تاثرات: مظہر طفیل
ماضی میں سوشل میڈیا پر گالم گلوچ برگیڈ چلانے کے الزامات جنرل فیض حمید سے جوڑے جاتے رہےجبکہ آج یہی الزامات مریم نواز کے قریب سمجھے جانے والے بعض صحافیوں پر لگ رہے ہیں رضی داداجنہیں مبینہ جانبداری کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی کے احتجاج اور دباو کے باعث پی ٹی وی سے نکالا گیاتھا بلا شبہ وہ عمل پیپلز پارٹی کو نہیں کرنا چاہیے تھا مگر یہ شخص آج جس انداز کی صحافت کر رہا ہے وہ صحافت سے زیادہ سیاسی مہم دکھائی دیتی ہے رضی دادا کا طرزِ عمل اور مخالفین کے خلاف مہم ان کے والدین کی جانب سے دی جانے والی ذہنی تربیت کی مکمل عکاسی کرتی ہے جبکہ ان کے نام نہاد فالورز جو زبان استعمال کررہے ہیں اس سے رضی دادا کی پیشہ ورانہ صحافت کے معیار پر خود ہی سوال کھڑے ہورہے ہیں کہ کیا یہ شخص نیشنل میڈیا پر أنے کے قابل ہے خبر کے حقاٸق کو مسخ کرکے دلاٸل کی بجاٸے جوطرز عمل مسلم لیگ ن کا نام استعمال کرکے سوشل میڈیا پر کیا جارہا ہے یہی کام جنرل فیض حمید ماضی میں گالم گلوچ برگیٸڈ سے کرواتا رہا ہے اب ان کا حال بھی دیکھ لیا جاٸے ان شاء اللہ جلد ہی اب یہ تمام بدقماش کردار جو سیاست اور صحافت کا لبادہ اوڑھے ہوٸے ہیں اسی صف میں انہی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ مختلف ادوار میں تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے کسی نہ کسی درجے میں ایسے عناصر کی سرپرستی کی۔ کسی کو اینکر بنا دیا گیا، کسی کو اخبار کا مدیر، کسی کو تجزیہ نگار اور کسی کو سوشل میڈیا کا “انفلوئنسر”۔ قابلیت اور دیانت داری کے بجائے سیاسی وفاداری معیار بن گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صحافت کا وقار مجروح ہوا، عوام کا اعتماد ٹوٹا اور میڈیا کا ایک حصہ معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ سیاسی محاذ بن کر رہ گیا۔
یہی وہ زہریلا ماحول تھا جس نے سوشل میڈیا کو تہذیب کے بجائے بدزبانی، برداشت کے بجائے انتقام اور دلیل کے بجائے نفرت کا میدان بنا دیا۔ نوجوان نسل نے اختلافِ رائے کو گالی سمجھ لیا، سوال پوچھنے کو غداری اور تنقید کو دشمنی۔ جب معاشرے میں دلیل کی جگہ ہجوم کی آواز فیصلہ کرنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ قوم فکری زوال کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ریاستی اداروں، عدلیہ، افواجِ پاکستان، پارلیمان اور دیگر قومی اداروں پر بے بنیاد الزامات، اشتعال انگیز مہمات اور سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت کو ہوا دینے کے رجحانات نے بھی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا۔ ایسے معاملات میں مختلف صحافیوں، یوٹیوبرز اور تجزیہ کاروں کے نام مختلف اوقات میں زیرِ بحث آتے رہے ہیں، تاہم ہر فرد کے بارے میں قانونی ذمہ داری اور حتمی فیصلہ متعلقہ اداروں اور عدالتوں کا اختیار ہے۔ اصولی مؤقف یہی ہونا چاہیے کہ کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے، خواہ وہ صحافی ہو، سیاست دان یا ریاستی عہدیدار۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریکِ انصاف، جماعتِ اسلامی اور دیگر تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ اگر ان کی صفوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو صحافت کا لبادہ اوڑھ کر نفرت، تقسیم، کردار کشی اور جھوٹے بیانیوں کی تجارت کر رہے ہیں تو ان سے فوری لاتعلقی اختیار کی جائے۔ کیونکہ ایسے لوگ کسی جماعت کے اثاثے نہیں، اس کے لیے بوجھ ہوتے ہیں۔ وقتی فائدہ پہنچانے والے یہی کردار آخرکار پوری جماعت کی ساکھ، اس کے نظریے اور اس کے سیاسی مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔پاکستان کو اس وقت توپوں سے زیادہ سچ بولنے والے قلم کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے صحافی چاہییں جو اقتدار کے دروازوں پر سجدہ ریز نہ ہوں بلکہ عوام کے حقِ جاننے کی حفاظت کریں۔ ہمیں ایسے تجزیہ کار چاہییں جو قوم کو تقسیم نہ کریں بلکہ سوچنے کی دعوت دیں۔ کیونکہ جب صحافت بازار میں بکنے لگے تو صرف قلم نہیں مرتا، قوم کا شعور بھی دم توڑ دیتا ہے۔ اور جس قوم کا شعور مر جائے، اس کی جمہوریت صرف ایک تماشا بن کر رہ جاتی ہے۔



