بیجنگ (شِنہوا) چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے قائم اداروں کی تعداد مسلسل تیسرے سال بڑھ کر 5 لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مجموعی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 36 کھرب امریکی ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔
چینی وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کا چینی مارکیٹ پر اعتماد برقرار ہے۔ سال 2025 کے دوران 8 ہزار سے زائد غیر ملکی کمپنیوں نے چین میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا، جو سالانہ بنیاد پر 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے جبکہ 2026 کے پہلے چار ماہ میں 3 ہزار سے زائد غیر ملکی کمپنیوں نے اپنی سرمایہ کاری بڑھائی۔
جنوری تا اپریل کے دوران ملک بھر میں غیر ملکی سرمایہ کاری والی 20 ہزار 113 نئی کمپنیاں قائم ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.8 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی عرصے میں استعمال ہونے والی حقیقی غیر ملکی سرمایہ کاری 287.69 ارب یوآن (تقریباً 42 ارب امریکی ڈالر) رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.3 فیصد کم ہے۔
ہائی ٹیک صنعتوں نے مجموعی رجحان کے برعکس نمایاں کارکردگی دکھائی، جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری 20.3 فیصد اضافے کے ساتھ 116.33 ارب یوآن تک پہنچ گئی، جو قومی مجموعی سرمایہ کاری کا 40.4 فیصد بنتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق لکسمبرگ، سوئٹزرلینڈ، فرانس اور امریکہ سے چینی مین لینڈ میں سرمایہ کاری بالترتیب 110.3 فیصد، 60.8 فیصد، 58.3 فیصد اور 24.5 فیصد بڑھی۔
وزارت تجارت نے بتایا کہ رواں سال غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ پانچ گول میز اجلاس منعقد کئے گئے، جن کے ذریعے باقاعدہ مذاکراتی چینلز کے تحت 180 سے زائد شکایات اور تحفظات کو حل کیا گیا۔
چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری والے اداروں کی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کر گئی



