تاثرات: مظہر طفیل
دنیا کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ صرف چند لمحوں کا رہ جاتا ہے جب توپوں کی گھن گرج سفارت کاری کی مدھم آواز کو دبانے لگتی ہے جب ریاستیں ایک دوسرے کو دھمکیوں کی زبان میں جواب دینے لگتی ہیں اور جب انسانی زندگی سیاسی انا اور عسکری طاقت کے ملبے تلے دبنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے تو ایسے وقت میں وہ ہاتھ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جو تلوار اٹھانے کی بجائے مذاکرات کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی شدید کشیدگی بھی اسی نوعیت کا ایک خطرناک باب تھی ایک ایسا تنازع جس کے شعلے صرف دو ممالک تک محدود رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے تھے ایسے نازک وقت میں پاکستان نے جس سفارتی کردار کا انتخاب کیا وہ محض ایک خارجہ پالیسی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے ملک کی ذمہ داری کا اظہار تھا جو اپنے جغرافیے کی وجہ سے جنگ کے اثرات سے براہ راست متاثر ہو سکتا تھا اس کوشش میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے پاکستان کے سیاسی اور عسکری رابطہ کار کے طور پر ان کی موجودگی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان وہ رابطہ قائم رکھنے میں مدد دی جس کے بغیر مذاکرات کی راہ مزید دشوار ہو سکتی تھی پاکستان کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے واضح طور پر کہا کہ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ مل کر دونوں فریقوں کے درمیان کئی گھنٹوں پر محیط انتہائی سنجیدہ اور مشکل مذاکرات میں ثالثی کی یہ معمولی بات نہیں تھی کہ ایک طرف امریکہ جیسی عالمی طاقت تھی اور دوسری طرف ایران تھا جو برسوں سے امریکہ کے ساتھ گہرے اختلافات اور شدید عدم اعتماد کی کیفیت میں مبتلا تھا ایسے دو متحارب فریقوں کو ایک میز کے قریب لانا صرف رسمی سفارت کاری نہیں بلکہ اعتماد سازی کی ایک مشکل ترین مشق تھی پاکستان نے اس عمل میں اپنے ان تعلقات کو استعمال کیا جو مختلف عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ اس کے سفارتی اور دفاعی روابط کی صورت میں موجود ہیں اس پورے عمل میں عاصم منیر کا کردار اس اعتبار سے بھی نمایاں ہوا کہ ان کے پاس عسکری طاقت کی علامت ہونے کے باوجود ان کی سرگرمیوں کا رخ جنگ کے بجائے جنگ روکنے کی طرف تھا ایک فوجی سربراہ کی اصل آزمائش صرف میدان جنگ میں نہیں ہوتی بعض اوقات تاریخ اس سے کہیں زیادہ بڑے امتحان کا سامنا کراتی ہے جب اسے اپنی طاقت استعمال کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ بروئے کار لانا پڑتا ہے اپریل میں پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا راستہ کھلا اور اسلام آباد میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں وفود شریک ہوئے جبکہ پاکستانی قیادت نے مذاکرات میں سہولت کاری کی یہاں عاصم منیر کی شخصیت کا ایک مختلف پہلو سامنے آتا ہے ایک طرف وہ پاکستان کی عسکری قوت کی علامت ہیں اور دوسری طرف اسی قوت کو امن کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں جنگ روکنے کی کوشش کرنے والا سپاہی شاید جنگ لڑنے والے سپاہی سے زیادہ مشکل راستے پر چلتا ہے کیونکہ میدان جنگ میں دشمن سامنے ہوتا ہے جبکہ سفارت کاری کے میدان میں دشمنی کے ساتھ ساتھ بداعتمادی غلط فہمی تاریخی زخم سیاسی مفادات اور عالمی طاقتوں کے دباؤ سے بھی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ پاکستان کی اس کوشش کو عالمی سطح پر بھی اہمیت ملی قومی اسمبلی کے اسپیکر نے جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نائب وزیراعظم اسحاق ڈار فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر پاکستانی حکام کی کوششوں کو سراہا لیکن یہاں ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ امن کا راستہ کبھی سیدھا نہیں ہوتا جنگ بندی اور امن معاہدے کے درمیان ایک طویل اور دشوار سفر موجود ہوتا ہے جون میں ہونے والی پیش رفت کے بعد بھی اختلافات ختم نہیں ہوئے اور بعد کے مہینوں میں مذاکرات دوبارہ مشکلات کا شکار ہوئے پاکستان نے پھر بھی رابطوں کا دروازہ بند نہیں کیا اور جولائی اور اگست میں بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی راستہ دوبارہ کھولنے کی کوششیں جاری رہیں یہی وہ مقام ہے جہاں عاصم منیر کے کردار کو محض ایک وقتی سفارتی کامیابی کے بجائے ایک وسیع تر قومی کوشش کے تناظر میں دیکھنا چاہیے ان کی ایران آمد و رفت ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور مختلف سطحوں پر رابطے اس بات کی علامت تھے کہ پاکستان محض دور بیٹھ کر جنگ بندی کی اپیل نہیں کر رہا تھا بلکہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے فریقین کے درمیان رابطے کی عملی کوشش کر رہا تھا مئی میں عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں کیں اور جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے امکانات پر بات کی اس تمام عمل کی سب سے خوبصورت جہت یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی جغرافیائی مجبوری کو سفارتی قوت میں بدلنے کی کوشش کی ایران ہمارا ہمسایہ ہے خلیج پاکستان کی معاشی زندگی کے لیے نہایت اہم ہے آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک بنیادی راستہ ہے اور مشرق وسطیٰ میں کوئی بھی وسیع جنگ پاکستان کی معیشت توانائی کی قیمتوں تجارت ترسیل زر اور بیرون ملک پاکستانیوں کی زندگیوں پر اثر ڈال سکتی ہے اس لیے پاکستان کے لیے امن کی کوشش کوئی بیرونی مسئلہ نہیں بلکہ اپنی قومی سلامتی اور معاشی بقا کا بھی تقاضا ہے مگر عاصم منیر کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے ایک اور پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیے امن صرف طاقتور شخص کی خواہش سے قائم نہیں ہوتا امن اداروں کی مسلسل کوشش اعتماد کے تسلسل اور سیاسی ارادے سے وجود میں آتا ہے پاکستان کی اس سفارتی کوشش میں وزیراعظم شہباز شریف وزارت خارجہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور دیگر ریاستی اداروں کا کردار بھی اہم رہا ہے خود پاکستانی وزارت خارجہ نے اسلام آباد مذاکرات میں سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ ثالثی کا اعتراف کیا ہے اس لیے عاصم منیر کی تعریف کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ تمام کامیابی کا سہرا صرف ان کے سر باندھ دیا جائے بلکہ یہ تسلیم کیا جائے کہ انہوں نے پاکستان کی ریاستی طاقت کے ایک اہم ستون کی حیثیت سے اس سفارتی عمل کو وزن فراہم کیا اور مشکل ترین مرحلے پر اپنے روابط اور اثر و رسوخ کو جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے آغاز کے لیے استعمال کیا آج جب خطے میں دوبارہ کشیدگی کے سائے گہرے ہیں اور پاکستان ایک مرتبہ پھر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشش کر رہا ہے تو یہ حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ امن کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد کا نام ہے تازہ اطلاعات کے مطابق پاکستان اب بھی سفارتی رابطوں کے ذریعے امریکی اور ایرانی فریقوں کو مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش کر رہا ہے ایسے ماحول میں یہ کہنا کہ عاصم منیر نے جنگ روکنے کی کوشش کی اس کردار کی اہمیت کو پوری طرح بیان نہیں کرتا زیادہ درست بات یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کی ریاستی صلاحیت کو ایک ایسے وقت میں امن کے مقصد کے لیے استعمال کیا جب جنگ کا راستہ نسبتاً آسان اور مذاکرات کا راستہ بے حد دشوار تھا جہاں میزائل راستہ بناتے ہیں وہاں سفارت کاری راستے بند ہونے سے بچاتی ہے جہاں بندوقیں فیصلے کرنے لگیں وہاں مذاکرات انسانیت کے لیے آخری امید بن جاتے ہیں اور جہاں دو طاقتیں ایک دوسرے کو شکست دینے پر مصر ہوں وہاں ایک تیسری قوت کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ دونوں کو یہ یاد دلائے کہ جنگ میں فتح کا اعلان ممکن ہے مگر اس کے ملبے میں انسانیت کی شکست چھپی ہوتی ہے عاصم منیر کے لیے یہ کردار یقیناً خطرات سے خالی نہیں کیونکہ جب کوئی شخص طاقتور فریقوں کے درمیان امن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ صرف سفارتی کامیابی کے امکانات ہی نہیں بلکہ دشمنی کے امکانات کو بھی اپنے گرد جمع کرتا ہے تاہم کسی فرد کی زندگی کو لاحق خطرے کے بارے میں قطعی دعویٰ صرف مستند حفاظتی یا سرکاری معلومات کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے اس وقت دستیاب معتبر مواد میں ان کی زندگی کو لاحق کسی مخصوص خطرے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آتی اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ امن کی کوشش کرنے والے ہر شخص کو تاریخ ہمیشہ احترام سے یاد کرتی ہے کیونکہ جنگ کے میدان میں بہادری دکھانا ایک عظیم وصف ہے مگر جنگ کو روکنے کے لیے دشمن کے دروازے تک جانا ایک مختلف نوعیت کی جرات کا تقاضا کرتا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس سفارتی کاوش کا سب سے قابل تحسین پہلو یہی ہے کہ پاکستان نے اپنی عسکری طاقت کو محض طاقت کے اظہار کے طور پر نہیں بلکہ امن کی ضمانت کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی اگر اس کوشش کے نتیجے میں میزائلوں کی جگہ مذاکرات اور دھمکیوں کی جگہ مکالمہ اور میدان جنگ کی جگہ مذاکراتی میز اختیار کرتی ہے تو یہ صرف پاکستان کی کامیابی نہیں بلکہ انسانیت کی کامیابی ہوگی دنیا کو آج ایسے ہی کرداروں کی ضرورت ہے جو طاقت کو جنگ کی آگ بھڑکانے کے بجائے اسے بجھانے کے لیے استعمال کریں جو اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے مکالمے میں تبدیل کریں اور جو تاریخ کے شور میں امن کی وہ آواز بلند کریں جو شاید کم سنائی دیتی ہے مگر انسانی تہذیب کی بقا اسی آواز سے وابستہ ہے اور شاید آنے والے وقت میں اس دور کو یاد کرتے ہوئے تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ جب دنیا ایک اور بڑی جنگ کے کنارے کھڑی تھی تو پاکستان نے صرف تماشائی بننے کے بجائے امن کی طرف ایک قدم بڑھانے کی کوشش کی اور اس کوشش میں اس کے سیاسی اور عسکری رہنماؤں نے اپنے اپنے دائرے میں اپنا کردار ادا کیا جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عملی سفارتی سرگرمیاں ایک نمایاں باب کے طور پر سامنے آئیں۔



