تاثرات: مظہر طفیل
پاکستان کی سکڑتی ہوئی معیشت اور سرمایہ کاروں کا ملک میں سرمایہ کاری سے گریز کرنا یہ سب اچانک نہیں ہوا اس کے لیے موجودہ حکومت کی وہ غیر یقینی پالیسیوں کا کمال ہے جس سے متعلق ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس ایک مکمل تجربہ کار معاشی ٹیم موجود ہے اور یہ تجربہ کار ٹیم ملک کی معیشت کو ایف سولہ جنگی طیاروں کی سی پرواز سے آگے لے جائے گی خیر ملکی معیشت نے آگے کیا جانا تھا جو سیکٹر ریاست کو سب سے زیادہ ٹیکس اور محصولات دے رہے تھے انہیں قانون کے بے نام شکنجے میں ایسا کسا گیا کہ پاکستان کی معیشت کی چیخوں کی آواز ساتویں آسمان تک جا پہنچیں مگر ان تجربہ کار معیشت دانوں کے کان شاید بند تھے وہ سب اچھا کی رٹ لگاتے ہوئے بے خوف و خطر اپنی منصوبہ بندی پر کاربند رہے نتیجے کے طور پر پاکستان کی ہاؤسنگ سیکٹر آٹو موبائل سیکٹر سمال بزنسز کاٹن انڈسٹری سمیت یکے بعد دیگر متعدد بڑے کاروباری گروپ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئے متعدد کاروباری گروپس نے پاکستان میں جاری اپنے آپریشن بند کرکے اپنی بچی کچی سرمایہ کاری کو تحفظ دینے کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کیا مگر ہمارے حکمرانوں کے سینوں میں شاید رحم نام کی کوئی چیز نہیں انہوں نے اپنی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا کاروباری اور سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کی بجائے صرف آئی پی پیز کی سہولت کاری کی ملکی تاریخ میں اس وقت بجلی کی موجودہ قیمتیں دنیا بھر کو حیران و پریشان کردینے کے لیے ہی کافی ہیں انہی پالیسیوں کے تسلسل سے ملک کے اندر غربت بے روزگاری اور لاقانونیت ایک ایسے نکتے پر پہنچ چکی ہے جہاں سے آگے صرف مایوسی ہی دکھائی دیتی ہے اسی تناظر میں جب موجودہ صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومتی پالیسیوں سخت ٹیکس اقدامات اور غیر یقینی سیاسی ماحول نے ہاؤسنگ کے شعبے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اس کی بڑی مثال ملک بھر کے ڈی ایچ اے کی ہے جہاں پاکستانی عام عوام اور خصوصاً بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کا اعتماد اور توجہ ہمیشہ سے یہی ادارہ رہا ہے وہ بھی یکسر زبوں حالی کا منظر پیش کرنے لگا ملک بھر کے ڈی ایچ اے کے دفاتر میں جہاں ہر سو رش لگا رہتا اچانک ہو کا عالم والا خوفناک منظر پیش آنے لگا یہ سب اس وقت ہوا جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت قائم ہوئی اور اس کے بعد مسلم لیگ نون کی حکومت معرض وجود میں آئی تو ہاؤسنگ اور جائیداد کے شعبے پر ایسے اقدامات اور پابندیاں عائد کی گئیں جن کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں محدود ہوتی چلی گئیں اگر یہ کہا جائے کہ ہاؤسنگ سیکٹر کو ایک منظم اور مسلسل سخت پالیسی کے ذریعے کمزور کر دیا گیا تو شاید یہ بات حقیقت سے زیادہ دور نہیں ہوگی اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان صرف بڑے بلڈرز یا ہاؤسنگ منصوبوں کو نہیں ہوا بلکہ اس کا براہِ راست اثر عام آدمی پر بھی پڑا اسی تناظر میں ملک میں ہاؤسنگ شعبے کی انتہائی تشویش ناک صورتِ حال کے پیش نظر حالیہ بجٹ سے قبل ملک بھر کے ڈی ایچ اے کے بڑے کاروباری نمائندوں نے ڈی ایچ اے کی قیادت کو ایک تفصیلی تجویز پیش کی تھی جس میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ اگر حکومت بجٹ میں ہاؤسنگ شعبے کو کچھ ریلیف فراہم کرے ماضی میں عائد کی گئی غیر ضروری پابندیوں میں نرمی لائے اور بالخصوص بینکوں کے ذریعے لین دین پر عائد قدغنوں کو کم کرے تو اس شعبے کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا موقع مل سکتا ہے کیونکہ صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ دیگر شعبوں کی طرح ڈی ایچ اے سے وابستہ کاروباری سرگرمیاں بھی تقریباً بند ہونے کے قریب تھیں اسی پس منظر میں پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے بھی حکومت کو تجاویز دی گئیں اور اس امر پر زور دیا گیا کہ ہاؤسنگ شعبے کو مزید مشکلات سے دوچار کرنے کے بجائے اسے زندہ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں اور اس پر عائد پابندیوں اور قدغنوں میں مناسب نرمی کی جائے چنانچہ حالیہ بجٹ میں ہاؤسنگ شعبے پر عائد بعض ٹیکسوں میں ریلیف فراہم کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس شعبے نے کسی حد تک سکھ کا سانس لیا اور کاروباری سرگرمیوں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی اگر بروقت یہ اقدامات نہ کیے جاتے اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے اس اہم شعبے کی مشکلات کی طرف حکومت کی توجہ مبذول نہ کرائی جاتی تو خدشہ تھا کہ ہاؤسنگ شعبہ تقریباً مکمل طور پر مفلوج ہو جاتا، جس کے نتیجے میں ملکی معیشت کو مزید گہرے بحران کا سامنا کرنا پڑتا حقیقت یہ ہے کہ ہاؤسنگ شعبہ صرف تعمیرات تک محدود نہیں بلکہ اس سے وابستہ بے شمار صنعتیں کاروبار روزگار اور معاشی سرگرمیاں ملک کی مجموعی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اس لیے اس شعبے کو سہارا دینا دراصل ملکی معیشت کو سہارا دینے کے مترادف ہے۔
پاکستان میں عام شہری کے لیے گھر بنانا یا اپنی چھوٹی سی جائیداد خریدنا پہلے ہی ایک مشکل مرحلہ ہے جب ٹیکسوں دستاویزات بینکنگ لین دین اور مختلف سرکاری تقاضوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا جائے تو متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے اپنے گھر کا خواب مزید مشکل ہوجاتا ہے دوسری طرف بڑے تعمیراتی اداروں اور ہاؤسنگ منصوبوں کے لیے بھی سرمایہ کاری فروخت اور نئے منصوبے شروع کرنا مشکل ہوگیا ہاؤسنگ سیکٹر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اکیلا شعبہ نہیں بلکہ درجنوں صنعتوں اور کاروباروں کو اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ایک گھر کی تعمیر شروع ہوتی ہے تو اس کے ساتھ سیمنٹ، سریا، اینٹ، بجری، ریت، شیشہ، لکڑی، پینٹ، بجلی کا سامان، پلمبنگ، ٹائلیں، فرنیچر، الماریاں، دروازے، کھڑکیاں اور بے شمار دوسری اشیا کی طلب پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ معمار، انجینئر، مستری، مزدور، ٹرانسپورٹر، پراپرٹی ایجنٹ، قانونی ماہرین اور مختلف خدمات فراہم کرنے والے افراد بھی اسی معاشی سرگرمی سے روزگار حاصل کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہاؤسنگ سیکٹر کی سست روی کو صرف جائیداد کے کاروبار کی سست روی سمجھنا درست نہیں۔ جب نئے گھروں کی تعمیر کم ہوتی ہے تو سیمنٹ کی طلب متاثر ہوتی ہے، سریے کی کھپت کم ہوتی ہے اینٹوں کے بھٹوں کی پیداوار گھٹتی ہے بجلی کے آلات بنانے والی صنعتوں کے آرڈر کم ہوتے ہیں اور تعمیراتی مزدوروں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوجاتے ہیں اس طرح ایک شعبے پر دباؤ پورے معاشی نظام میں کئی گنا اثر پیدا کرتا ہے پاکستان جیسے ملک میں جہاں روزگار کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں تعمیراتی سرگرمی کا کم ہونا ایک سنگین مسئلہ ہے تعمیرات ایسا شعبہ ہے جو نسبتاً کم تعلیم یافتہ اور ہنرمند دونوں طرح کے لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے ایک تعمیراتی منصوبہ بند ہوتا ہے تو صرف ایک کمپنی متاثر نہیں ہوتی بلکہ اس سے وابستہ مزدور چھوٹے ٹھیکیدار سامان فراہم کرنے والے، ٹرانسپورٹر اور دکاندار بھی متاثر ہوتے ہیں نتیجتاً مقامی سطح پر خریداری کم ہوتی ہے کاروبار کا حجم گھٹتا ہے اور بالآخر حکومت کو بھی مختلف مدوں میں کم محصولات حاصل ہوتے ہیں یہاں حکومت کو اپنی پالیسیوں کا ایک بنیادی معاشی جائزہ لینے کی ضرورت ہے اگر کسی شعبے پر ٹیکس اور ضابطوں کا بوجھ اتنا بڑھا دیا جائے کہ اس شعبے میں کاروباری سرگرمی ہی کم ہوجائے تو حکومت کو مطلوبہ اضافی محصولات حاصل نہیں ہوتے اس کے برعکس کاروبار بڑھنے کی صورت میں نسبتاً مناسب شرحوں پر بھی مجموعی محصولات زیادہ حاصل کیے جاسکتے ہیں ہاؤسنگ سیکٹر کے ساتھ وفاقی محصولات کے ادارے کے طرزِ عمل نے بھی کاروباری طبقے میں تشویش پیدا کی ہے ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی یقیناً ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن کارروائی کا طریقہ بھی اتنا ہی اہم ہے اگر کسی بڑے کاروباری ادارے یا ہاؤسنگ منصوبے کے دفاتر پر چھاپے مارے جائیں ریکارڈ قبضے میں لیا جائے اور کاروباری حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہو کہ کسی بھی وقت سخت کارروائی ہوسکتی ہے تو اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہونا فطری بات ہے یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ٹیکس چوری یا غیر قانونی مالی سرگرمی کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے ایسا کہنا درست نہیں ہوگا ریاست کو قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مکمل حق حاصل ہے لیکن جو ادارے قانونی طریقے سے کام کر رہے ہوں ٹیکس ادا کر رہے ہوں اور شہریوں کو رہائش فراہم کر رہے ہوں ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار ہونا چاہیے جس میں قانون کے ساتھ ساتھ کاروباری اعتماد بھی برقرار رہے
وفاقی محصولات کے ادارے اور کاروباری طبقے کے درمیان تعلق محض افسر اور ٹیکس دہندہ کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ریاست اور شہری کی شراکت داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اگر ایک کاروباری شخص کو معلوم ہو کہ ٹیکس قوانین واضح ہیں اس کے سوال کا جواب ملے گا اس کے جائز کاروباری لین دین کو بلاوجہ مشکوک نہیں سمجھا جائے گا اور کسی بھی کارروائی سے پہلے شفاف قانونی طریقہ اختیار کیا جائے گا تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنے کاروبار کو وسعت دے گا پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اعتماد بحال کرنے کی ہے ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے کو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں سرمایہ کار کو یہ یقین ہو کہ اس کی سرمایہ کاری اچانک کسی نئی پابندی یا غیر واضح پالیسی کی وجہ سے منجمد نہیں ہوجائے گی پالیسی میں استحکام سرمایہ کاری کے لیے بنیادی شرط ہے اسی طرح بینکنگ نظام کو بھی ہاؤسنگ سیکٹر کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا بینک کے ذریعے لین دین کو دستاویزی بنانا اور مالی نظام میں شفافیت پیدا کرنا اپنی جگہ ایک درست مقصد ہے لیکن اگر بینکنگ لین دین اس قدر پیچیدہ کردیا جائے کہ عام شہری اپنی جائز رقم منتقل کرنے یا گھر خریدنے کے عمل میں مشکلات محسوس کرے تو اس کا نقصان پوری معیشت کو ہوتا ہے حکومت کو ایسا نظام بنانا چاہیے جس میں جائز اور دستاویزی لین دین آسان، تیز اور قابلِ فہم ہو عام شہری کے لیے بھی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دستاویزی معیشت دراصل اسی کے مفاد میں ہے لیکن دستاویز بندی اور ٹیکس نظام کا مقصد شہری کو خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ اسے قانونی تحفظ دینا ہونا چاہیے اگر ایک شہری اپنی آمدنی بچت اور جائیداد کے معاملات قانون کے مطابق ظاہر کرتا ہے تو ریاست کو اسے سہولت دینی چاہیے نہ کہ ہر مرحلے پر غیر ضروری پیچیدگی کا سامنا کرانا چاہیے
حکومت کو ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے ایک جامع اور طویل المدتی پالیسی تشکیل دینی چاہیے اس پالیسی میں ٹیکس کی شرحوں جائیداد کی قدر بندی رجسٹریشن بینکنگ تعمیراتی اجازت ناموں اور ٹیکس گوشواروں کے معاملات کو آسان اور باہم مربوط کیا جائے ایک ہی معلومات مختلف سرکاری اداروں سے بار بار طلب کرنے کے بجائے ایک مربوط نظام بنایا جائے تاکہ شہری اور کاروباری ادارے غیر ضروری کاغذی کارروائی سے بچ سکیں اسی طرح وفاقی محصولات کے ادارے کو بھی اپنے اندر ایک ایسا شعبہ مضبوط کرنا چاہیے جو بڑے تعمیراتی اور ہاؤسنگ منصوبوں کے ساتھ مشاورتی انداز میں کام کرے اگر کسی منصوبے میں ٹیکس سے متعلق مسئلہ ہو تو پہلے وضاحت اور اصلاح کا موقع دیا جائے اور سنگین خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اس سے ریاست کو محصولات بھی حاصل ہوں گے اور کاروباری ماحول بھی خراب نہیں ہوگا۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ ہاؤسنگ سیکٹر میں بے ضابطگیاں اور غیر قانونی منصوبے موجود رہے ہیں ایسے منصوبوں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے کیونکہ عوام کی جمع پونجی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن چند غیر قانونی منصوبوں کی وجہ سے پورے شعبے کو مشکوک سمجھنا بھی درست پالیسی نہیں قانونی اور غیر قانونی کاروبار کے درمیان واضح فرق کرنا ہوگا پاکستان کی معیشت کو اس وقت نئے کاروبار نئی تعمیرات نئی سرمایہ کاری اور نئے روزگار کی ضرورت ہے اگر حکومت واقعی محصولات بڑھانا چاہتی ہے تو اسے ایسے شعبوں کو متحرک کرنا ہوگا جہاں سرمایہ کاری کا وسیع اثر پیدا ہوتا ہے ہاؤسنگ اور تعمیرات ایسا ہی ایک شعبہ ہے
ایک گھر کی تعمیر سے حکومت کو صرف ایک مرتبہ ٹیکس نہیں ملتا تعمیراتی سامان کی خرید، نقل و حمل، مزدوروں کی اجرت، خدمات، بجلی کے آلات، فرنیچر اور جائیداد کی منتقلی سمیت کئی مراحل پر معاشی سرگرمی پیدا ہوتی ہے اگر حکومت اس پوری معاشی زنجیر کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوجائے تو محصولات میں اضافہ صرف جائیداد کے ٹیکس تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وسیع تر معیشت سے حاصل ہوگا اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ حکومت ہاؤسنگ سیکٹر کو مسئلہ سمجھنے کے بجائے معاشی حل کا حصہ سمجھے۔ ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی اپنی جگہ جاری رہنی چاہیے مگر قانونی کاروبار کو سہولت دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے وفاقی محصولات کے ادارے کو خوف کی فضا کے بجائے اعتماد کی فضا قائم کرنی ہوگی اور حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جن سے سرمایہ کار کو یہ یقین ہو کہ پاکستان میں کاروبار کرنا قابلِ عمل اور محفوظ ہے پاکستان کا معاشی پہیہ اس وقت کئی وجوہات کی بنا پر سست ہے لیکن اگر ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے کو دوبارہ متحرک کردیا جائے تو اس کے اثرات معیشت کے متعدد شعبوں تک پہنچ سکتے ہیں سیمنٹ کی صنعت چلے گی سریے کی طلب بڑھے گی اینٹوں کے بھٹے فعال ہوں گے بجلی کے آلات کی صنعت کو کام ملے گا ٹرانسپورٹ میں اضافہ ہوگا مزدوروں کو روزگار ملے گا اور چھوٹے کاروباروں میں خرید و فروخت بڑھے گی حکومت اور وفاقی محصولات کے ادارے کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کاروبار کو مزید محدود کرکے محصولات حاصل کرنا چاہتے ہیں یا کاروبار کو وسعت دے کر محصولات کا دائرہ بڑھانا چاہتے ہیں ایک مضبوط معیشت وہ ہوتی ہے جہاں حکومت اور کاروباری طبقہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہوں
ہاؤسنگ سیکٹر کو دوبارہ کھڑا کرنا صرف بلڈرز کا مسئلہ نہیں یہ پاکستان کی معیشت روزگار صنعت اور محصولات کا مسئلہ ہے اگر حکومت ٹیکس وصولی بڑھانا چاہتی ہے تو اسے ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے کے لیے خوف نہیں، اعتماد پابندیاں نہیں واضح ضابطے اور غیر یقینی نہیں مستقل معاشی پالیسی فراہم کرنا ہوگی یہی وہ راستہ ہے جس سے پاکستان کی معیشت کا رکا ہوا پہیہ دوبارہ رفتار پکڑ سکتا ہے۔



