تاثرات: مظہر طفیل
قومیں صرف اپنی معیشت، سیاست یا ترقی سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ ان کی اصل شناخت ان کی سرحدیں، ان کا پرچم، ان کی خودمختاری اور ان کے وہ بیٹے ہوتے ہیں جو وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ دنیا کی ہر مہذب ریاست میں شہداء کو اختلافات سے بالاتر مقام حاصل ہوتا ہے، کیونکہ شہید کسی حکومت، جماعت یا شخصیت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا سرمایہ ہوتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سیاسی کشمکش نے اس حد تک شدت اختیار کر لی ہے کہ بعض اوقات ایسے بیانات بھی سامنے آ جاتے ہیں جو شہداء کے اہلِ خانہ، سرحدوں پر فرائض انجام دینے والے جوانوں اور پوری قوم کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مولانا فضل الرحمٰن کے بیان نے بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، اور اگر اس بیان کو قومی مفاد، شہداء کے احترام اور موجودہ سلامتی کی صورتِ حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس پر سنجیدہ اور دوٹوک تنقید ناگزیر محسوس ہوتی ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، حکومتوں پر تنقید ہر شہری اور ہر سیاسی رہنما کا حق ہے، ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھانا بھی جمہوری روایت کا حصہ ہے، لیکن ایک لکیر ایسی بھی ہے جس کے بعد اختلاف، اختلاف نہیں رہتا بلکہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتا ہے۔ جب کوئی سیاسی یا مذہبی رہنما ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جنہیں عوام کی ایک بڑی تعداد شہداء کی قربانیوں کے منافی یا ان کی دل آزاری کا باعث سمجھتی ہے تو یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں رہتا بلکہ قومی احساسات سے جڑا معاملہ بن جاتا ہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل، صبر آزما اور خونچکاں جدوجہد سے گزر رہا ہے۔ اس جنگ میں صرف فوج نے ہی نہیں بلکہ پولیس، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں، قبائلی عمائدین، اساتذہ، علما، صحافیوں اور عام شہریوں نے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہزاروں خاندان آج بھی اپنے پیاروں کی یاد میں زندہ ہیں۔ کتنے ہی بچے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے والد کو صرف تصویروں میں دیکھا، کتنی ہی مائیں آج بھی اپنے شہید بیٹوں کی قبروں پر دعائیں کرتی ہیں، کتنی ہی بیوائیں اپنے شوہروں کی قربانی کو اپنا سرمایہ سمجھتی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر شہداء کے بارے میں غیر محتاط زبان استعمال کی جائے تو اس کے اثرات محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی بھی ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج پر تنقید پہلے بھی ہوتی رہی ہے اور آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے عسکری قیادت پر اعتراضات کیے، بعض فیصلوں پر اختلاف کیا اور بعض پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنایا، لیکن ایک مہذب معاشرے میں اداروں کی کارکردگی پر تنقید اور وطن کے لیے جان دینے والوں کے احترام کے درمیان فرق کو ہمیشہ برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہی فرق قومی بلوغت کی علامت ہوتا ہے۔ آج بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ آئے روز سیکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ ایسے وقت میں قومی قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے قوم کو جوڑنے کا کردار ادا کرے۔ جو شخص لاکھوں لوگوں سے مخاطب ہوتا ہے، اس کے الفاظ صرف الفاظ نہیں رہتے بلکہ وہ قومی فضا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں پر یہ ذمہ داری دوسروں سے کہیں زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی گفتگو میں احتیاط، توازن اور قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قیمت ادا کی۔ اس جنگ نے نہ صرف ہزاروں قیمتی جانیں لیں بلکہ معیشت، تعلیم، سرمایہ کاری اور سماجی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ دنیا نے بھی متعدد مواقع پر پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا۔ ایسے میں اگر ملک کے اندر ہی شہداء کی قربانیوں کے حوالے سے ایسی بحث پیدا ہو جائے جو قومی تقسیم کا باعث بنے تو اس سے فائدہ کسی پاکستانی کو نہیں بلکہ صرف ان عناصر کو پہنچتا ہے جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ذمہ دارانہ قیادت کی ہے۔ قیادت کا اصل امتحان جلسوں میں نعرے لگوانا نہیں بلکہ مشکل حالات میں قوم کو متحد رکھنا ہے۔ جو رہنما اپنے کارکنوں کے جذبات کو بھڑکانے کے بجائے انہیں تحمل، برداشت اور قومی مفاد کا درس دیتا ہے، وہی حقیقی قومی رہنما کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہماری سیاست میں اکثر اوقات جذبات کو عقل پر ترجیح دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ قومی تقسیم کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ شہداء کی قربانیوں کا احترام کسی جماعت پر احسان نہیں بلکہ آئینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آج کو قوم کے کل پر قربان کیا۔ ان کے خون کی حرمت پر سیاست کی گرد نہیں پڑنی چاہیے۔ سیاسی اختلافات کل بھی تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے، لیکن شہداء کی عزت اور وطن کے دفاع کا جذبہ ہمیشہ اختلافات سے بالاتر رہنا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم متحد ہوئی، بڑے سے بڑا بحران شکست کھا گیا، اور جب بھی سیاسی قیادت نے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی، نقصان پورے ملک نے اٹھایا۔ آج بھی یہی سبق ہمارے سامنے ہے۔ اگر سیاست دان، مذہبی رہنما، دانشور اور ذرائع ابلاغ قومی ذمہ داری کا احساس کریں، اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کریں اور اپنے الفاظ کی طاقت کو سمجھیں تو پاکستان کو درپیش بہت سے داخلی چیلنج کم کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس کی جغرافیائی اہمیت، حساس محلِ وقوع اور پیچیدہ علاقائی حالات اسے مسلسل غیر معمولی سلامتی کے چیلنجوں سے دوچار رکھتے ہیں۔ مشرقی سرحد پر روایتی دفاعی خطرات ہوں یا مغربی سرحد پر دہشت گردی، انتہاپسندی، سرحد پار دراندازی اور ریاست مخالف عناصر کی کارروائیاں، پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے ایک ایسی طویل، کٹھن اور خونچکاں جدوجہد سے گزر رہا ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اس جنگ کی قیمت صرف ریاستی وسائل سے ادا نہیں کی گئی بلکہ ہزاروں فوجی افسران، جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور بے شمار معصوم شہریوں نے اپنے خون سے وطن کے امن کی بنیادیں مضبوط کیں۔ انہی قربانیوں کے باعث آج پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور ریاستی وجود کا دفاع کرنے کے قابل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہداء کی عظمت اور ان کی قربانیوں کا احترام کسی سیاسی جماعت، حکومت یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ قومی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ اس قومی تناظر میں ذرائع ابلاغ کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ صحافت کا بنیادی مقصد محض خبر دینا نہیں بلکہ حقائق کی تلاش، عوامی شعور کی آبیاری، احتساب کو فروغ دینا اور قومی مکالمے کو ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ ایک ذمہ دار صحافت نہ تو سنسنی خیزی کو فروغ دیتی ہے، نہ اشتعال انگیزی کو، اور نہ ہی غیر مصدقہ معلومات کو عوامی رائے بنانے کا ذریعہ بناتی ہے۔ اس کا اصل منصب یہ ہے کہ اختلافِ رائے کو شائستگی، دلیل اور قومی مفاد کے دائرے میں رکھتے ہوئے ایسے بیانیے کو فروغ دیا جائے جو معاشرے میں اعتماد، برداشت، استحکام اور قومی ہم آہنگی پیدا کرے۔ یہی ذمہ داری سیاسی قائدین، مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور رائے ساز شخصیات پر بھی عائد ہوتی ہے، کیونکہ ان کے الفاظ محض ان کے کارکنوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری قوم کے اجتماعی شعور، جذبات اور رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی زبان میں احتیاط، توازن اور قومی ذمہ داری کا احساس ہر حال میں نمایاں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں عروج و زوال سے گزرتی رہتی ہیں اور شخصیات وقت کے ساتھ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں، لیکن ریاست، اس کے آئینی ادارے، اس کی خودمختاری اور اس کے شہداء ہمیشہ قوم کا مشترکہ سرمایہ اور اجتماعی افتخار رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ذی شعور سیاسی اور سماجی قوت پر لازم ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو قومی مفاد کے دائرے میں رکھے، تنقید کو تہذیب، دلیل اور شائستگی کے ساتھ پیش کرے اور ایسے بیانات یا طرزِ عمل سے مکمل اجتناب کرے جو قومی یکجہتی کو کمزور کرے، سرحدوں پر فرائض انجام دینے والے جوانوں کے حوصلوں کو متاثر کرے یا ان خاندانوں کے زخم تازہ کرے جنہوں نے وطن کی سلامتی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اپنے پیاروں کی لازوال قربانیاں پیش کیں۔ زندہ قومیں اپنے شہداء کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، بلکہ انہی کی قربانیوں کو اپنی قومی وحدت، استحکام اور مستقبل کی مضبوط بنیاد بناتی ہیں۔ آخر میں سوال صرف مولانا فضل الرحمٰن یا کسی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ہماری مجموعی سیاسی روایت کا ہے۔ کیا ہم ایک ایسی سیاست چاہتے ہیں جو قوم کو تقسیم کرے، یا ایسی قیادت جو شہداء کے احترام، قومی سلامتی اور قومی یکجہتی کو اپنی اولین ترجیح بنائے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب پاکستان کے ہر صاحبِ شعور شہری، ہر سیاسی جماعت اور ہر قومی رہنما کو اپنے ضمیر میں تلاش کرنا ہوگا۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے، لیکن قومی سلامتی، شہداء کی حرمت اور ریاست کے استحکام کو اختلافات کی نذر کرنا نہ جمہوریت ہے، نہ سیاست، اور نہ ہی قومی خدمت۔ آج کا تقاضا یہی ہے کہ سیاسی قیادت اپنی زبان، اپنے لہجے اور اپنے طرزِ عمل میں ایسی سنجیدگی پیدا کرے جو قوم کو جوڑے، شہداء کے اہلِ خانہ کے زخموں پر مرہم رکھے اور دنیا کو یہ پیغام دے کہ پاکستان اپنے اختلافات کے باوجود اپنے محافظوں کی قربانیوں پر یک زبان اور متحد ہے۔



