بیجنگ (شِنہوا)چائنہ اکیڈمی آف سپیس ٹیکنالوجی نے اعلان کیا ہے کہ چین کے خلائی سائنسدان وانگ شی جی، جنہوں نے چین کے راکٹ اور سیٹلائٹ پروگراموں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، بیجنگ میں علالت کے باعث 105 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ان کا طویل کیریئر چین کے ابتدائی خلائی پروگرام کے کئی شعبوں پر محیط تھا، جن میں ساؤنڈنگ راکٹس، کیریئر راکٹس، واپس زمین پر آنے والے سیٹلائٹس اور جدید چھوٹے سیٹلائٹس شامل ہیں۔
اکیڈمی کے مطابق انہوں نے بغیر رہنمائی والے راکٹ اور خلا سے واپسی کی ٹیکنالوجی کے شعبوں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے چین کے پہلے ساؤنڈنگ راکٹ کی تیاری کی نگرانی کی، پہلے کیریئر راکٹ کا تکنیکی منصوبہ پیش کیا اور کئی ایسے سیٹلائٹس کی تیاری کی نگرانی بھی کی جو خلا سے واپس زمین پر آ سکتے تھے۔ اس طرح چین سیٹلائٹ کو خلا سے واپس لانے کی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے والا دنیا کا تیسرا ملک بن گیا۔
1999 میں وانگ شی جی کو ” دو بم، ایک سیٹلائٹ” تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا، جو ملک کے ابتدائی جوہری، میزائل اور سیٹلائٹ پروگراموں میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا جانے والا قومی اعزاز ہے۔
چین کے سرکردہ خلائی سائنسدان وانگ شی جی 105 برس کی عمر میں انتقال کر گئے



