نمیبیا برآمدات میں تنوع کے لئے چین کی زیرو ٹیرف پالیسی سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں

ونڈہوک (شِنہوا) نمیبیا چین کی جانب سے افریقی ممالک کے لئے زیرو ٹیرف سہولت کو اپنی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور زرعی، ماہی گیری اور باغبانی کی مصنوعات کی چین کو برآمدات بڑھانے کے لئے ایک اہم موقع سمجھتا ہے۔ونڈہوک میں سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مکالمے کے دوران نمیبیا انویسٹمنٹ پروموشن اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کی قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر جولیا میوتو دھانا نے کہا کہ اس ترجیحی سہولت سے گائے کا گوشت، بھیڑ کا گوشت، بکرے کا گوشت، سمندری خوراک، ٹیبل انگور اور بلیو بیریز کی برآمدات بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ موقع نمیبیا کے چھٹے قومی ترقیاتی منصوبے سے مطابقت رکھتا ہے، جس کا مقصد 2030 تک مویشیوں اور فصلوں کی ویلیو چینز کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 4.6 فیصد سے بڑھا کر کم از کم 8 فیصد کرنا ہے۔منصوبے میں پیداوار کا جی ڈی پی میں حصہ 10.6 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے اور مجموعی برآمدات میں تیار مصنوعات کا حصہ 60 فیصد تک پہنچانے کا بھی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔میوتو دھانا نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف چینی منڈی تک رسائی حاصل کرنا نہیں بلکہ وہاں مستقل، قابل اعتماد اور اعلیٰ قدر کی موجودگی قائم کرنا ہے، جو دو سالہ ٹیرف مدت سے کہیں آگے تک جاری رہے۔انہوں نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ برآمدات میں رکاوٹ بننے والے مسائل کی نشاندہی کرے تاکہ ان کے خدشات کو قومی تجارتی اور سرمایہ کاری پالیسیوں میں شامل کیا جا سکے اور ان پر بہتر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔تاہم میوتو دھانا نے خبردار کیا کہ صرف ٹیرف کے خاتمے سے تجارتی کامیابی یقینی نہیں ہوگی کیونکہ نمیبیا کے برآمد کنندگان کو پہلے سے قائم سپلائرز سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ نمیبیا کو صحت و نباتاتی معیارات، مصنوعات کی نگرانی اور معیار کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ چین کی منڈی کی ضروریات پوری کرنے اور مصنوعات کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لئے اشیاء کو محفوظ بنانے، پروسیسنگ اور پیکیجنگ کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔میوتو دھانا نے برآمدات پر مبنی صنعتوں میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے لئے پالیسی استحکام پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، پروسیسنگ اور نقل وحمل کے منصوبوں میں اکثر دو سال سے کہیں زیادہ عرصے کے لئے سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔یکم مئی کو چین نے سفارتی تعلقات رکھنے والے تمام 53 افریقی ممالک کے لئے زیرو ٹیرف سہولت کا دائرہ بڑھا دیا تھا۔ نمیبیا اور دیگر 19 افریقی ممالک جو کم ترقی یافتہ ممالک میں شامل نہیں ہیں، کے لئے موجودہ ترجیحی انتظام 30اپریل 2028 تک جاری رہے گا۔نمیبیا اور چین نے گائے، بھیڑ اور بکرے کے گوشت کی برآمد کے حوالے سے پروٹوکول طے کر رکھے ہیں۔نمیبیا کی صدر نیتومبو نندی ندیتوا کے جولائی میں چین کے سرکاری دورے کے موقع پر دونوں ممالک نے تازہ ٹیبل انگور کے لئے صحت و نباتاتی پروٹوکول پر دستخط کئے جبکہ چین نے افریقہ سے مخصوص جنگلی آبی مصنوعات کے لئے علاقائی منڈی تک رسائی کا انتظام بھی متعارف کرایا۔نمیبیا کے ادارہ شماریات کے مطابق 2025 میں چین نمیبیا کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار اور دوسری بڑی برآمدی منڈی تھا، جہاں نمیبیا کی 18.1 فیصد برآمدات کی گئیں جن میں زیادہ تر معدنیات شامل تھیں۔



  تازہ ترین   
ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے نقشوں پر اتفاق کر لیا
ایران کا اربیل کے قریب امریکی نگرانی کرنے والا غبارہ مار گرانے کا دعویٰ
7 ستمبر شجاعت، غیرت اور پاک فضائیہ کے لازوال معرکوں کا تاریخ ساز دن
اسرائیلی فوج کے حملوں میں تیزی، باپ بیٹی سمیت 4 فلسطینی شہید، متعدد زخمی
وطن کی فضاؤں کے محافظ پوری قوم کا فخر، ملک بھر میں یوم فضائیہ آج منایا جارہا ہے
وزیراعظم کا پاک فضائیہ کیلئے پیشہ ورانہ کامیابی اور ترقی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار
بھارت کو پاکستان میں پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی کروانے سے باز آنا ہوگا: صدر زرداری
مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں حقیقی اور دیرپا امن ممکن نہیں: وزیراعظم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر