ہزاروں خواہشیں ایسی، ہر خواہش پہ دم نکلے: اقتدار کی آخری سیڑھی اور نواز شریف

تاثرات: مظہر طفیل

سیاست ایک دریا بھی ہے، ایک صحرا بھی، ایک آئینہ بھی اور ایک سراب بھی۔ اس دریا میں کچھ لوگ عوام کی خدمت کا چراغ لے کر اترتے ہیں، کچھ اقتدار کی کشتی میں سوار ہوتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کنارے تک پہنچنے کے بعد بھی دوبارہ لہروں میں اترنے کی آرزو نہیں چھوڑتے۔ اقتدار ایک ایسی شمع ہے جس کی روشنی دور سے بہت دلکش دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے گرد گردش کرنے والے پروانوں کی داستان ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کوئی اس روشنی سے قوم کا راستہ منور کرتا ہے اور کوئی اسی روشنی میں اپنی خواہشوں کے سائے تلاش کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے اوراق بار بار انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اقتدار منزل نہیں بلکہ امتحان ہے، مگر افسوس کہ بہت سے سیاست دان اسے امتحان کے بجائے اپنی دائمی میراث سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مرزا غالب نے شاید انسانی خواہشات کی اسی بے قراری کو محسوس کرتے ہوئے کہا تھا: “ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔” یہ شعر صرف عشق کی کیفیت بیان نہیں کرتا بلکہ اقتدار کی نفسیات کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ خواہش جب ضرورت سے آگے بڑھ جائے تو وہ انسان کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ پھر تخت بدلتے رہتے ہیں، زمانے بدلتے رہتے ہیں، چہرے بدلتے رہتے ہیں، مگر خواہش کا چراغ بجھنے کا نام نہیں لیتا۔ پاکستان کی سیاست میں بھی اقتدار کی اس طویل داستان کے کئی کردار ہیں۔ ان میں میاں محمد نواز شریف ایک اہم نام ہیں۔ تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہنے کے بعد بھی جب آزاد جموں و کشمیر کے ایک انتخابی جلسے میں انہوں نے یہ کہا کہ اگر ان کی جماعت کامیاب ہوئی تو ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم بن جائیں، تو اس ایک جملے نے سیاست کے کئی دریچے کھول دیے۔ کچھ لوگوں نے اسے انتخابی اندازِ گفتگو قرار دیا، کچھ نے مزاح سمجھا، لیکن میں اسے اقتدار سے مسلسل وابستگی کی علامت کے طور پر دیکھ رہا ہوں۔ یہ سوال کسی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ پوری سیاسی ثقافت کا ہے کہ اقتدار کی آخری سیڑھی آخر کہاں ختم ہوتی ہے؟ کیا تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کافی نہیں؟ کیا تاریخ میں نام لکھوانا کافی نہیں؟ کیا سیاسی تجربے کی معراج کے بعد بھی انسان کے دل میں ایک اور تخت، ایک اور کرسی، ایک اور منصب کی خواہش باقی رہتی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر مسئلہ صرف فرد کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہے جو اقتدار کو خدمت کے بجائے منزل سمجھ لیتی ہے۔ اقتدار ایک سایہ بھی ہے۔ سورج ڈھلتے ہی سایہ بھی سمٹ جاتا ہے، مگر بعض لوگ سائے کو حقیقت سمجھ کر اس کے تعاقب میں پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ وقت کا سورج کسی ایک افق پر ہمیشہ نہیں ٹھہرتا۔ تاریخ کے ایوانوں میں ایسے بے شمار فرمانروا گزرے جن کے نام سے سلطنتیں لرزتی تھیں، مگر آج ان کے محلات کھنڈرات ہیں اور ان کے تخت گرد آلود داستانوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں بھی بعض شخصیات ایسی رہی ہیں جن کی پوری سیاسی زندگی اقتدار کے گرد گھومتی رہی، جن کے بیانیے، جدوجہد، احتجاج، مفاہمت، اختلاف، مصالحت اور سیاسی فیصلوں کا محور اقتدار کا حصول رہا۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھی ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں تک ملکی سیاست پر اثر ڈالا، تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے، اپوزیشن کی سیاست بھی کی، جلاوطنی بھی دیکھی، نااہلی کا سامنا بھی کیا، اور دوبارہ اقتدار میں واپسی بھی کی، مگر اس تمام سیاسی سفر کے باوجود ان کی حالیہ تقریر نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا کہ کیا اقتدار کی خواہش کی کوئی انتہا بھی ہوتی ہے؟ سیاست میں کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں کہ انسان کتنی بار اقتدار میں آیا بلکہ یہ ہے کہ وہ اقتدار سے رخصت ہوتے وقت اپنے پیچھے کیسا نظام چھوڑ کر گیا۔ قومیں اس بات سے کم متاثر ہوتی ہیں کہ کسی نے کتنی مرتبہ حکومت کی، وہ زیادہ اس بات کو یاد رکھتی ہیں کہ اس نے انصاف کتنا دیا، ادارے کتنے مضبوط کیے، معیشت کو کتنا مستحکم کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے کون سی بنیادیں چھوڑیں۔ سیاسی زندگی میں ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب رہنما خود چراغ بننے کے بجائے دوسروں کے ہاتھ میں چراغ تھما دیتا ہے۔ یہی قیادت کا حسن ہے۔ درخت کی عظمت اس کے قد سے نہیں بلکہ اس سائے سے ناپی جاتی ہے جو وہ دوسروں کو دیتا ہے۔ اگر ہر موسم میں درخت صرف اپنی ہی شاخوں کو بڑھانے میں لگا رہے تو نئی کونپلیں کب جنم لیں گی؟ پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی رہا ہے کہ یہاں اکثر جماعتیں نظریات سے زیادہ شخصیات کے گرد گھومتی رہی ہیں۔ شخصیت مضبوط ہو تو جماعت بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے، شخصیت کمزور پڑ جائے تو پوری جماعت بے سمت محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کی منتقلی کا عمل ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ نئی نسل کو آگے لانے کے بجائے پرانے چہرے ہی ہر انتخاب، ہر جلسے اور ہر سیاسی منظرنامے پر نمایاں رہتے ہیں۔ اقتدار ایک قافلہ بھی ہے۔ اس قافلے میں ہر مسافر ہمیشہ نہیں رہتا۔ کچھ لوگ راستے میں اتر جاتے ہیں، کچھ منزل تک پہنچتے ہیں اور کچھ منزل پر پہنچ کر بھی اگلی منزل کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں، مگر تاریخ انہی مسافروں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے سفر کو آسان بنایا، نہ کہ صرف اپنی سواری کو محفوظ رکھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سیاست دان کو آئین اور قانون کے مطابق انتخاب لڑنے اور عوام سے مینڈیٹ حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ خواہ وہ پاکستان کا انتخاب ہو یا آزاد کشمیر کا، جمہوریت اسی حق کا نام ہے۔ مگر جمہوریت کا حسن صرف انتخاب لڑنے میں نہیں بلکہ سیاسی بلوغت میں بھی ہے۔ بلوغت یہ سکھاتی ہے کہ ہر منصب پر خود بیٹھنے کے بجائے کبھی دوسروں کو بھی آگے آنے دیا جائے، کیونکہ ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں اور نظام شخصیات سے زیادہ دیرپا۔ آئینہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ اگر سیاست دان آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے سفر کا جائزہ لیں تو شاید انہیں محسوس ہو کہ اقتدار کی اصل خوبصورتی اس کے حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اس سے باوقار انداز میں رخصت ہونے میں ہے۔ دنیا کے کئی عظیم رہنما اقتدار چھوڑنے کے بعد مزید عظیم ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنی ذات سے زیادہ جمہوری روایت کو اہمیت دی۔ انہوں نے تاریخ سے یہ نہیں پوچھا کہ “مجھے کیوں نکالا؟” بلکہ تاریخ نے خود ان کے احترام میں صفحات روشن کیے۔ شمع کی اصل عظمت جلنے میں ہے، ہمیشہ جلتے رہنے کی خواہش میں نہیں۔ پروانہ اگر صرف روشنی کا اسیر بن جائے تو انجام سب جانتے ہیں۔ سیاست بھی ایسی ہی شمع ہے۔ جو اسے قوم کے لیے روشن رکھتا ہے، وہ امر ہو جاتا ہے، اور جو صرف اپنے گرد اس کی روشنی سمیٹنا چاہتا ہے، وہ آخرکار اسی روشنی کے حصار میں تنہا رہ جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کے جلسے میں ادا کیا گیا ایک جملہ شاید وقتی سیاسی ماحول کا حصہ ہو، مگر اس نے ایک دائمی سوال ضرور چھوڑ دیا ہے کہ اقتدار کی آخری سیڑھی کہاں ہے؟ کیا اس کی کوئی حد بھی ہے یا خواہش کا یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا؟ یہی وہ سوال ہے جس پر ہر سیاست دان کو کبھی نہ کبھی ضرور غور کرنا چاہیے۔

غالب کا شعر آج بھی اسی شدت سے گونجتا ہے:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے۔

شاید اقتدار بھی انہی خواہشوں میں سے ایک خواہش ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اقتدار کو قوم کی خدمت کا وسیلہ بناتے ہیں اور کچھ اقتدار کو اپنی خواہشات کی تکمیل کا آخری زینہ سمجھ لیتے ہیں۔ مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ تخت ہمیشہ باقی نہیں رہتے، تاج ہمیشہ سروں پر نہیں سجے رہتے، قافلے آگے بڑھ جاتے ہیں، مسافر بدل جاتے ہیں، سائے ڈھل جاتے ہیں، آئینے نئے چہرے دکھانے لگتے ہیں، لیکن قومیں انہی لوگوں کو دیر تک یاد رکھتی ہیں جنہوں نے کرسی سے زیادہ کردار کو، اقتدار سے زیادہ اصول کو اور اپنی ذات سے زیادہ ریاست کو اہمیت دی۔



  تازہ ترین   
بلوچستان:سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 10 دہشتگرد ہلاک، 2 خواتین خودکش حملہ آور گرفتار
پاکستان جدید ٹیکنالوجی میں صفِ اول کی قوم بننے کی جانب گامزن ہے: شہباز شریف
ایران کے ہر حملے کے جواب میں ایک پل یا بجلی گھر تباہ کیا جائیگا: ٹرمپ
حوثیوں کی سعودیہ کو دھمکیاں قابل مذمت، تجارت کو نشانہ بنانا قومی سلامتی پر حملہ تصور ہوگا: پاکستان
ایس اینڈ پی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ ’منفی بی‘ سے ’بی‘ کر دی
ایران کا خطے میں امریکی اڈوں پر تابڑ توڑ حملوں، ریڈار سسٹم تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکا کے مسلسل گیارہویں رات ایران پر شدید حملے، تبریز اور سیریک میں دھماکے
ٹرمپ نے سعودی عرب کیساتھ سول جوہری معاہدے کی منظوری دیدی: امریکی اخبار





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر