جکارتہ (شِنہوا) جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) نے اپنی 59ویں سالگرہ منائی اور اس بات پر زور دیا کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی، اقتصادی اور سماجی چیلنجز کے درمیان اس علاقائی تنظیم کو اپنے عوام، بالخصوص نوجوانوں کے لئے متعلقہ اور موثر رکھنا ضروری ہے۔
آسیان کے سیکرٹری جنرل کاؤ کِم ہورن نے کہا کہ خطے کا مستقبل جزوی طور پر اس بات پر منحصر ہوگا کہ نوجوان نسل آسیان کو کس حد تک ایک ایسی مفید تنظیم سمجھتی ہے جو ان کی روزمرہ زندگی میں مواقع پیدا کرتی ہے۔
کاؤ نے ہفتے کو جکارتہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب نوجوانوں کے لئے پورے خطے میں سیکھنے، کام کرنے، جدت طرازی اور باہمی تعاون کے مواقع کو مسلسل وسعت دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب نوجوانوں کے لئے اپنی تجاویز پیش کرنے، شراکت داریاں قائم کرنے اور ان معاملات کے حل تشکیل دینے کے لئے مزید مواقع پیدا کرنا بھی ہے جو ان کے لئے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، جن میں تعلیم سے پائیداری، روزگار سے کاروباری سرگرمیوں اور ڈیجیٹل تبدیلی سے کمیونٹی کی ترقی تک کے شعبے شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آسیان کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کا مستقبل اس نسل کی فعال شرکت اور کردار کے ساتھ تشکیل پائے جو آگے چل کر اس کی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے کہا کہ علاقائی تنظیم کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس کا تعاون عوام کے لئے ٹھوس فوائد کا باعث بنے، بالخصوص ایسے وقت میں جب تنازعات، تزویراتی مسابقت اور تقسیم عالمی ماحول کو نئی شکل دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آسیان کو نوجوانوں کو ایسی تعلیم، مہارتیں اور اعتماد فراہم کرنا چاہیے جو انہیں خطے کو اس کے اگلے دور میں قیادت کرنے کے قابل بنائیں۔
آسیان کی 59ویں سالگرہ، نوجوانوں کے لئے وسیع مواقع فراہم کرنے کی سفارش



