ادیس ابابا (شِنہوا) افریقہ کے بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے مراکز (افریقہ سی ڈی سی) نے بنڈی بگیو اییبولا وائرس کے جاری پھیلاؤ سے نمٹنے کے لئے چین کی جانب سے افریقہ کے ساتھ اظہار یکجہتی اور تعاون کو سراہاہے۔
یہ بات ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں قائم افریقہ سی ڈی سی کے صدر دفتر میں افریقہ سی ڈی سی کے ڈائریکٹر جنرل جین کاسیا نے افریقی یونین (اے یو) کے لئے چینی مشن کے سربراہ جیانگ فینگ سے ملاقات کے بعد کہی۔
ملاقات کے دوران دونوں حکام نے ایک حوالگی سرٹیفکیٹ پر دستخط کئے جس کے تحت چینی حکومت نے ایبولا سے نمٹنے کے لئے مزید 25 لاکھ امریکی ڈالر کی ہنگامی امداد فراہم کی۔ کاسیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس کے بعد افریقہ کے لئے چین کی براہ راست امداد مجموعی طور پر45 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
جیانگ فینگ نے کہا کہ چین اور افریقہ اچھے دوست، قابل اعتماد شراکت دار اور اچھے بھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایبولا کے پھیلاؤ کے آغاز سے ہی چینی حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور افریقہ کی وباء سے نمٹنے کی کوششوں کو بہت اہمیت دے رہی ہے۔
کاسیا نے کہا کہ آج افریقہ کو یکجہتی کے مضبوط اظہار کا عملی ثبوت ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امداد صف اول کی کارروائیوں کو مضبوط بنانے، طبی عملے اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو تیز کرنے میں مدد دے گی۔
افریقہ سی ڈی سی کی جانب سے کاسیا نے اس نازک وقت میں افریقہ کے ساتھ کھڑے ہونے پر چینی حکومت اور عوام کا دلی شکریہ ادا کیا۔
جون کے آخر میں چین نے افریقہ میں ایبولا سے نمٹنے کے لئے 20 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد بھی فراہم کی تھی۔
اس کے علاوہ رواں ماہ کے آغاز میں وبا کی روک تھام کے چینی طبی ماہرین کی دوسری ٹیم جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کے دارالحکومت کنشاسا پہنچی تاکہ ایبولا کی روک تھام اور کنٹرول کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ ٹیم وبائی امراض کی تحقیق، لیبارٹری ٹیسٹنگ، مریضوں کے علاج، انفیکشن کی روک تھام اور کنٹرول اور طبی عملے کی تربیت کے شعبوں میں تکنیکی معاونت اور تجربات کے تبادلے کا کام کرے گی، جس سے جمہوریہ کانگو کی وبا کی روک تھام، کنٹرول اور علاج کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں چینی مہارت سے فائدہ پہنچے گا۔
افریقہ کی ایبولا سے نمٹنے کی کوششوں میں تعاون پر چین کی ستائش



