جنان (شِنہوا) چھتوں پر نصب شمسی توانائی کے پینلز سے صاف توانائی پیدا ہو رہی ہے، نئی توانائی والی گاڑیاں (این ای ویز) پیداواری لائنوں سے نکل رہی ہیں اور باورچی خانے کا کچرا بھی وسائل میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
کارخانوں، برادریوں، ٹرانسپورٹ نظام اور توانائی کے نیٹ ورکس میں چین کی تیز رفتار ماحول دوست منتقلی کثیر القومی کمپنیوں کے لئے نئے اور پرکشش ترقیاتی مواقع پیدا کر رہی ہے۔
چین کے 15 ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں ملک بھر میں ماحول دوست منتقلی کو تیز کرنے، خوبصورت چین کی تعمیر اور صنعت، شہری و دیہی ترقی، ٹرانسپورٹ اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں کم کاربن اور ماحول دوست تبدیلی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے یہ منصوبہ نہ صرف واضح پالیسی سمت فراہم کرتا ہے بلکہ صنعتی ترقی کے لئے مزید وسیع مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔
جرمن کیمیکل کمپنی بی اے ایس ایف چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں واقع ژان جیانگ کے اپنے بڑے صنعتی کمپلیکس میں قابل تجدید توانائی کے استعمال کے ذریعے کم کاربن آپریشنز کو فروغ دے رہی ہے۔
فرانسیسی توانائی ٹیکنالوجی کمپنی شنائیڈر الیکٹرک توانائی کے انتظام، خودکار نظام اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ذریعے چینی کمپنیوں کی ماحول دوست تبدیلی میں معاونت جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ سیمنز جیسے بڑے صنعتی ادارے سمارٹ الیکٹریکل سسٹمز، ماحول دوست پیداوار اور توانائی کی بہتری کے حل فراہم کر رہے ہیں۔
اپنی وسیع منڈی، مکمل صنعتی سلسلوں اور متنوع استعمال کے مواقع کے باعث چین اب ماحول دوست ٹیکنالوجیز کی تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور ان کے عملی نفاذ کا ایک بڑا عالمی مرکز بن رہا ہے۔
تیزی سے بڑھتے ہوئے ماحول دوست شعبے غیر ملکی کمپنیوں کو چین میں اپنی موجودگی بڑھانے کی طرف راغب کر رہے ہیں، جو سرمایہ کاری میں اضافے کا نیا محرک بن رہا ہے۔
نئی توانائی گاڑیوں (این ای وی) کا شعبہ اس کی واضح مثال ہے۔
جرمن آٹو سپلائر زیڈ ایف گروپ کی ایگزیکٹو نائب صدر رینی وانگ نے گزشتہ ہفتے ہونے والی 7 ویں چھنگ ڈاؤ کثیرالمکی سربراہ اجلاس میں کہا کہ چین کی کارساز صنعت نے گزشتہ دہائی میں برقی گاڑیوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اگلا مرحلہ ذہین گاڑیوں پر مرکوز ہوگا۔
تقریب میں این ای وی صنعتی سلسلے اور اعلیٰ درجے کی کیمیکل صنعتوں کو ماحول دوست توانائی سے تقویت دینے جیسے موضوعات پر بات چیت نے ظاہر کیا کہ عالمی کمپنیوں کی دلچسپی چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ماحول دوست صنعتوں میں بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے مضبوط ترسیلی نظام اور وسیع آر اینڈ ڈی صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم چینی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نئی ٹیکنالوجی راستے تلاش کرنا، ماحول دوست توانائی کے بہتر استعمال کے طریقے تیار کرنا اور ایشیا پیسیفک سمیت دنیا بھر میں ان ایجادات کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔
چین کی ماحول دوست تبدیلی کثیر القومی کمپنیوں کے لئے نئے مواقع لے آئی



