لاہور (نیشنل ٹائمز) دنیا میں وہی اقوام ترقی کرتی ہیں جو اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں اور ان کی زندگیوں کو مشعلِ راہ بناتی ہیں۔ ایسی شخصیات میں ایک حکیم حامد نور نظامی ہیں جو ماہِ رمضان المبارک میں نزولِ قرآن کی مبارک ساعتوں میں 27 رمضان کی شب اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔ وہ ایک محبت کرنے والے، ادب، حکمت اور روحانیت کا حسین امتزاج تھے۔ ان کا تعلق ایسے خانوادہ سے تھا جس کی جڑیں اولیا سے جڑی ہوئی تھیں۔ وہ ایک بلند پایہ طبیب تھے۔


ان خیالات کا اظہار جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے حکیم حامد نظامی، صدر پائم، کے لیے پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن کے زیر اہتمام ہمدرد مرکز لاہور میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر حکیم عبدالحنان، صدر پائم نے کی۔
اس موقع پر حکیم راحت نسیم سوہدروی، حکیم بشیر بھیروی، حکیم فضل امین، حکیم صابر شاہ، حکیم قیصر گھمن، حکیم عثمان چشتی، حکیم پروفیسر میاں سعید، حکیم صغیر خان، حکیم نوید یوسف، حکیم حافظ احسان الرحمن، حکیم سلیم الحسن سلیمی، پروفیسر عمر توصیف دھول، متین کاشمیری، حکیم سجاد زخمی، حکیم اقبال بلوچ، معروف تجزیہ کار عبدالباسط خان اور حکیم جہانگیر سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا، جبکہ نظامت کے فرائض حکیم حارث نسیم نے سرانجام دیے۔
مقررین نے کہا کہ حکیم حامد نظامی نے شہید حکیم سعید کے رفیق کی حیثیت سے زندگی بھر فروغِ طب کے لیے جدوجہد کی اور ان کے فکری جانشینوں کے ہراول دستے میں شامل رہے۔ وہ ایک صاحبِ فکر و نظر طبیب اور دانشور تھے۔ ان کے انتقال سے طب کی دنیا میں بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پائم کی تنظیم کو مضبوط بنانے، حکما کو متحد و منظم کرنے اور طب کو حیاتِ نو بخشنے کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ طب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے فکرِ سعید کے مطابق پائم کی جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے۔
آخر میں حکیم حامد نظامی، حکیم زبیر گیلانی اور حکیم خلیق الرحمن کے لیے بلندیٔ درجات اور مغفرت کی دعا کی گئی۔



