تاثرات: مظہر طفیل
پاکستان میں صحافت محض ایک روزگار یا پیشہ نہیں بلکہ ایک ایسی قومی ذمہ داری سمجھی جاتی رہی ہے جس کا تعلق ریاست، معاشرے اور عوامی شعور سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ ایک صحافی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ خبر اور رائے کے درمیان فرق برقرار رکھے گا، اختلافِ رائے کو برداشت کرے گا، طاقت کے مراکز سے سوال کرے گا اور عوام کو حقائق تک رسائی فراہم کرے گا۔ مگر بدقسمتی سے گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کی صحافت میں کچھ ایسے رجحانات بھی پروان چڑھے جنہوں نے اس مقدس پیشے کو نقصان پہنچایا اور صحافت کو تحقیق و تجزیے کے بجائے شخصیات، گروہوں اور بیانیوں کی جنگ میں تبدیل کر دیا۔
اس تناظر میں اگر چند متنازع صحافتی شخصیات کا ذکر کیا جائے تو صابر شاکر کا نام بھی ان میں شامل ہے۔ صابر اور شاکر دو ایسے الفاظ ہیں جو صبر، تحمل، بردباری اور شکرگزاری جیسے اوصاف کی نمائندگی کرتے ہیں، مگر ان کے ناقدین کے نزدیک ان کے طرزِ عمل اور عوامی گفتگو میں ان صفات کی جھلک کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام آتے ہی صحافت کے معیار، صحافتی اخلاقیات اور ذرائع ابلاغ کے کردار پر ایک نئی بحث چھڑ جاتی ہے۔
اسلام آباد کے صحافتی حلقوں سے وابستہ افراد جانتے ہیں کہ ایک زمانے میں صابر شاکر کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ وہ قومی سطح کے ایک بڑے نشریاتی ادارے سے وابستہ تھے اور بعض حلقوں میں انہیں ایک مخصوص ریاستی بیانیے کا ترجمان سمجھا جاتا تھا۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دور میں ان کا رویہ اختلافِ رائے رکھنے والوں کے لیے زیادہ نرم نہیں تھا۔ جو لوگ ان کے مؤقف یا پسندیدہ بیانیے سے اختلاف کرتے، ان کے ساتھ مکالمے کے بجائے تلخی اور سختی کا رویہ اختیار کیا جاتا۔ صحافت کا بنیادی اصول دلیل اور برداشت ہے، مگر جب دلیل کی جگہ تحقیر اور مکالمے کی جگہ تضحیک لے لے تو صحافت کا وقار متاثر ہوتا ہے۔
یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پورے رجحان کی عکاسی ہے۔ پاکستان میں ایک عرصے تک بعض صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو غیر معمولی رسائی، اہمیت اور پذیرائی حاصل رہی۔ بعض افراد ریاستی اداروں کے قریب سمجھے جاتے تھے، بعض سیاسی جماعتوں کے ترجمان تصور کیے جاتے تھے اور بعض کو مخصوص حلقوں کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔ اس صورتحال نے صحافت اور طاقت کے مراکز کے درمیان فاصلوں کو کم کر دیا، جس کے نتیجے میں عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا صحافی خبر دے رہا ہے یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی وکالت کر رہا ہے۔
اسی دور میں پاکستان کے سیاسی ماحول میں ایک اور خطرناک رجحان نے جنم لیا۔ اختلافِ رائے رکھنے والوں کو غدار، ایجنٹ اور ملک دشمن قرار دینا معمول بنتا گیا۔ سیاست دان ہوں، صحافی ہوں یا سماجی کارکن، جو بھی غالب بیانیے سے اختلاف کرتا، اسے فوراً مشکوک قرار دینے کی کوشش کی جاتی۔ اس مہم میں بعض صحافی بھی پیش پیش دکھائی دیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قومی مکالمہ کمزور ہوا، برداشت کم ہوئی اور معاشرہ مزید تقسیم کا شکار ہو گیا۔
مجیب الرحمن شامی، سہیل وڑاٸچ ۔عباس اطہر مرحوم ،نذیر ناجی ،عبدالقادر،ارشاد احمد حقانی، الطاف حسین قریشی مرحوم جیسے بزرگ صحافیوں کی مثال اس حوالے سے مختلف نظر آتی ہے۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے سیاسی تجزیوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، مگر انہوں نے ہمیشہ دلیل، شائستگی اور مکالمے کی روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالفین بھی ان کی صحافتی عمر، تجربے اور طرزِ گفتگو کا احترام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جب بعض تجزیہ نگار اور میزبان اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے، ان کی تضحیک کرنے یا ان پر ذاتی حملے کرنے کو صحافت سمجھنے لگیں تو اس کا نقصان پورے شعبے کو پہنچتا ہے۔
وقت کا پہیہ گھوما، سیاسی حالات بدلے اور بہت سی شخصیات ملک سے باہر منتقل ہو گئیں۔ آج صابر شاکر، عادل راجا، عمران ریاض، معید پیرزادہ اور دیگر کئی افراد بیرونِ ملک سے پاکستانی سیاست، ریاستی اداروں اور قومی معاملات پر مسلسل جھوٹ پر مبنی تبصرے کر رہے ہیں۔ ان کے حامی انہیں بے باک آوازیں قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان کے بعض بیانیے جذباتی، یک طرفہ اور غیر متوازن ہوتے ہیں۔ اصل سوال کسی فرد کی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ان کی گفتگو تحقیق، ثبوت اور ذمہ داری پر مبنی ہے یا محض سنسنی اور جذباتیت پر؟
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ آج سماجی ذرائع ابلاغ کے دور میں خبر، تجزیہ، افواہ اور پروپیگنڈا ایک دوسرے میں اس طرح گڈمڈ ہو چکے ہیں کہ عام آدمی کے لیے حقیقت تک پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بیرونِ ملک بیٹھ کر قومی اداروں، ریاستی معاملات اور سفارتی امور پر گفتگو کرنا ہر شخص کا حق ہے، لیکن یہ حق ذمہ داری سے مشروط بھی ہے۔ اگر کسی تجزیے کا مقصد معلومات فراہم کرنے کے بجائے نفرت، تقسیم یا انتشار پیدا کرنا بن جائے تو پھر اس کے نتائج صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال ریاستی اداروں کے کردار کا ہے۔ کیا ماضی میں بعض افراد کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی؟ کیا بعض شخصیات کو ان کی صلاحیت کے بجائے وقتی مصلحتوں کے تحت آگے بڑھایا گیا؟ کیا اداروں نے شخصیات پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ افراد بدل جاتے ہیں، وفاداریاں تبدیل ہو جاتی ہیں، بیانیے بدل جاتے ہیں، مگر ادارے اور اصول باقی رہتے ہیں۔
پاکستان کی صحافت کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ احتساب، خود احتسابی اور پیشہ ورانہ دیانت ہے۔ صحافی کا کام کسی سیاسی جماعت، ریاستی ادارے یا شخصیت کا وکیل بننا نہیں بلکہ عوام کے حقِ معلومات کا محافظ بننا ہے۔ اگر صحافت شخصیت پرستی، نفرت انگیزی، الزام تراشی اور گروہی وابستگیوں سے آزاد ہو کر تحقیق، توازن اور ذمہ داری کی راہ اختیار کرے تو نہ صرف اس پیشے کا وقار بحال ہو سکتا ہے بلکہ ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔
سوال صابر شاکر یا کسی ایک فرد کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھا ہے؟ کیا ریاستی اداروں نے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ شخصیات عارضی جبکہ اصول مستقل ہوتے ہیں؟ کیا صحافتی اداروں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ بلند آواز اور جارحانہ انداز صحافت کا متبادل نہیں ہو سکتا؟ اور کیا ہم بحیثیت قوم یہ فیصلہ کر پائیں گے کہ اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کی طاقت سمجھا جائے؟
اگر ان سوالات کے جواب تلاش نہ کیے گئے تو چہرے بدلتے رہیں گے، نام بدلتے رہیں گے، مگر مسائل وہی رہیں گے۔ اور شاید یہی وہ بنیادی سبق ہے جسے سمجھنے میں ہم نے بہت زیادہ وقت ضائع کر دیا ہے۔
صحافت کے گھس بیٹھیے



