تحریر: محمد نذیر
پاکستان خود کو ایک جمہوری، آئینی اور سیاسی ریاست قرار دیتا ہے، اور ہر دورِ حکومت میں حکمران یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ ملک میں جمہوری روایات مضبوط ہیں، انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جاتا ہے اور آئین کے مطابق ہر شہری کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ یہی دعوے قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے بھی دہراتے رہے ہیں۔ ہر حکومت نے اپنے منشور اور بیانات میں جیل اصلاحات، قیدیوں کو بہتر سہولیات، اصلاحی ماحول اور انسانی وقار کے تحفظ کا وعدہ کیا، مگر بدقسمتی سے وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع خلیج موجود رہی۔ اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں جیل اصلاحات کا موضوع سنجیدگی سے زیرِ بحث آیا اور وزیرِ جیل خانہ جات ملک حاکمین خان نے اس حوالے سے بعض اقدامات بھی کیے، لیکن اسی دور میں سیاسی قیدیوں کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا سے لے کر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت مختلف ادوارِ حکومت میں بھی جیل اصلاحات کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے رہے، مگر عملی صورتِ حال میں بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ اگر آج پاکستان کی بیشتر جیلوں کی حالت کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عام قیدیوں کو فراہم کیا جانے والا کھانا، رہائش، طبی سہولیات اور بنیادی انسانی ضروریات اب بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ دوسری جانب یہ تاثر بھی مضبوط رہا ہے کہ بااثر، سیاسی یا مالی حیثیت رکھنے والے قیدیوں کو عام قیدیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سہولتیں میسر آتی ہیں۔ انہیں بہتر رہائش، بہتر علاج، اسپتالوں میں خصوصی کمرے اور دیگر آسائشیں نسبتاً آسانی سے حاصل ہو جاتی ہیں، جبکہ ایک غریب، بے سہارا اور بے اثر قیدی، خواہ وہ معمولی جرم میں گرفتار ہو یا سزا یافتہ ہو، اکثر بنیادی سہولیات اور مناسب توجہ سے بھی محروم رہتا ہے۔ یہی امتیازی رویہ انصاف کے اس بنیادی اصول سے متصادم دکھائی دیتا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں۔ حالیہ عرصے میں بھی جیل اصلاحات اور قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاسوں، کانفرنسوں اور سرکاری اعلانات میں اس موضوع پر زور دیا گیا، لیکن اگر ان اعلانات کا عملی حقائق سے موازنہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بہت سا سفر طے ہونا باقی ہے۔ تاہم قیدیوں کے حقوق پر بحث یقیناً ایک مہذب اور آئینی ریاست کی علامت ہے، لیکن اس بحث کو صرف جیل کی چار دیواری تک محدود نہیں رہنا چاہیے، کیونکہ ریاست کی عظمت صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہ اپنے قیدیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے بلکہ اس سے بھی کہ وہ اپنے آزاد شہریوں کو کتنی باوقار، محفوظ اور باعزت زندگی فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جیل اصلاحات، قیدیوں کی فلاح اور انسانی وقار کے موضوع پر تقاریب اور سیمینار منعقد ہوتے ہیں تو ایک بنیادی سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا صرف وہی لوگ قید میں ہیں جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی گلیوں، بازاروں، کھیتوں، کارخانوں اور دفاتر میں کروڑوں ایسے شہری بھی موجود ہیں جو قانونی طور پر تو آزاد ہیں، مگر مہنگائی، بے روزگاری، معاشی بدحالی، بڑھتے ہوئے ٹیکسوں، تعلیم اور علاج کی ناقابلِ برداشت لاگت، توانائی کے بحران اور غیر یقینی مستقبل نے انہیں ایک ایسی خاموش قید میں جکڑ رکھا ہے جس کی نہ کوئی معینہ مدت ہے اور نہ ہی رہائی کی کوئی تاریخ۔ جب ایک مزدور دن بھر مشقت کے باوجود اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی باعزت روٹی مہیا نہ کر سکے، جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان برسوں ملازمت کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتا پھرے، جب ایک مریض علاج سے پہلے اپنے وسائل کا حساب لگانے پر مجبور ہو جائے، تو یہ صرف معاشی بحران نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی انصاف اور ریاستی ذمہ داری پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ قیدیوں کے حقوق کا تحفظ بلا شبہ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، لیکن انصاف اس وقت مکمل ہوتا ہے جب یہی احساسِ ذمہ داری ان کروڑوں آزاد شہریوں کے لیے بھی نظر آئے جو ہر روز حالات کی عدالت میں خاموشی سے سزا کاٹ رہے ہیں۔ اگر ایک طرف وی آئی پی قیدیوں کو قانون سے بڑھ کر سہولتیں میسر ہوں، دوسری طرف عام قیدی بنیادی حقوق سے محروم ہوں، اور جیل سے باہر رہنے والا عام شہری بھی مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور ناانصافی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو، تو پھر یہ سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ آخر اس معاشرے میں حقیقی طور پر آزاد کون ہے؟ ایک حقیقی جمہوری اور فلاحی ریاست وہی ہوتی ہے جہاں جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجود انسان بھی عزت، انصاف اور بنیادی سہولتوں سے محروم نہ ہو اور جیل سے باہر رہنے والا شہری بھی معاشی، سماجی اور قانونی اعتبار سے خود کو محفوظ، باوقار اور پُرامید محسوس کرے۔ یہی آئین کی روح ہے، یہی انسانی حقوق کا اصل تقاضا ہے، اور یہی کسی بھی مہذب، انصاف پسند اور حقیقی جمہوری ریاست کی پہچان ہے۔



