تہران، واشنگٹن(نیشنل ٹائمز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس یا اضافی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات فوری طور پر ختم کر دئیے جائیں گے ۔اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے (آئی اے ای اے )کے سربراہ رافیل گروسی نے اشارہ دیا ہے کہ ان کے انسپکٹرز جلد ہی ایران کے حساس جوہری افزودگی کے مراکز کا دورہ کریں گے جو کہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کا ایک اہم ترین ستون ہے ۔انہوں نے کہا دونوں ممالک کے صدور نے ایک باضابطہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں،اس معاہدے میں واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ جوہری مواد اور تنصیبات سے متعلق تمام تر سرگرمیوں کی نگرانی آئی اے ای اے کرے گی، ظاہر ہے ، ایسا کرنے کے لیے ہمیں معائنہ کرنا ہو گا۔ اب یہ معائنہ پرسوں ہوتا ہے ، ایک ہفتے بعد یا 10 دن بعد یہ وقت اہم تو ہے لیکن بنیادی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ معائنہ ہر صورت ہو کر رہے گا۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے رافیل گروسی کے اس بیان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا سوئٹزرلینڈ میں قیام کے دوران ایرانی وفد نے رافیل گروسی سے کوئی ملاقات نہیں کی تھی،ان مسائل پر نظرثانی اور فیصلہ صرف اور صرف ایک حتمی معاہدے کے فریم ورک کے اندر ہی کیا جائے گا اور وہ بھی اس صورت میں جب دوسرا فریق تمام تر پابندیاں اور دیگر اقدامات ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خطے کے دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور دیگر اعلیٰ شخصیات سے ملاقات کی۔روبیو نے کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح سے بھی ملاقات کی، ملاقات سے قبل مارکو روبیو نے کویت میں امریکی سفارت خانے کی عمارت میں پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی، جو جنگ کے دوران بند کر دی گئی تھی اور اب دوبارہ کھولی جا رہی ہے ۔مارکو روبیو نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات 29 یا 30 جون کو دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے ۔
یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے سے خطے میں سفارتی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے ۔ مارکو روبیو کے دورے کا اگلا پڑاؤ بحرین ہوگا، جہاں وہ مزید علاقائی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے ۔ آبنائے ہرمز کے طویل مدتی انتظام پر ایران، عمان اور خلیجی ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے ۔قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے عمان کے دارالحکومت مسقط کا دورہ کیا تاکہ اس آبی گزرگاہ سے متعلق مذاکرات کے آغاز پر بات چیت کی جا سکے ۔قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے ایک انٹرویو میں کہا آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس لگانے کے ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے ۔ادھر لبنانی سکیورٹی اور طبی ذرائع نے رائٹرز کو بتایاکہ بدھ کے روز جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم دو افراد شہید ہوگئے ۔
اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں جائے گی،کاٹز نے تل ابیب میں ایک کانفرنس کے دوران کہااسرائیلی دفاعی افواج تیار ہیں اور ہم پیچھے نہیں ہٹ رہے ۔ ایران کے پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف نے باکو میں کہاہمارے لیے لبنان میں جنگ بندی اتنی ہی اہم ہے جتنی ایران میں جنگ بندی، بلکہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اتنا ہی اہم ہے جتنا ایران میں جنگ کا خاتمہ۔



