جنیوا (شِنہوا) چین کے ایک سفیر نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو عالمی نظم و نسق میں موجود خلا کو دور کرنے کے لئے ایک چینی حل فراہم کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے کام کو مزید موثر اور بہتر بنانے کے طریقوں پر نئی روشنی ڈالتا ہے۔
یہ بات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ دفتر اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں چین کے مستقل نمائندے اور سفیر جیا گوئی دے نے انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں اجلاس کے دوران کونسل کے قیام کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک غیر رسمی اعلیٰ سطح کے مباحثے میں کہی۔
جیا نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کی 20 ویں سالگرہ اس بات کا اہم موقع ہے کہ کونسل اپنے بنیادی مقاصد کی تجدید کرے، موجودہ صورتحال کا جائزہ لے اور مستقبل کی سمت کا تعین کرے۔
انہوں نے کہا کہ کونسل کے کام کو مضبوط اور بہتر بنانے کے لئے ریاستوں کی خودمختار برابری اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے اصولوں پاسداری ضروری ہے۔
جیا نے کہا کہ کونسل کو عالمگیریت، غیر جانبداری، معروضیت، عدم امتیاز اور تعمیری مکالمے و تعاون کے اصولوں کی رہنمائی میں کام کرنا چاہیے اور انسانی حقوق کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی مخالفت کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی مرکزیت کے اصول پر کاربند رہنا اور کثیرالجہتی طرز عمل کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کونسل کو شہری اور سیاسی حقوق کے ساتھ ساتھ معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کی متوازن ترقی کو فروغ دینا چاہیے اور ترقی کے حق کو کثیرجہتی انسانی حقوق ایجنڈے میں زیادہ اہم مقام دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ عملی اقدامات پر مبنی نکتہ نظر اپنانا اور سب کے لئے منصفانہ اور مشترکہ فوائد کو فروغ دینا ضروری ہے۔ کونسل کو متعلقہ ممالک کی رضامندی کی بنیاد پر صلاحیت سازی اور تکنیکی معاونت میں مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
دنیا میں تہذیبوں کے تنوع کوایک حقیقت قرار دیتے ہوئے جیا نے کہا کہ ہر ملک کی جانب سے آزادانہ طور پر اختیار کئے گئے انسانی حقوق کے ترقیاتی راستے کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انسانی حقوق کی عالمگیریت اور تہذیبی تنوع کے درمیان موجود باہمی تعلق کو درست انداز میں سمجھنا ہوگا۔
جیا نے کہا کہ چین انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کو اہمیت دیتا ہے اور انسانی حقوق کی ترقی کے چینی راستے پر ثابت قدمی سے گامزن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین تمام ممالک کے ساتھ مل کر عالمی انسانی حقوق کے شعبے کی صحت مند ترقی کو آگے بڑھانے اور بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تعمیر میں تعاون کے لئے تیار ہے۔
گلوبل گورننس انیشی ایٹو میں عالمی نظم و نسق میں موجود خلا اور خامیوں کا حل پیش کرتا ہے، چینی سفیر



