چھانگ چھون (شِنہوا)’’بانس کا ایک پتہ لیں اور اسے آئس کریم کون کی شکل میں موڑیں‘‘ ایک شیف نے انہماک سے دیکھنے والے شرکاء کی کلاس کو ہدایت دی۔ ان میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ طالب علم محمد جمشید بھی شامل تھے جنہوں نے غور سے سنا اور پھر شوخ سبز پتے کو شکل دینے کی کوشش کی۔
18 جون کو افریقہ، اوشیانا اور ایشیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 100 بین الاقوامی طلبہ چین کے شمال مشرقی صوبہ جی لین کے دارالحکومت چھانگ چھون میں جمع ہوئے تاکہ آنے والے روایتی ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی مناسبت سے زونگزی بنانے کا تجربہ کر سکیں۔
پاکستان کے شہر پاکپتن سے تعلق رکھنے والے جمشید نے کہا کہ ’’یہ ڈریگن بوٹ فیسٹیول کا میرا پہلا تجربہ ہے۔‘‘ وہہ گزشتہ خزاں میں چینی زبان کی تیاری کے پروگرام کے لئے جی لین یونیورسٹی آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے اساتذہ نے ابھی ہمیں اس تہوار کی تاریخ اور رسومات کے بارے میں بتایا ہے۔ یہ بے حد دلچسپ ہے اور میں خود ڈمپلنگز لپیٹنے کا شدت سے منتظر تھا۔‘‘
یہ ثقافتی سرگرمی جی لین یونیورسٹی کے کالج آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کی جانب سے منعقدہ ایک تہوار تقریب کا حصہ تھی۔ مکمل ثقافتی تجربہ فراہم کرنے کے لئے یونیورسٹی نے 5 رنگوں کی بنی ہوئی ڈوریاں اور خوشبودار تھیلیوں جیسی روایتی موسمی اشیاء کے ساتھ ساتھ چپچپا چاول، سرخ کھجوریں، بانس کے پتے اور گرہ باندھنے کی ڈوریاں بھی فراہم کیں۔ اساتذہ نے چینی لوک روایات پر ایک دلچسپ تعارفی سبق بھی پیش کیا۔
جب کھانا تیار کرنے کی عملی سرگرمی شروع ہوئی تو طلبہ نے شیفوں اور عملے کی رہنمائی میں بانس کے پتوں کو احتیاط سے کون کی شکل دی۔ پھر انہوں نے ان پتوں میں چپچپا چاول اور میٹھی سرخ کھجوریں بھریں اور انہیں تنکوں کی ڈوریوں سے مضبوطی سے باندھ دیا۔
ایک اور پاکستانی طالب علم ایم کاشف حسن پوری توجہ کے ساتھ اپنے کام میں مصروف رہے۔ چند ہی منٹوں میں ان کے ہاتھوں میں ایک مکمل شکل کا خوبصورت زونگزی تیار تھا۔ روانی سے چینی زبان بولنے والے 20 سالہ حسن نے کہا کہ ’’یہ پہلی بار ہے کہ میں زونگزی بنا رہا ہوں اور یہ دراصل میری توقع سے کچھ آسان نکلا۔‘‘
حسن نے بتایا کہ چین میں وسط خزاں تہوار اور بہار تہوار کا تجربہ کرنے کے بعد انہیں چینی تہواروں کے روایتی کھانے پسند آنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان میں بھی ہمارے پاس چاول اور دودھ سے بننے والے روایتی تہواروں کے کھانے ہوتے ہیں جو بہت لذیذ ہوتے ہیں۔ ان روایتی چینی تہواروں کو مناتے ہوئے مجھے اکثر اپنے گھر کی یاد آ جاتی ہے۔‘‘
جی لین یونیورسٹی سمیت چین کی شمال مشرقی مختلف جامعات میں بین الاقوامی طلبہ کی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔ اہم روایتی تہواروں سے قبل یہ ادارے باقاعدگی سے ثقافتی تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ غیر ملکی طلبہ مقامی روایات سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ خود کو گھر جیسا محسوس کر سکیں۔
چینی قمری کیلنڈر کے پانچویں مہینے کے پانچویں دن منایا جانے والا ڈریگن بوٹ فیسٹیول اس سال 19 جون کو منایا گیا۔ اس تہوار کی نمایاں سوغات زونگزی ہے جو چپچپے چاول سے تیار کیا جانے والا اہرامی یا تکیے کی شکل کا پکوان ہوتا ہے۔ اس میں میٹھے لوبیے کا پیسٹ، سرخ کھجوریں یا نمکین گوشت جیسی مختلف بھرائیاں شامل کی جاتی ہیں پھر اسے بانس یا سرکنڈے کے پتوں میں لپیٹ کر ابالا یا بھاپ میں پکایا جاتا ہے۔
چین میں بین الاقوامی طلبہ نے زونگزی بنا کر ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی روایات کو اپنا لیا



