الزامات کی سیاست اور ریاستی نقصان

تاثرات: مظہر طفیل

بے بنیاد بیانیے، عوامی ہیجان اور ادارہ جاتی بحران کی داستان

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں سیاسی اختلاف کو اکثر ذاتی دشمنی، الزام تراشی اور اداروں کے خلاف بیانیہ سازی میں بدل دیا جاتا رہا ہے۔ اقتدار کے حصول کی جنگ میں سیاسی جماعتیں اور شخصیات بعض اوقات ایسے الزامات عائد کر دیتی ہیں جن کے نتائج صرف سیاسی نہیں بلکہ قومی سطح پر انتہائی تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران “الزامات کی سیاست” ایک مستقل سیاسی ہتھیار بن چکی ہے۔ اس طرزِ سیاست نے نہ صرف قومی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ معیشت، معاشرت اور عوامی نفسیات کو بھی شدید متاثر کیا۔ پاکستان میں الزام تراشی کی سیاست کا سب سے نمایاں باب اُس وقت کھلا جب سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کے دور میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسلم لیگ نون کی حکومت “پینتیس پنکچر” کی پیداوار ہے۔ یہ ایک ایسا الزام تھا جس نے پورے انتخابی عمل، الیکشن کمیشن، انتظامیہ اور ریاستی اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے۔ بعد ازاں یہی الزام ایک وسیع سیاسی تحریک کی بنیاد بن گیا۔ جلسوں، دھرنوں، تقاریر اور میڈیا مہم کے ذریعے یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ ملک میں جمہوری عمل چوری شدہ مینڈیٹ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ اس کے اثرات پاکستان کے ریاستی ڈھانچے پر براہِ راست مرتب ہوئے۔ ملک میں احتجاجی سیاست کا ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس نے قومی معیشت کا پہیہ جام کر دیا۔ اسلام آباد دھرنے نے کئی ماہ تک دارالحکومت کو مفلوج کیے رکھا۔ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، سرمایہ کار خوفزدہ ہوئے، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا تاثر کمزور ہوا اور سرکاری اداروں کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی اجیرن بن گئی۔ سڑکیں بند، دفاتر متاثر، تعلیمی سرگرمیاں معطل اور قومی نفسیات انتشار کا شکار ہو گئیں۔ اس دوران عوام کے اندر ایک جذباتی اور ہیجانی کیفیت پیدا کی گئی۔ لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ ریاستی نظام مکمل طور پر بدعنوان ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ بجلی کے بل نہ جمع کرائے جائیں بلکہ انہیں پھاڑ دیا جائے۔ ریاست کے خلاف عوامی نفرت اور عدم اعتماد کو سیاسی قوت میں بدلنے کی کوشش کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں قانون اور اداروں کے احترام کا تصور کمزور پڑنے لگا۔ عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ ہر ادارہ کسی نہ کسی سازش یا بدعنوانی میں ملوث ہے۔ بعد ازاں جب معاملے کی تحقیقات ہوئیں تو عمران خان خود اپنے “پینتیس پنکچر” کے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ انہیں یہ بات بتائی گئی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اُس دوران جو نقصان ہو چکا تھا، اُس کا ذمہ دار کون تھا؟ کیا محض ایک سیاسی بیان واپس لینے سے وہ معاشی اور نفسیاتی تباہی ختم ہو گئی جو پورے ملک نے برداشت کی؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان آج بھی اُس سیاسی انتشار کے اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکا۔ معیشت مسلسل دباؤ کا شکار رہی، سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوا اور اداروں پر عوامی اعتماد کمزور ہوتا گیا۔ الزامات کی سیاست کا یہی رجحان آج ایک نئے انداز میں دوبارہ سامنے آتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد کے گرینڈ حیات ہوٹل اور آئینی شاہراہ کے اطراف قائم رہائشی منصوبے کے خلاف کارروائی کے بعد اشرافیہ کے ایک حلقے نے جس انداز میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، وہ بھی اسی سیاسی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔ جب حکومتی اداروں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ عمارت غیر قانونی ہے اور وہاں مقیم افراد کو جگہ خالی کرنا ہوگی تو اس فیصلے کے خلاف ایک منظم مہم شروع کر دی گئی۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ماضی میں اسلام آباد کی کچی آبادیوں اور ناجائز قابضین کے خلاف کارروائیاں درست تھیں تو پھر اشرافیہ کے لیے الگ اصول کیوں ہوں؟ ریاست اگر غریب کے خلاف قانون نافذ کرے تو وہ جائز اور اگر طاقتور طبقے کے خلاف کارروائی ہو تو اسے ظلم اور زیادتی قرار دے دیا جائے، یہ دوہرا معیار کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ ہر شخص، ہر طبقہ اور ہر طاقتور گروہ قانون کے سامنے برابر ہو۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کے وہ الزامات ہیں جو انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور بعض ریاستی اداروں کے خلاف عائد کیے۔ ابصار عالم نے دعویٰ کیا کہ سندھ سے جہاز بھر بھر کر ڈالروں کی اسمگلنگ ہو رہی ہے اور یہ رقم بیرون ملک منتقل کی جا رہی ہے۔ یہ کوئی معمولی الزام نہیں بلکہ پاکستان کے پورے مالیاتی، ہوابازی، کسٹمز، ایف آئی اے، امیگریشن اور سیکیورٹی نظام پر براہِ راست سوال ہے۔ اگر واقعی اربوں ڈالرز ملک سے اسمگل ہو رہے ہیں تو یہ ایک قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہوائی اڈوں پر تعینات وفاقی ادارے کیا کر رہے ہیں؟ کسٹمز، ایف آئی اے، امیگریشن اور دیگر ادارے کہاں ہیں؟ کیا یہ سب ملی بھگت کا حصہ ہیں؟ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اتنا سنگین الزام بغیر ثبوت کے کیوں لگایا گیا؟ ابصار عالم کو اگر واقعی ایسے ناقابلِ تردید شواہد حاصل تھے تو انہیں فوری طور پر سامنے لانا چاہیے تھا۔ انہیں چاہیے تھا کہ متعلقہ اداروں کو دستاویزی ثبوت فراہم کرتے، عدالتوں سے رجوع کرتے یا عوام کے سامنے ناقابلِ انکار شواہد رکھتے۔ لیکن اگر یہ محض جذباتی ردِعمل، سیاسی غصہ یا دباؤ پیدا کرنے کی کوشش تھی تو پھر یہ عمل انتہائی خطرناک ہے۔ کیونکہ اس طرح کے بیانات نہ صرف اندرونِ ملک اداروں پر عوامی اعتماد ختم کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ دنیا آج مالیاتی نگرانی کے ایک سخت نظام کے تحت چل رہی ہے۔ اگر پاکستان کے اندر سے یہ بیانیہ ابھرے کہ اربوں ڈالر کھلے عام اسمگل ہو رہے ہیں اور ریاستی ادارے اس میں ملوث یا خاموش ہیں تو بین الاقوامی مالیاتی ادارے، عالمی نگرانی کے فورمز اور پاکستان کو قرض دینے والے ممالک اس پر یقین بھی کر سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے مالیاتی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ بیرونی سرمایہ کار خوفزدہ ہو سکتے ہیں جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈا تیز ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان دشمن عناصر اور بیرون ملک بیٹھے بعض یوٹیوبرز اور پراپیگنڈا گروہ ہمیشہ ایسے بیانات کی تلاش میں رہتے ہیں جنہیں استعمال کر کے پاکستان کے اداروں کو بدنام کیا جا سکے۔ جب ملک کے اندر سے ہی بااثر شخصیات بغیر ثبوت کے اس نوعیت کے الزامات عائد کریں گی تو دشمن قوتوں کو پاکستان کے خلاف مواد فراہم ہوگا۔ یہ عمل محض ایک سیاسی اختلاف نہیں رہتا بلکہ قومی مفادات کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ خاموشی اختیار کر کے حالات کا مشاہدہ کرتے رہیں۔ اگر کوئی شخص اتنے سنگین الزامات عائد کرتا ہے تو دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو اس کے پاس ثبوت موجود ہیں، پھر ان ثبوتوں کی بنیاد پر فوری تحقیقات اور کارروائی ہونی چاہیے۔ یا پھر اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص محض سیاسی یا ذاتی غصے میں قومی اداروں کو بدنام کرنے کی جرأت نہ کرے۔ یہ مسئلہ محض ابصار عالم یا کسی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک خطرناک سیاسی رویے کا ہے جو پاکستان میں مسلسل مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ ہر شخص بغیر ثبوت الزام لگا دیتا ہے، سوشل میڈیا پر مہم چل جاتی ہے، ادارے کٹہرے میں کھڑے کر دیے جاتے ہیں اور عوام کے ذہنوں میں بداعتمادی بھر دی جاتی ہے۔ بعد میں اگر الزام غلط ثابت ہو بھی جائے تو اُس وقت تک قومی نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ پاکستان اس وقت جن معاشی اور سیاسی مشکلات کا شکار ہے، اُن میں ایک بڑا سبب یہی مسلسل عدم استحکام، الزام تراشی اور اداروں کے خلاف نفسیاتی جنگ بھی ہے۔ دنیا کے کامیاب ممالک میں سیاسی اختلاف ضرور ہوتا ہے مگر قومی اداروں کو تباہ کر کے سیاست نہیں کی جاتی۔ وہاں ثبوت کے بغیر الزامات کو سنجیدہ جرم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ریاست کی ساکھ کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ پاکستان کو آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ سیاسی اور سماجی سطح پر ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دیا جائے۔ آزادیٔ اظہار ہر شہری کا حق ہے مگر یہ آزادی کسی کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ بغیر ثبوت پورے ریاستی نظام کو کرپٹ قرار دے دے۔ اگر الزامات درست ہیں تو ثبوت سامنے آئیں اور کارروائی ہو۔ اگر الزامات غلط ہیں تو قانون حرکت میں آئے۔ یہی کسی مہذب ریاست کا اصول ہوتا ہے۔ ریاستی اداروں کو بھی اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایسے معاملات پر خاموش رہیں گے یا ایک واضح قانونی مثال قائم کریں گے۔ کیونکہ اگر آج بھی بے بنیاد الزامات کو نظر انداز کیا گیا تو کل ہر شخص سوشل میڈیا یا ٹی وی پر بیٹھ کر کسی بھی ادارے، وزیر یا قومی نظام کے خلاف من گھڑت دعوے کرنا شروع کر دے گا۔ اس کا نتیجہ صرف ایک ہوگا: ریاستی کمزوری، عوامی بداعتمادی اور قومی انتشار۔ پاکستان مزید انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ ملک پہلے ہی معاشی دباؤ، سیاسی تقسیم اور عالمی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ ایسے وقت میں الزام تراشی کی سیاست آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ قومی مفاد اسی میں ہے کہ اختلاف کو ثبوت اور قانون کے دائرے میں رکھا جائے، نہ کہ جذباتی بیانیوں اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے پورے ریاستی نظام کو متنازع بنایا جائے۔



  تازہ ترین   
امریکہ، ایران مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہوں گے: امریکی اخبار
پاکستان نے مغربی کنارے اسرائیلی اقدامات کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیدیا
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
قطری وزیراعظم و امریکی نائب صدر کی ملاقات، سٹریٹجک تعاون بارے گفتگو
ایران سے جلد جواب ملنے کی توقع ہے: امریکی صدر پر امید
آئی ایم ایف کا پاکستان سے ٹیکس نیٹ، بجلی، گیس، پٹرولیم کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ
امریکہ نے ایران کی مدد کے الزام میں 10 افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں
پاکستان نے مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرنے کا مشورہ دیا: ٹرمپ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر