بخارسٹ ،آستانہ(نیشنل ٹائمز)ایک روسی ڈرون رومانیہ کے مشرقی شہر گالاتسی میں ایک رہائشی عمارت سے جاٹکرا، جس کے نتیجے میں ایک اپارٹمنٹ تباہ ہوگیا اور آگ بھڑک اٹھی جبکہ 2 افراد زخمی ہو ئے ،اس واقعہ سے یورپی ممالک میں کھلبلی مچ گئی جبکہ نیٹو اور یورپی یونین نے اس پر شدیدردعمل کا اظہار کیا ۔تفصیلات کے مطابق یوکرین کی سرحد کے قریب واقع رومانیہ کے گالاتسی شہر میں گزشتہ روز ایک روسی ڈرون عمارت سے ٹکرا گیا۔ رومانیہ کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو روس کی جانب سے سنگین اور غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزی قرار دیا ہے ۔رومانیہ کے صدر نیکوشور دان نے کونستانتسا شہر میں تعینات روسی قونصل جنرل کو ملک بدر کرنے اور قونصل خانے کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ۔
رومانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ڈرون کو نیٹو فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی راڈار پر ٹریک کیا گیا تھا، جس کے بعد دو ایف 16 طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر فوری طور پر روانہ کئے گئے ، تاہم حکام کے مطابق ڈرون کی نشاندہی اور عمارت سے ٹکرانے کے درمیان صرف چار منٹ کا وقت تھا جس کے باعث اسے مار گرانا ممکن نہ ہوسکا۔ یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا ہے کہ روس کی جارحیت پر مبنی جنگ نے ایک اور خطرناک حد عبور کر لی ہے اور یورپی یونین رومانیہ اور اس کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے ۔نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وٹیکر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اپنے اتحادی رومانیہ کے ساتھ کھڑا ہے ۔روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک واویلا کر کے یوکرین کی جنگ سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ رومانیہ میں گرنے والا ڈرون روسی تھا یا نہیں، اس بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے ۔قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں پریس کانفرنس کے دوران پوٹن نے کہا میں نے ہال میں داخل ہونے سے پہلے سنا کہ مبینہ طور پر ہمارے ڈرون سے متعلق کوئی واقعہ پیش آیا ہے ۔کسی بھی طیارے یا ڈرون کی اصلیت کے بارے میں اس وقت تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا جب تک اس کا مکمل معائنہ نہ کر لیا جائے ۔
اگر رومانیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس اور معروضی شواہد فراہم کئے گئے تو روس اس واقعے کا جائزہ لے گا۔واضح رہے کہ 2022 میں روس یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد رومانیہ میں متعدد بار ڈرون داخل ہونے کے واقعات پیش آ چکے ہیں، تاہم کسی رہائشی عمارت سے ٹکرانے کا یہ پہلا واقعہ ہے ۔ ادھر یوکرین کے جنوبی علاقوں میں بھی رات بھر فضائی حملوں کے سائرن بجتے رہے جبکہ بحیرہ اسود میں یوکرینی تجارتی بحری جہازوں پر بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب روس کا دعوی ٰہے کہ اس نے رات بھر میں 200 سے زائد یوکرینی ڈرون مار گرائے ۔روس کے جنوبی علاقے میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک کیمیکل فیکٹری میں آگ لگ گئی جبکہ ایک 60سالہ شخص ہلاک اور ایک55سالہ خاتون شدید زخمی ہوگئی۔



