پاک -چین کہانیاں| چین میں کاروبار کا گھر جیسا احساس:پاکستانی تاجر آر سی ای پی ایکسپو میں مواقع تلاش کر رہے ہیں

جینان (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ کے شہر لین یی میں منعقدہ پانچویں آر سی ای پی امپورٹ ایکسپو میں شرکت کرنے والے جواہرات کے 53 سالہ پاکستانی کاریگر راؤ توحید احمد کا کہنا ہے کہ میں 20 سال سے زائد عرصے سے چینی گاہکوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔ ہم نہ صرف چینی مارکیٹ میں قدم جما رہے ہیں بلکہ ہم چین اور پاکستان کے درمیان گہری آہنی برادر دوستی کو بھی حقیقی معنوں میں محسوس کر رہے ہیں۔جب شِنہوا کے نامہ نگاروں نے ان کے بوتھ کا دورہ کیا تو راؤ اور ان کا بیٹا اپنی نمائشی اشیاء ترتیب دینے میں مصروف تھے۔ ایک ڈسپلے ریک پر قیمتی پتھر کے شاندار فن پارے موجود تھے جو پاکستان کے منفرد ثقافتی حسن کی عکاسی کر رہے تھے۔ راؤ نے جوش و خروش سے اپنی مصنوعات کا تعارف کرواتے ہوئے کہا یہ صرف آرائشی نمونے نہیں ہیں۔ اس نفیس بوتل کو دیکھیں اسے گلدان کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ لمبا پیالہ پانی کا کپ بن سکتا ہے اور یہ بڑا کپ بہترین پین ہولڈر کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے ان اشیاء کو روشنی کے نیچے رکھا تاکہ ان کے پیچیدہ ڈیزائن اور ہموار ساخت کو نمایاں کیا جا سکے۔راؤ نے بتایا کہ چین کے ساتھ ان کا تعلق 2010 میں صوبہ یون نان کے شہر کونمنگ میں ہونے والی چائنہ-ساؤتھ ایشیا ایکسپو سے شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد سے وہ مستقل طور پر چین بھر میں آر سی ای پی ایکسپو سمیت مختلف نمائشوں میں شرکت کرتے آ رہے ہیں۔ راؤ نے کہا کہ میں کئی ممالک گیا ہوں، لیکن چین سب سے زیادہ مانوس محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سال کے آٹھ سے نو ماہ چین میں گزارتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ آر سی ای پی ایکسپو ان کے کاروبار کو چین میں مزید وسعت دینے اور زیادہ سے زیادہ چینیوں کو پاکستانی ثقافت سے روشناس کرانے میں مدد دے گی۔پانچویں آر سی ای پی (شان ڈونگ) امپورٹ ایکسپو، جو 20 سے 22 اپریل تک شان ڈونگ لین یی انٹرنیشنل ایکسپو سنٹر میں منعقد ہوئی، 35 ہزار مربع میٹر کے نمائشی رقبے پر محیط تھی۔ اس ایونٹ میں 18 قومی پویلین اور 1200 بوتھ لگائے گئے، جس میں 400 سے زائد بین الاقوامی سپلائرز اور 5300 سے زائد مقامی و غیر ملکی خریداروں نے شرکت کی۔ ایکسپو میں چائنہ-آسیان ایکسپو گروپ پر توجہ مرکوز کی گئی اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور آسیان ممالک کے لئے ایک جامع نمائشی علاقہ قائم کیا گیا جس نے اس ایونٹ کی بین الاقوامی حیثیت کو مزید بڑھا دیا۔راؤکے بوتھ سے کچھ ہی فاصلے پر کراچی سے تعلق رکھنے والے “رائل فریئرز” کے جنرل منیجر عمران عباسی گاہکوں کی میزبانی میں مصروف تھے۔ یہ آر سی ای پی ایکسپو میں ان کی تیسری شرکت تھی۔ اس بار وہ اپنے خاندانی کاروبار کے تیار کردہ چمڑے کے جیکٹس، ٹوپیاں اور بیگ لے کر آئے۔ عمران نے کہا کہ لین یی میں مارکیٹ کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور یہاں ان گنت مواقع ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس نمائش کے ذریعے ہماری فروخت میں اضافہ ہو گا۔2014 میں چین کے اپنے پہلے دورے کے بعد سے عمران چھنگ ڈاؤ، کونمنگ اور چھنگ دو جیسے کئی شہروں کا سفر کر چکے ہیں۔ وہ اب اپنا آدھا وقت چین میں گزارتے ہیں۔ چینی مارکیٹ کی کشش کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ چین کاروبار کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے اور عالمی تاجروں کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں جس نے چین اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے درمیان تجارت کو بہت فروغ دیا ہے۔چین میں برسوں سے کام کرنے والے راؤ اور عمران کے برعکس 31 سالہ محمد صدیق افضل چینی مارکیٹ میں نئے ہیں۔ وہ رواں سال کے آغاز میں لین یی پہنچے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد صدیق افضل نے کئی سال تک چین میں تعلیم حاصل کی ہے۔ روانی سے چینی زبان بولنے کی وجہ سے انہیں لین یی کی ایک غیر ملکی تجارتی کمپنی نے پروجیکٹ منیجر کے طور پر ملازمت دی ہے جو لین یی سے لباس، اشیائے خورونوش، پینل مصنوعات اور صنعتی سامان عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے کے ذمہ دار ہیں۔اس سال کی آر سی ای پی ایکسپو میں محمد صدیق افضل کو مختلف ممالک کے نمائش کنندگان کے ساتھ بات چیت کرتے اور تعاون کے مواقع تلاش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میں نے اپنے کیریئر کے آغاز کے لئے لین یی کا انتخاب کیا کیونکہ یہاں مصنوعات کی وسیع اقسام اور ایک ترقی یافتہ لاجسٹکس سسٹم موجود ہے۔ گزشتہ 40 سالوں میں لین یی چین کے سب سے بڑے پیشہ ورانہ ہول سیل مارکیٹ کلسٹر کے ساتھ ساتھ چین کے شمالی صوبے کے سب سے بڑے لاجسٹک ڈسٹری بیوشن سنٹر کے طور پر ابھرا ہے۔ اس مارکیٹ میں 27 بڑی کیٹیگریز اور 60 لاکھ سے زیادہ اقسام کا سامان دستیاب ہے۔محمد صدیق افضل نے انکشاف کیا کہ انہیں صنعتی اور زرعی شعبوں میں پاکستانی کاروباری اداروں کی جانب سے تعاون کی متعدد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ مستقبل میں وہ تعاون کے ان امکانات کے ساتھ چین کے کئی شہروں کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان رابطے اور تعاون کے پل تعمیر کئے جا سکیں۔محمد صدیق افضل نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آپ حقیقی معنوں میں ایک مستحکم صنعتی سلسلہ اور متحرک ترقی کو محسوس کر سکتے ہیں، جو کاروباری اداروں کے درمیان باہمی فائدے کے تعاون کے لئے مزید مواقع فراہم کرتی ہے۔



  تازہ ترین   
پاکستان میں امریکا–ایران مذاکرات 36 سے 72 گھنٹوں میں متوقع، ڈونلڈ ٹرمپ
وزیراعظم سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات، امن کوششوں پر تبادلہ خیال
پاکستان کا مذاکرات کا دوسرا دور یقینی بنانے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دیں گے: عطاء اللہ تارڑ
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
وزیراعظم کا جنگ بندی توسیع کی درخواست قبول کرنے پر ٹرمپ سے اظہار تشکر
جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر