انجنئیر ادریس عباسی
یہ 1990 تھا،یونیورسٹی سے میں ڈگری لے چکا تھا،لاہور کو الوداع کہنا تھا، مارچ کے سہانے دن تھے،مال روڈ کی ٹھنڈی سڑک پہ میں فاروق عباسی ایڈووکیٹ کے ہمراہ واک کر رہا تھا۔ہم پاک ٹی ہاؤس سے رات کا کھانا کھا کے نکلے تھے اور وہ مجھے تمتماتے چہرے کے ساتھ بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنے والد محترم آغا میر اکبر کی کہانی سنا رہے تھے۔
آغا میر اکبر کوئ معمولی شخصیت نہ تھے،مگر بدقسمتی سے مری کی تاریخ مرتب کرنے والےکچھ ادیب دوستوں نے انکا ذکر نہ کر کے تھوڑی نا انصافی کی ہے۔
فاروق عباسی کچھ ہی برسوں بعد اللہ کو پیارے ہو گئے،میں کئی برس سوچتا رہا کبھی آغا صاحب کی ذات کے بارے میں لکھوں جو میری والدہ کے ماموں لگتے تھے،مگر سستی اور غفلت آڑے آئ۔پھر کچھ ماہ پہلے سعودیہ میں مقیم میرے کزن یاسر عباسی نے مجھے ان پہ لکھنے کا اصرار کیا اورآغا صاحب کا ایک فوٹو گراف اور ایک تحریر بھی بھیجی جو شکستہ ہے اور پڑھی نہیں جا رہی۔
پہ انیس سو بیس کا زمانہ تھا۔ پنجاب کے شمال میں مری کی پہاڑیوں سے چند کلومیٹر دور، ایک خاموش مگر خوبصورت گاؤں مسوٹ میں ایک نوجوان اپنی الگ پہچان بنا رہا تھا۔ اس نوجوان کا نام میر اکبر تھا۔ رسمی تعلیم زیادہ نہ ہونے کے باوجود وہ غیر معمولی ذہانت، وقار اور فہم رکھنے والے انسان تھے۔ اُن کی شخصیت میں ایک عجیب کشش تھی۔ خوش لباسی اُن کا جنون تھی۔ وسائل محدود تھے مگر لباس ہمیشہ نفیس، استری شدہ اور باوقار ہوتا۔ وہ گفتگو میں شائستہ، نشست و برخاست میں باوقار اور نوجوانوں کے لیے ایک مثال تھے۔ گاؤں کے لوگ اُنہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے۔ وہ ہر وقت نوجوانوں کو نظم و ضبط، محنت، جسمانی مضبوطی اور خودداری کا درس دیتے رہتے تھے۔ اُن کے نزدیک ایک مضبوط قوم صرف تقریروں سے نہیں بلکہ کردار، ڈسپلن اور قربانی سے بنتی ہے۔
اس وقت برصغیر ابھی انگریز سامراج کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا اور دنیا ایک عظیم ہلچل سے گزر رہی تھی۔ سلطنتِ عثمانیہ، جسے مسلمانانِ عالم صدیوں سے اپنی آخری بڑی خلافت اور وحدتِ امت کی علامت سمجھتے تھے، زوال کے کنارے کھڑی تھی۔ بلقان کی جنگوں، پہلی جنگِ عظیم اور یورپی طاقتوں کی سازشوں نے ترکوں کو کمزور کر دیا تھا۔ ہندوستان کے مسلمان بے چین تھے۔ مسجدوں میں خلافت کی سلامتی کی دعائیں مانگی جاتیں، عورتیں اپنے زیورات عطیہ کرتیں، نوجوان جوش و جذبے سے خلافت کی حمایت میں نکل کھڑے ہوتے۔ یہی وہ دور تھا جب ہزاروں مسلمانوں نے “تحریکِ ہجرت” کے تحت اپنے گھربار چھوڑے اور افغانستان کے راستے ترکی جانے کی کوشش کی تاکہ خلافتِ عثمانیہ کی مدد کر سکیں۔
جب خلافتِ عثمانیہ پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹا اور برصغیر میں ہجرت کی لہر اٹھی تو میر اکبر بھی خاموش نہ بیٹھ سکے۔ اُنہوں نے اپنے چند رفقاء کے ساتھ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کوئی آسان سفر نہ تھا۔ اُس زمانے میں نہ پکی سڑکیں تھیں، نہ جدید گاڑیاں، نہ آرام دہ سفر۔ وہ کبھی پیدل چلتے، کبھی کھچروں اور گدھوں پر سفر کرتے، کبھی پرانی لاریوں میں دھکے کھاتے ہوئے افغانستان کی طرف بڑھے۔ پہاڑ، درے، بھوک، سردی اور بے یقینی اُن کے ساتھی تھے، مگر دل میں خلافتِ عثمانیہ کے دفاع کا جذبہ روشن تھا۔ کئی ہفتوں کے صبر آزما سفر کے بعد وہ ترکی کے محاذوں تک پہنچے جہاں ترک مجاہدین اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔
وہاں میر اکبر نے ترک سپاہیوں کے ساتھ شانہ بشانہ لڑائی میں حصہ لیا۔ جنگ کے میدانوں میں اُنہوں نے بہادری، استقامت اور جرات کا مظاہرہ کیا۔ روایت ہے کہ اُن کی شجاعت سے متاثر ہو کر ترک کمانڈروں نے اُنہیں آغا کے خطاب سے نوازا۔ یہ صرف ایک لقب نہ تھا بلکہ اُس زمانے میں عزت، جرات اور قیادت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ آغا میر اکبر نے تقریباً دو برس تک ترکی میں قیام کیا۔ انہوں نے ایک ایسی سلطنت کے آخری دن دیکھے جو کبھی تین براعظموں پر حکومت کرتی تھی۔ انہوں نے جنگ کی تباہ کاریاں بھی دیکھیں اور ترک قوم کا عزم بھی۔ پھر ایک دن وہ واپس اپنے آبائی علاقے مسوٹ لوٹ آئے، مگر اب وہ آغا میر اکبر تھے۔ اُن کی شخصیت میں جہاد، سفر اور قربانی کی داستانیں رچ بس چکی تھیں۔
انیس سو اکتیس میں جب علامہ عنایت اللہ مشرقی نے خاکسار تحریک کی بنیاد رکھی تو آغا میر اکبر فوراً اس تحریک کی طرف متوجہ ہوئے۔ علامہ مشرقی مسلمانوں میں نظم و ضبط، قربانی، خودی اور عملی جدوجہد پیدا کرنا چاہتے تھے۔ خاکی وردی، ہاتھ میں بیلچہ، فوجی انداز کی مارچ اور سخت ڈسپلن اس تحریک کی پہچان تھے۔ آغا میر اکبر نے محسوس کیا کہ یہی وہ راستہ ہے جو نوجوان نسل کو بیدار کر سکتا ہے۔ انہوں نے خاکسار تحریک میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی تحریک کےتحصیل مری کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔
مسوٹ کی وادیوں میں پھر ایک نیا منظر دکھائی دینے لگا۔ نوجوان خاکی وردیاں پہنے، ہاتھوں میں بیلچے اٹھائے، قطاروں میں مارچ کرتے نظر آتے۔ صبح کے وقت پہاڑوں میں بگل کی آواز گونجتی تو نوجوان جمع ہونا شروع ہو جاتے۔ اس بگل کی ذمہ داری مسوٹ کی مشہور شخصیت ملک فراز کے سپرد تھی۔ جیسے ہی وہ بگل بجاتے، خاکسار نوجوان اکٹھے ہو جاتے اور پھر مارچ پاسٹ، جسمانی ورزشیں اور تربیتی سرگرمیاں شروع ہوتیں۔ آغا میر اکبر اُنہیں ڈسپلن، وقت کی پابندی، قربانی اور قومی خدمت کا درس دیتے۔ اُن کی قیادت میں یہ تحریک صرف ایک سیاسی سرگرمی نہ رہی بلکہ نوجوانوں کی کردار سازی کی تحریک بن گئی۔
دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں بھی آغا میر اکبر متحرک رہے۔ برصغیر کی سیاست تیزی سے بدل رہی تھی۔ آزادی کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ مسلمانوں میں الگ وطن کے مطالبے کی بازگشت بلند ہو رہی تھی۔ آغا میر اکبر بھی اُن لوگوں میں شامل تھے جو اپنی قوم کو منظم، باوقار اور خوددار دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے علاقے کے نوجوانوں میں شعور اور اجتماعی سوچ پیدا کرنے کی کوشش جاری رکھی۔وہ ایک وژنری شخصیت تھے۔قیامِ پاکستان کے عمل کے دوران بھی وہ سرگرم رہے۔وہ اپنے آخری ایام تک مصروف عمل رہے ۔ایک روایت کے مطابق وہ ایوب خان کے دور میں بی ڈی ممبری کے انتخاب بھی لڑے اور اپنے مد مقابل روات کے راجہ کالا خان سے جیتے۔
آج اگر مسوٹ کی تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو آغا میر اکبر کا نام صرف ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک عہد، ایک جذبے اور ایک داستان کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو مری کی پہاڑیوں سے اٹھا، خلافتِ عثمانیہ کے دفاع کے لیے ہزاروں میل دور جا پہنچا، آغا کا خطاب لے کر واپس آیا، اور پھر اپنی قوم کے نوجوانوں میں نظم و ضبط اور خودداری کی شمع روشن کرتا رہا۔
زندگی کے آخری کچھ سالوں میں وہ گاؤں کے نوجوانوں کو اس وقت کے جدید زرعی اصولوں کے تحت کھیتی باڑی کی تلقین بھی کرتے رہے۔
آغا صاحب کی اولاد اس وقت کے لحاظ سے پڑھی لکھی نکلی۔بڑے صاحبزادے سردار عبد الطیف عباسی ایڈووکیٹ تھے،ان سے چھوٹے نذر عباسی ائیر فورس میں ونگ کمانڈر تھے،پھر فاروق عباسی ایڈووکیٹ تھے اور سب سے چھوٹے ذولفقار عباسی نے فوٹو گرافر کا پیشہ اپنایا ۔سب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں،
اللہ ان تمام ہستیوں کو غریق رحمت کرے۔علامہ عنایت اللہ مشرقی کا اپنا مزار اچھرہ لاہور میں ہے۔آغا صاحب ان کے دست راست تھے،وہ مسوٹ میں مدفون ہیں۔ترکی میں حضرتِ ایوب انصاری سے ملحقہ تاریخی قبرستان میں ترکی کے مشاہیر کے مقبرے ہیں۔ہر عظیم شخصیت کی قبر پہ نصب چار فیٹ بلند کتبہ صاحب قبر کی پوری ہسٹری بیان کرتا ہے۔ہماری حکومت کو بھی چاہیے تھا ایسی تاریخی ہستیوں کے مزارات تعمیر کرتی ،ان کی خدمات پہ کتبے لگاتی،مگر یہاں تو اقتدار کی جنگیں ہی ختم نہیں ہوتی،تاریخ پہ توجہ کس نے دینی ہے۔
یاسر نے بتایا کہ نذر عباسی کی صاحبزادی چینا آپا مسوٹ گاؤں کے آبائ مکان میں 2020 سے قیام پذیر ہیں۔ آج ان سے تین دہائیوں بعد رابطہ ہوا۔ٹیلیفون پہ لمبی گفتگو ہوئ،وہ ایک بہادر دادا کی پوتی اور بہادر باپ کی بیٹی ہیں۔تن تنہا اکیلے رہتے ہوئے ہر وقت یاد الٰہی میں مصروف رہنا اور گاؤں کے نوجوانوں کو ہندو نصائح کرنا،اب یہی ان کی زندگی کا مقصد ہے۔آغا صاحب اپنی ذات میں بے مثال تھے،ان کی پوتی بھی بے مثال ہے،یہ خاندان مسوٹ گاؤں میں اپنے وقتوں سے کئی دہائیاں آگے تھا، چینا آپا سے گفتگو کے دوران بھی یہی لگا،وہ بھی اپنی ہم عصر خواتین سے میلوں آگے ہیں،آغا صاحب کے وژن کو بھی ان کے ہم عصر نہیں سمجھ پائے تھے ،ان کی پوتی کو بھی سمجھنے کے لئے شائید مدتیں چاہئیں۔



