شین زین (شِنہوا) چین کے ٹیکنالوجی مرکز شین زین نے سنگاپور میں منعقدہ 10ویں ورلڈ سٹیز سمٹ کے دوران باضابطہ طور پر اربن انڈیکس آف شین زین (یوآئی ایس) کا اجرا کر دیا۔
یہ مئی میں باکو میں منعقدہ 13ویں ورلڈ اربن فورم کے بعد یو آئی ایس کا بین الاقوامی سطح پر دوسرا تعارف ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ شہری نظم ونسق کے حوالے سے چین کے تجربات تیزی سے عالمی سطح پر متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
یوآئی ایس کا مقصد ’’شین زین ماڈل‘‘ اور ’’شین زین کے تجربات‘‘ کو ایک ایسے فکری و عملی نظام کی شکل دینا ہے جو عالمی شہری نظم ونسق کے لئے رہنمائی فراہم کر سکے۔ یہ اشاریہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے تحت دنیا کے لئے چین کی جانب سے فراہم کردہ ایک بین الاقوامی عوامی خدمت تصور کیا جا رہا ہے جو پائیدار شہری ترقی کے لئے “چینی حل” پیش کرتا ہے۔
شین زین اربن پلاننگ اینڈ لینڈ ڈیویلپمنٹ ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر اور اربن انڈیکس آف شینزین (یو آئی ایس) ریسرچ سنٹر کے سربراہ شان لیانگ کے مطابق شہروں کی درجہ بندی پر زور دینے والے روایتی شہری اشاریوں کے برعکس یوآئی ایس کو ابتدا ہی سے ایک ایسا انتظامی آلہ بنایا گیا ہے جو شہروں کی پائیدار ترقی میں مدد فراہم کرے۔
ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ’’کسی شہری اشاریے کا مقصد شہروں کو نمبر دینا نہیں بلکہ انہیں خود کو بہتر طور پر سمجھنے اور ایک دوسرے سے سیکھنے میں مدد دینا ہے۔‘‘
شان لیانگ کے مطابق یوآئی ایس ایک متحرک اور کھلے ڈھانچے پر مبنی ہے جو 6 بنیادی پہلوؤں جدت، رہائش پذیری، جمالیات، لچک، انسان دوستی اور ذہانت پر توجہ دیتا ہے۔ اس کے تحت مختلف ترقیاتی مراحل اور حجم رکھنے والے 20 نمائندہ عالمی شہروں کا منظم مطالعہ اور مشاہدہ کیا جاتا ہے جن میں لندن، نیویارک اور سنگاپور جیسے عالمی مراکز کے علاوہ جکارتہ، نیروبی اور لیما جیسے تیزی سے ترقی کرنے والے شہر بھی شامل ہیں۔
سمٹ کے دوران شین زین نے یوآئی ایس گلوبل پائلٹ سٹیز آبزرویشن رپورٹ 2026 بھی جاری کی، جس میں ترقی کے مختلف مراحل سے تعلق رکھنے والے 20 شہروں کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ مساوات اور باہم سیکھنے کی بنیاد پر نتائج اخذ کئے جا سکیں۔
شین زین نے ورلڈ سٹیز سمٹ میں شہری نظم ونسق کا نیا اشاریہ متعارف کرا دیا



