انقرہ(نیشنل ٹائمز)کیا یہ تصور ممکن ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین رہنماؤں کی ایک اعلیٰ سطح کی بیٹھک ختم ہو اور رخصت ہوتے وقت میزبان صدر سب کے ہاتھوں میں ایک ایک لوڈڈ پسٹل تھما دے ؟ نیٹو کے حالیہ انقرہ سربراہی اجلاس کے بعد کچھ ایسا ہی ہوا ۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے نیٹو اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں کو الوداع کہتے ہوئے ایک انتہائی غیر معمولی اور چونکا دینے والا تحفہ پیش کیا-ایک چمکتا ہوا قدیمی ریوالور جس پر خود ان رہنماؤں کا نام کندہ تھا، اور ساتھ میں چھ اصلی گولیوں کا ایک سیٹ!برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے جب انقرہ سے واپسی کی فلائٹ پر اس تحفے کا ذکر کیا، تو جیسے سنسنی پھیل گئی۔ سرخ و سیاہ مخملی باکس میں بند اس ہتھیار کے ساتھ ایک خصوصی نوٹ بھی تھا، ڈبے پر ترکی اور انگریزی زبان میں لکھا ہے : گوموشائے ، ہمارے ملک میں تیار ہونے والا پہلا ریوالور نما ہینڈ گن۔
حکام کے مطابق، جب عالمی رہنماؤں کی سکیورٹی ٹیموں کو اس تحفے کا پتہ چلا، تو ایئرپورٹس اور وفود کے اندر ہاہاکار مچ گئی اور ایسے مناظر دیکھنے کو ملے جسے سکیورٹی حکام نے سراسر پاگل پن قرار دیا۔ بیلجیئم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور کو تو واپسی پر جہاز لینڈ ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے بیگ میں کیا ہے ۔ وہ اس قدر حیران اور پریشان ہوئے کہ انہوں نے فوری طور پر وہ ریوالور ایئرپورٹ پولیس کے حوالے کیا تاکہ اسے کسی محفوظ لاکر میں بند کیا جا سکے ۔ بیلجیئم کی سکیورٹی ٹیم کو نہ صرف اپنے وزیر اعظم بلکہ بروسلز میں موجود یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹاکے ریوالورز کو بھی سنبھالنا پڑا، جس نے پروٹوکول افسر وں کو شدید ترین سر درد میں مبتلا کر دیا۔ وان ڈیر لیین نے اردوان کا شکریہ تو ادا کیا لیکن صاف کہہ دیا کہ وہ اسے ناکارہ بنا کر ملٹری میوزیم میں رکھوا دیں گی۔
اس گفٹ نے پولینڈ کے صدر کارول ناویروکی کی سکیورٹی کو شدید چوکنا کر دیا۔ دراصل، دسمبر 2022 میں پولینڈ کے پولیس چیف یوکرین سے تحفے میں ملا ایک اینٹی ٹینک گرینیڈ لانچر لائے تھے ، جو ان کے اپنے ہی دفتر میں پھٹ گیا تھا اور ہیڈ کوارٹر تباہ ہو گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر کے معاون نے فوراً میڈیا کو یقین دلایا: اس بار کوئی بھی اس بندوق کو ہاتھ نہیں لگانے والا!۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کمال ہوشیاری دکھائی؛ وہ ریوالور تو اپنے ساتھ لے گئے لیکن گولیوں کا خطرناک ڈبہ ترکی میں ہی چھوڑ آئے ۔جرمن چانسلر فریڈرک میرز اور ڈچ وزیر اعظم روب جیٹن سمیت کئی رہنماؤں کے ریوالورز تاحال انقرہ میں ہی پڑے ہیں کیونکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک چالو بندوق کو جہازوں میں لے جانا قانونی ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے ۔ہالینڈ اس گن کو ناکارہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ سویڈن درآمدی دستاویزات تیار کر رہا ہے یونانی رہنما اسے ایتھنز کے وار میوزیم میں رکھیں گے ۔مبصرین کے مطابق، صدر اردوان اس تحفے کے ذریعے ترکی کی تیزی سے ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت کی نمائش کرنا چاہتے تھے ، جو اس وقت ترکی کی خارجہ پالیسی اور برآمدات کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے ۔ ترکی دنیا میں چھوٹے ہتھیار برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے ۔



