لاہور،کاہنہ (نیشنل ٹائمز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے المناک حادثے میں جاں بحق بچوں کے والدین سے ملاقات کی، فاتحہ خوانی اور اظہارِ تعزیت کیا۔ انہوں نے غمزدہ ماؤں کو دلاسہ دیا اور کہا کہ ایک ماں ہونے کے ناطے وہ والدین کے دکھ اور کرب کو بخوبی محسوس کرتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب چھت سے اینٹیں گرنا شروع ہوئیں تو بچوں کو فوری طور پر چھٹی دے دینی چاہئے تھی، غفلت کے مرتکب افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے ہر جاں بحق بچے کے ورثا کو 20 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 5 لاکھ روپے فی کس کے امدادی چیکس دئیے اور زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے حادثے میں محفوظ رہنے والے بچوں سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے بتایا کہ انہوں نے اینٹیں گرنے پر ٹیچر سے چھٹی دینے کی درخواست کی تھی تاہم انہیں کلاس سے نہیں جانے دیا گیا۔ متاثرہ خاندانوں نے بروقت امداد، علاج اور اظہارِ ہمدردی پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔دوسری جانب وزیراعلیٰ کی زیر صدارت جیل اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے کی جیلوں میں گنجائش بڑھانے ، قیدیوں کی فلاح و بہبود، سکیورٹی، تعلیم، صحت اور ہنر مندی سے متعلق جامع منصوبے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں ننکانہ صاحب میں زیر تعمیر جیل کی تکمیل کیلئے 1.3 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے اور ننکانہ صاحب و سمندری جیلوں کو رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا، جبکہ چنیوٹ اور مری میں نئی جیلوں کی تعمیر بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ جیلوں میں اضافی بیرکیں تعمیر کی جا رہی ہیں، خواتین اور کم عمر قیدیوں کیلئے جدید سہولتوں سے آراستہ نئی جیلیں قائم کی جا رہی ہیں، جبکہ قیدیوں کے لیے معیاری خوراک، مفت قانونی معاونت، طبی سہولتوں، نفسیاتی مشاورت، تعلیم، فنی تربیت، لائبریریوں، ویڈیو و آڈیو کال، بائیومیٹرک نظام اور جدید سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے جیل وینز کو ایئرکنڈیشنڈ بنانے ، فیملی رومز اور ویٹنگ ایریاز کی بحالی، جوینائل جیلوں کی اپ گریڈیشن اور قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کی جیلوں کی گنجائش 30 ہزار سے بڑھا کر 39 ہزار کر دی گئی ہے جبکہ آئندہ سال اسے مزید بڑھایا جائے گا۔ مختلف جیلوں میں سولر سسٹم، جیل انڈسٹریز، تعلیمی پروگرام، ہنر مندی کے کورسز اور اصلاحی سرگرمیوں کے ذریعے قیدیوں کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ادھر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء کرام اور اقلیتی مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء نے محرم الحرام کے لیے پنجاب حکومت کے سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ کمیٹی نے مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کے تحفظ، امن و امان، نوجوانوں کی فلاح اور دیگر عوامی منصوبوں پر حکومت کی کاوشوں کو بھی سراہا اور ملک میں امن، رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔



