تائی پے (شِنہوا) تائیوان کے حالیہ معاشی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی جدید ترین ٹیکنالوجی مصنوعات تیار کرنے والی صنعت اور مشکلات کا شکار روایتی صنعتوں کے درمیان خلیج مسلسل وسیع ہو رہی ہے۔
جزیرے پر موجود صنعتی گروپس اور ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس مسلسل عدم توازن کے خاتمے کے لئے صنعتی وسائل کی متوازن تقسیم ضروری ہے تاکہ کسی ایک شعبے کی تیز رفتار ترقی سے دوسرے شعبے متاثر نہ ہوں۔
یہ تشویش تائیوان فیڈریشن آف انڈسٹریز کی گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی 2026 کی رپورٹ میں سامنے آئی جو فیڈریشن سے وابستہ 161 صنعتی ایسوسی ایشنز کے سروے کے بعد تیار کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تائیوان کے حکام نے سالہا سال سے سیمی کنڈکٹرز اور دیگر ہائی ٹیک صنعتوں پر غیر متناسب حد تک پالیسی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ اس پالیسی ترجیح نے ٹیک شعبے کی پیش رفت میں نمایاں کردار ادا کیا جس کی بدولت برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں اور ٹیک شعبے کی اس چمک دمک سے پیدا ہونے والی دولت نے اثاثوں اور جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ دوسری جانب روایتی صنعت سے وابستہ کارکنوں کو ضروریات زندگی کی بڑھتی لاگت اور کم اجرتوں کا سامنا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اس تضاد نے اعداد و شمار میں بظاہر خوشحالی کا منظرنامہ پیش کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں تائیوان کی معاشی حالت میں گہرے ڈھانچہ جاتی دباؤ بھی بے نقاب ہوا۔
تازہ ترین تجارتی اور صنعتی پیداوار کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ڈھانچہ جاتی عدم توازن تمام صنعتوں پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔
تائیوان کے معاشی حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق معلومات اور مواصلات کی ٹیکنالوجی کی مصنوعات کے لئے برآمدی آرڈرز جولائی میں گزشتہ سال کی نسبت 89.5 فیصد بڑھے جبکہ برقی مصنوعات کے آرڈرز میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
اس کے برعکس جولائی کے دوران کئی روایتی صنعتوں میں مانگ میں کمی ہوئی۔ کیمیکلز اور پلاسٹک و ربڑ کی مصنوعات کے آرڈرز میں سالانہ بنیادوں پر معمولی اضافہ ہوا جبکہ بصری مصنوعات کے آرڈرز میں 10 فیصد سے زائد کی کمی ہوئی۔
صنعتی پیداوار میں یہ تفاوت اور بھی زیادہ نمایاں تھا۔ جولائی میں تائیوان میں کمپیوٹرز، برقی آلات اور بصری مصنوعات کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 95.62 فیصد اضافہ ہوا تاہم کیمیکلز، کھادوں اور گاڑیوں سمیت متعدد روایتی صنعتوں کی پیداوار میں کمی آئی۔
تائیوان کی لیبر مارکیٹ بھی بنیادی ڈھانچے کا عدم توازن ظاہر کرتی ہے۔ تائیوان کے شماریات کے حکام نے رپورٹ کیا ہے کہ جولائی میں 15 سے 24 سال کی عمر کے لوگوں میں بے روزگاری کی شرح 11.71 فیصد رہی جو بے روزگاری کی مجموعی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کاروباری اداروں کی کارکن نہ ملنے کی شکایت برقرار ہے۔ 2026 کی رپورٹ کے لئے سروے میں شامل تقریباً 76.6 فیصد صنعتی ایسوسی ایشنز نے کارکنوں کی قلت اپنا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا اور یہ مسلسل تیسرے سال سب سے بڑی تشویش بن گئی۔
تام کانگ یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر تسائی منگ فانگ کے مطابق نوجوانوں میں نسبتاً زیادہ بے روزگاری اور کارکنوں کی وسیع پیمانے پر قلت کا یکجا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پیدا ہونے والی ملازمتوں اور انہیں پُر کرنے کے لئے دستیاب مہارتوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ تسائی کا کہنا تھا کہ چونکہ ٹیکنالوجی پر مبنی شعبے روز افزوں مخصوص مہارتوں کا تقاضا کرتے ہیں اس لئے بعض ملازمت کے متلاشیوں کو ان صنعتوں میں داخلے کے لئے بڑی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تائیوان کی معاشی ترقی کے باوجود ساختی نا ہمواری برقرار



