنے والا بزرگ اداکار—یہ سب ایک ہی شخص کی مختلف تصویریں دکھائی دیتی ہیں۔
اے کے ہینگل کی زندگی دراصل ایک ایسے انسان کی داستان ہے جس نے سوئی اور قینچی سے کپڑے کاٹے، سیاست میں جبر کے خلاف آواز اٹھائی، جیل کی سلاخیں دیکھیں اور بالآخر اپنی اداکاری سے کروڑوں دلوں میں جگہ بنالی۔
یہی وجہ ہے کہ کراچی کی تاریخ میں ان کا ذکر محض ایک فلمی اداکار کے طور پر نہیں، بلکہ اس شہر کی کثیرالجہتی، ترقی پسند اور جدوجہد سے بھرپور سیاسی و سماجی تاریخ کے ایک اہم کردار کے طور پر بھی ہونا چاہیے۔



