اپنے دیرینہ دوست کریم جان عرف بھولا بٹ کے نام

تحریر: عابد حسین قریشی

20 مئی کا دن، آج سے نصف صدی پیچھے 20 مئی 1976 کی وہ گرم و خشک صبح بہت افسوسناک خبر لیکر آئی، جب اپنے بچپن کے دوست اور کلاس فیلو کریم جان عرف بھولا بٹ کے والد محترم انکل محمد نواز بٹ CMH کھاریاں میں گردوں کے آپریشن کے دوران صرف 44/ 45 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون، نواز بٹ مرحوم صرف چٹی شیخاں ہی نہیں بلکہ علاقہ بھر میں اپنی جسمانی طاقت کی ایک سحر انگیز شہرت رکھتے تھے۔ کبڈی میں پورے ریجن کا کوئی بڑے سے بڑا کھلاڑی بھی نواز بٹ مرحوم سے شکست کا مزا چکھے بغیر نہ جا سکا۔ مگر قدرت کی طرف سے جب بلاوا آجاتا ہے، تو سب کچھ محض یادیں ہی بن کر رہ جاتی ہیں۔ مرحوم نواز بٹ چونکہ میرے والد مرحوم کے بھی کلاس فیلو اور دوست تھے۔ اسلئے ان کے ساتھ ادب اور احترام کا رشتہ تو رہا، مگر تمہارے کلاس فیلو اور دوست ہونے کی وجہ سے مجھے وہ خصوصی پیار اور شفقت سے ملتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، کہ مارچ 1976 میں جب گردوں کا مرض انہیں اپنی گرفت میں لے چکا تھا، اور تم والی بال کے سمیشر کے طور پر بلندیوں کی طرف گامزن تھے، تو سلیم بٹ صاحب والی گراؤنڈ میں ہماری ٹیم اسد کلب کا فائنل میچ پاکستان آرمی کی ٹیم سے ہو رہا تھا۔ آپکے والد گرامی نواز بٹ صاحب ساتھ والی خالی جگہ پر چارپائی پر لیٹ کر میچ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ آپ جب بھی اچھی سمیش لگاتے تو انکی خوشی دیدنی ہوتی۔ میں بطور setter اس میچ میں کھیل رہا تھا۔ جب بھی سلیم بٹ بلاک ہوتے تو باہر سے آواز لگاتے اوئے عابد، بھولے کو کھلاو ، بھولے کو۔ یہ الگ بات ہے، کہ اس روز میجر کیانی اور حوالدار دلبر بڑے زور میں نظر آئے اور میچ کا پانسا پلٹ دیا۔ اس میچ کے دو ماہ کے اندر وہ ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ جسکا والد اس وقت فوت ہو، جب وہ خود 17/ 18 سال کا ہو، اور والی بال کا قومی کھلاڑی بھی بن چکا ہو، مگر گھر میں بڑا ہونے کے سبب ساری ذمہ داریاں ان نو عمر کندھوں پر اچانک یوں گریں، کہ سب کچھ ہی بدل گیا۔ آپ نے پہلے کافی سال سعودی عرب اور اب کیلگری کینیڈا میں جس محنت، لگن اور وقار کے ساتھ کام کیا۔اور سیلز کے شعبہ میں جو مہارت ، لگن اور ایمانداری دکھائی، کہ آپکی کمپنی نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپکو نہیں چھوڑا، جو کہ دیار غیر میں بہت کم ہوتا ہے۔ آپ نے جس ثابت قدمی سے اپنے چھ سات چھوٹے بہن بھائیوں اور اپنی بہت ہی صابر و شاکر والدہ کو بھی نہایت باوقار اور احسن انداز میں سنبھالا، یہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ میں اس ساری جد و جہد اور پر عزم سفر کا گواہ ہوں۔ آج سے 62/ 63 سال قبل چٹی شیخاں کے سکول سے شروع ہونے والی دوستی آج بھی الحمدللہ اسی رعنائی اور زیبائی سے جاری و ساری ہے۔ تمہاری دلکش جوانی، اور طالب علمانہ بانکپن سب آنکھوں کے سامنے ہے۔سکول اور کالج آتے جاتے چھوٹی موٹی شرارتیں آج بھی دل و دماغ میں پھلجھڑیاں چھوڑ دیتی ہیں۔ پیر ٹھیکری پر رات کے ڈھلتے سایوں میں تمہاری خوبصورت اور دلنشین آواز میں مکیش کے گائے گیت ” جانے کہاں گئے وہ دن کہتے تھے تیری یاد میں، نظروں کو ہم بچھائیں گے، “” آج بھی کانوں میں رس گھولتا ہے۔ اور بہت سے دوست جو اب دنیا میں نہیں رہے، یاد آتے ہیں۔ سلامت رہیں، شاد رہیں۔آباد رہیں۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم شہباز شریف 23 مئی سے چین کا سرکاری دورہ کریں گے
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے سرکاری دورے پر روانہ
اقوام متحدہ کا چارٹر کسی خودمختار ملک پر حملے کا حق نہیں دیتا: اسماعیل بقائی
بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں: وزیراعظم
مشرق وسطیٰ صورتحال پر ایران نے اپنی مذاکراتی ٹیم کا اعلان کر دیا
بلاول بھٹو کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے پہلی پورٹ بنانے کا اعلان
مذاکرات کیلئے پاکستانی وفد آج تہران پہنچ رہا، ثالثی کا کردار قابل تعریف ہے: مارکو روبیو
سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کی سینیارٹی لسٹیں ویب سائٹس پر ڈالنا لازمی قرار





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر