تحریر: عابد حسین قریشی
سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خوبصورت دعا ہے،:”” اے اللہ میں اس دوست سے پناہ چاہتا ہوں، جو مکر کرنے والا ہو، جو میری نیکی دیکھے تو اسے چھپا دے، اور برائی دیکھے تو اسے لوگوں میں نشر کرتا پھرے””۔ یہ اسقدر پر اثر اور معنی خیز دعا ہے، کہ سنتے ہی قلب و ذہن میں سما گئی۔ ہم جس معاشرہ میں رہ رہے ہیں، وہاں ہم روزانہ اپنے ہی دوستوں کے قصے کہانیاں لوگوں کو سناتے ہیں، اس میں کوئی ہرج نہیں، لیکن اگر کسی دوست کی کسی برائی کی تشہیر ہوتی ہو، تو یہ مناسب نہیں، اور ایسے دوست سے ہی سرکار مدینہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پناہ مانگی ہے۔ کسی کی عدم موجودگی میں اسکا اچھا ذکر کرنا، اسکی خوبیوں کا تذکرہ کرنا اور اسکی خامیوں کو چھپانا قدرے مشکل کام ہوتا جا رہا ہے۔ ہم کسی کی تعریف شروع کریں، حاضرین محفل کے چہروں پر انقباض کی کیفیت طاری ہونا شروع ہو جائے گی، آپ کسی کا برا ذکر یا اسکی کوئی خامی یا اسکینڈل بیان کرنا شروع کریں، ساری محفل ہمہ تن گوش ہو کر انجوائے کرے گی۔ حسین مجروح کا ایک خوبصورت شعر ہے، عجب قحط مخلصی ہے، کہ یاروں کی بزم میں۔ غیبت نکال دیں تو فقط خامشی بچے۔ ایسا کیوں ہے، کیا ہم ذہنی طور پر بیمار ہیں، یا ہمیں دوستوں کی خامیوں کو بیان کرکے لذت آتی ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے، کہ ہم لوگوں کی نیکیوں کو بھول جاتے ہیں، انکی خوبیوں سے صرف نظر کرتے ہیں اور جب کوئی ہلکی سی بھی خامی نظر آتی ہے، اسے اچھالتے ہیں، دوستوں میں شیئر کرتے ہیں۔ ہم بھی کیا لوگ ہیں، کسی دوست کی سو خوبیاں بھول کر اسکی ایک خامی کی تشہیر کرنے سے نہیں چوکتے۔ نہایت بے تکلفی میں گزرے روز و شب کی داستانیں بھی لوگوں کو سناتے ہیں، خواہ کسی دوست کا نقصان ہی ہو جائے اور خصوصاً اس وقت تو اسکی ساری خرابیاں اور خامیاں یاد آتی ہیں، جب کوئی کامیابی کے زینے طے کرنے کی تگ و دو میں ہو۔ مردم آزاری بعض اوقات اس لیول پر پہنچ جاتی ہے، کہ دوستوں کی ٹانگ بھی کھینچنے سے دریغ نہیں کرتے۔ یہ کسی ایک دو کی کہانی نہیں۔ یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے، ہم دن بدن اخلاص اور مروت، ایثار و قربانی اور محبت و شفقت جیسے جزبات سے عاری ہوتے جا رہے ہیں، اور مزید المیہ اور دکھ یہ ہے، کہ اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت تیزی سے مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں اپنے علاوہ نہ کوئی نیک نظر آتا ہے، نہ با صلاحیت، ہم تو اپنی ناکامیوں کو بھی دوسروں کے کھاتے میں ڈال کر سرخرو ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ زندگی اپنی خوبیوں بھی جیتے ہیں، دوسروں کی خامیاں ڈھونڈ کر نہیں۔ ہمیں دوسروں کی عیب جوئی سے فرصت ملے تو اپنی طرف بھی دھیان دیں، ممکن ہے، ہمارا اپنا دامن زیادہ آلودہ نکلے، مگر یہ بات سمجھتے سمجھتے تو عمر بیت جاتی ہے۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متذکرہ بالا دعا پر اثر بھی ہے اور معنی خیز بھی۔ یہ دلوں پر دستک بھی دیتی ہے، اور انسانی نفسیات کو جھنجھوڑتی بھی ہے۔



