لندن (شِنہوا) فنانشل ٹائمز نے بدھ کے روز بیمہ کمپنی ‘الیانز’ کی تازہ ترین رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث 1200 سے زائد مال بردار جہاز پھنس گئے ہیں جن میں 125 ارب امریکی ڈالر مالیت کا سامان موجود ہے۔
الیانز میں بحری بیمہ کاری کے سربراہ جسٹس ہینرک نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے بیمہ کمپنیوں کے لئے اہم گزرگاہوں سے متعلق خطرے کا تصور بدل کر رکھ دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ آفات کے حقیقت پسندانہ منظرناموں کے بارے میں بات کرتے تھے اور اب ہمارے سامنے اس طرح کی ایک حقیقی آفاتی صورت حال موجود ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے کے اعلان کے بعد جہازوں کی نقل و حمل آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہے۔ لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کے اعداد و شمار کے مطابق 21 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 69 جہاز خلیج سے باہر نکلے جو اس سے پچھلے ہفتے کے دوران محض 24 جہازوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں اور یہ رواں سال فروری میں امریکہ اور ایران کا تنازع شروع ہونے کے بعد سے ہفتہ وار جہاز رانی کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
اس تنازع کے نتیجے میں شدید جانی اور معاشی نقصانات کے ساتھ ساتھ جہازوں کے عملے کے لئے بھی طویل بحران پیدا ہوا۔ عالمی ادارہ برائے جہاز رانی کے مطابق اس تنازع کے دوران 40 سے زائد جہازوں پر میزائل حملے کئے گئے جن میں عملے کے 14 افراد ہلاک ہوئے، ان جہازوں میں زیادہ تر آئل ٹینکرز تھے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے 1200 مال بردار جہاز پھنس گئے، فنانشل ٹائمز



