لاہور (نیشنل ٹائمز)پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے غیر مجاز کلینیکل پریکٹس کو غیر قانونی قرار دیدیا۔پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے اتائیت کے بڑھتے رجحان پر وزارتِ صحت کو جاری مراسلہ میں فارماسسٹ، سائیکالوجسٹ اور ڈینٹل ٹیکنیشنز کی کلینیکل پریکٹس کو غیر قانونی قرار دیدیا اور کہا کہ اتائیت سے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس پھیلنے کا خدشہ ہے ، تشخیص اور علاج صرف مستند ڈاکٹرز اور ڈینٹسٹس کا اختیار ہے ۔ پی ایم ڈی سی نے مزید کہا کہ رجسٹرڈ ڈاکٹرز اور ڈینٹسٹس ہی ایلوپیتھک علاج کر سکتے ہیں، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز دوا تجویز نہیں کر سکتے ،اس طرح کی غیر مجاز پریکٹس انسانی جانوں کیلئے خطرہ ہے ۔پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کو فوری طور پر ایسی پریکٹس روکنے کی ہدایت کردی ۔ پی ایم ڈی سی نے ایڈز و ہیپاٹائٹس سی جیسی مہلک بیماریوں میں خطرناک اضافہ پر اتائیت کی روک تھام کیلئے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی غیر مجاز کلینیکل پریکٹس پر فوری کارروائی کی بھی ہدایت کر دی اور کہا کہ پیشہ ورانہ غفلت اور ناقص نگرانی بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے۔
الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کو ادویات کی تجویز اور سرجری پر مکمل پابندی ہے ،وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں ،محکمہ صحت خلاف ورزیوں کے سدباب کیلئے ہنگامی اقدامات کرے ۔دوسری طرف پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن (پی پی اے )نے پی ایم ڈی سی کی طرف سے فارماسسٹ کی پریکٹس کو غیر قانونی قرار دئیے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ، اس حوالے سے ایسوسی ایشن کے صدر راؤ عالمگیر نے اپنی سربراہی میں گزشتہ روز ہنگامی اجلاس میں کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ، فارماسسٹ کا دائرہ اختیار قانون سے طے شدہ ہے ، فارم ڈی تسلیم شدہ پروفیشنل ڈگری ہے اور ڈاکٹر لکھنے کا استعمال جائز ہے ، شور نہیں سنیں گے کیونکہ پہلے ہی فارماسسٹ کی سرکاری ہسپتالوں میں کلینیکل پریکٹس جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فارمیسی کا تمام دائرہ اختیار مکمل طور پر قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق ہے ، کوئی بھی تشریح قانون سے بالاتر نہیں ،غلط تشریحات، افواہوں اور پروپیگنڈے کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے ، ہم پی ایم ڈی سی کے ہر اس اقدام کی مخالفت کرتے ہیں جس سے فارماسسٹ کی ساکھ متاثر ہو۔



