شنگھائی (شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے لئے چین کی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا۔ گوتریس شنگھائی میں 2026 کی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور مصنوعی ذہانت کی عالمی گورننس سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کے لئے آئے ہیں۔
شی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے طور پر گزشتہ 10 برس کے دوران انتونیو گوتریس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی قیادت کرتے ہوئے کثیرالجہتی نظام کے مضبوط دفاع، موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے، مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں میں عالمی نظم و نسق کو فروغ دینے اور اقوام متحدہ میں اصلاحاتی عمل کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
شی نے کہا کہ رواں سال اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نشست کی بحالی کی 55 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سے چین عالمی امن کے قیام، عالمی ترقی میں کردار ادا کرنے، بین الاقوامی نظام کے دفاع اور اقوام متحدہ کی مضبوط حمایت کے لئے مسلسل پرعزم رہا ہے۔
شی نے مزید کہا کہ انسانیت کے لئے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کے تصور اور 4 عالمی اقدامات پیش کرنے کے پیچھے ایک اہم مقصد اقوام متحدہ کی حیثیت اور اختیار کو برقرار رکھنا تھا۔
شی نے کہا کہ اس وقت عالمی صورتحال میں تبدیلیوں اور بے یقینی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث حقیقی کثیرالجہتی طرزِ عمل پر عمل کرنا اور اقوام متحدہ کی حیثیت اور کردار کو مزید موثر بنانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
چینی صدر کی گوتریس سے ملاقات، اقوام متحدہ کے لئے مضبوط حمایت کا اظہار



