شنگھائی (شِنہوا) شنگھائی میں 2026 کی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور مصنوعی ذہانت کی عالمی گورننس سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بین الاقوامی اخلاقیاتی نظم و نسق سے متعلق ایک ایکشن پلان جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ رہنمائی میں جاری کیا گیا۔
عالمی مفادِ عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ منصوبہ اقوام متحدہ کے “پیکٹ فار دی فیوچر” اور اس سے منسلک گلوبل ڈیجیٹل کمپیکٹ کے فریم ورک کے تحت تیار کیا گیا ہے۔
منصوبے میں مختلف ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے قومی حالات کے مطابق مصنوعی ذہانت کے پورے لائف سائیکل میں اخلاقیاتی نظم و نسق، درجہ بندی اور سطح بندی کی بنیاد پر خطرات کی روک تھام اور ان پر قابو پانے، موثر اور لچکدار گورننس کے نظام کی تشکیل، صنعتی سپلائی چین میں باہمی تعاون پر مبنی نظام کے فروغ اور ایک سازگار سماجی ماحول کی تشکیل جیسے شعبوں میں عملی اقدامات کریں۔
اس منصوبے میں وسیع مشاورت، مشترکہ شراکت اور باہمی فوائد کے اصول کے تحت پالیسیوں میں بہتر ہم آہنگی اور عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ وہ متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر عملدرآمد کو آگے بڑھائے گی، کثیرالجہتی تعاون کو مزید گہرا کرے گی اور حکومتوں، صنعت اور تعلیمی و تحقیقی اداروں کے درمیان مکالمے اور تعاون کو فروغ دے گی۔
اس منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق کی صلاحیتوں کو مزید جامع اور سب کے لئے قابل رسائی بنانے کی کوششیں بھی کی جائیں گی، جن میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تعاون پر توجہ دی جائے گی جبکہ ایک موثر اور مضبوط گورننس ماحولیاتی نظام کی تشکیل کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
منصوبے کے مطابق صنعتی سپلائی چین سے وابستہ تمام متعلقہ فریقوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کی حدود کو واضح کریں۔ اس کے علاوہ ایسی ٹیکنالوجیز کی تحقیق، ترقی، اوپن سورس اجرا اور اشتراک کو فروغ دیا جائے گا جو وضاحت پذیری، رازداری کے تحفظ اور تعصب میں کمی کو یقینی بنانے میں معاون ہوں۔
وزارت نے کہا کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق اخلاقیات کی تعلیم کو قومی تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے لئے کام کرے گی، خواتین، بچوں، بزرگ افراد، معذور افراد اور دیگر کمزور و محروم طبقات کے حقوق اور مفادات کا تحفظ یقینی بنائے گی اور ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے کے لئے بھی اقدامات کرے گی۔
چین نے مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی اخلاقیاتی نظم و نسق سے متعلق عملی منصوبہ جاری کر دیا



