غزہ(نیشنل ٹائمز)حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن وفد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کرے۔
حماس نے یہ بیان اس کے بعد جاری کیا جب اس کے رہنما خلیل الحیہ نے مصر میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔
یہ امن منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش کیا ہے، جیرڈ کشنر آئندہ چند روز میں مزید مذاکرات کے لیے اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔
فلسطینی گروپ نے کہا کہ اس نے اس امن منصوبے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل کیا ہے۔
امریکی امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی افواج سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں اور ایک نئی غیر فوجی انتظامیہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو کی جائے۔
اسرائیل نے ٹرمپ کے اس امن منصوبے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ سب سے پہلے وہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا خواہاں ہے۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی، اسرائیل کسی صورت غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔



