سرکار کے دربار کی گیدڑ سنگھی !

تحریر: طاہرہ کاظمی

ہم نے سرکار کی نوکری اٹھارہ برس کی اور ان برسوں میں جب بھی سیکریٹریٹ جانے کی ضرورت پڑی… ہمیں لرزہ چڑھ گیا ، ٹانگیں کانپنے لگیں ، رنگت پیلی پڑ گئی ، ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے اور ہم صاحب کے گوڈے گٹوں کو ہاتھ لگانے پہنچ گئے کہ خدارا ہمارے ساتھ چلیں …

مگر کیوں ؟ وہ جھنجھلا کر جواب دیتے ۔

تمہارا دفتر ، تمہارا کام … تم خود ہی جاؤ تو بہتر ہے …

آپ نہیں جانتے ، واللہ آپ نہیں جانتے … ہم گڑگڑاتے …

کیا نہیں جانتا … وہ مزید چڑ جاتے ۔

آپ … آپ کے پاس … گیدڑ سنگھی ہے .. ہم زیرلب کہتے ۔

گیدڑ سنگھی … کیا کہہ رہی ہو بھئی … وہ آنکھیں پھیلا کر کہتے ۔

ٹھیک کہہ رہی ہوں .. آپ کے پاس ایک ایسی گیدڑ سنگھی ہے جو گ چوکیدار وں ، چپڑاسیوں اور کلرکوں کو باز رکھ سکتی ہے …

کس بات سے باز … وہ مزید حیران ہوتے ۔

ڈاکٹروں کو دھکے دینے سے … ہم دل گرفتہ ہو کر کہتے ۔

کیا کہہ رہی ہو ؟ گیٹ چوکیدار اور دفتر چپراسی ؟ ڈاکٹرز کو بھلا دھکے کیسے دے سکتے ہیں …

دیتے ہیں … بہت دیتے ہیں … ہم نم آنکھوں سے کہتے ۔ ہمارے ساتھ چلیں اور دیکھ لیں … سیکرٹیریٹ کے گیٹ پہ کھڑے چوکیدار دوپہر بارہ ایک سے پہلے کسی ڈاکٹر کو اندر گھسنے نہیں دیتے … اگر کوئی اس وقت بھاگ کے گھس جائے جب وہ افسران کی جھنڈا لگی گاڑیوں کے لیے گیٹ کھولتے ہیں ، تب ہیلتھ برانچ کا چپراسی اندر گھسنے نہیں دیتا کہ صاحب نے منع کیا ہے … سیکریٹریٹ میں ڈاکٹرز کے ساتھ جوکچھ ہوتا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ناحق ڈاکٹر بنے … بہتر تھا سی ایس ایس کر لیتے … سرکاری کار میں آتے ، سب اُٹھ اُٹھ کر سلام کرتے اور ہم نخوت سے کسی کو جواب نہ دیتے ہوئے کمرے میں گھس جاتے جہاں ہمارا چپراسی کسی کو ہماری ہوا نہ لگنے دیتا … پائپ پیتے ، گپیں لگاتے ، فون پہ کلب جانے کا پروگرام بناتے ، اگر کوئی ڈاکٹر اندر جھانکنے کی کوشش کرتا تو ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیتے … ہم نے دلگیر لہجے میں کہا ۔

اچھا وہ گیدڑ سنگھی … ان کی سوئی وہیں پہ اٹکی تھی ۔

آپ ساتھ چلنے کا وعدہ کریں ، پتا چل جائے گا … ہم نے موقعے سے فائدہ اٹھایا ۔

اوکے … چلتے ہیں بھئی ..

ہممم … آپ کو یونی فارم میں جانا پڑے گا .. ہم نے کہا ۔

یونی فارم … ؟ وہ کس لیے بھئی ؟ تمہارا دفتر ہے ، میرا تو نہیں …

وہ جھجھلائے ۔

وہی تو گیدڑ سنگھی ہے … ہم مسکرائے ۔

صاحب کی آنکھیں کچھ پھیل گئیں … بھولے بادشاہ جو ٹھہرے ۔

مقررہ دن پہ ہم سیکرٹیریٹ گئے … صاحب فوجی یونی فارم میں … گیٹ یوں کھلا جیسے کھل جا سم سم …

بہت سے ڈاکٹرز نے ہمیں داخل ہوتا دیکھ کر حسرت کی نگاہ سے دیکھا ۔

ہیلتھ برانچ پہنچے … بلڈنگ کے دروازے پہ چپراسی پہریدار … ہر کسی کو انگلی کے اشارے سے یوں ہش ہش کرے جیسے آوارہ کتے کو ہٹایا جاتا ہے …جونہی صاحب کی یونی فارم کی جھلک نظر آئی … دروازہ ایک سیکنڈ میں کھل گیا، آئیے سر جی … سر جی نے فاتحانہ نظروں سے ہمیں دیکھا اور اندر داخل ہوئے … ستم دیکھیے کہ ان کے پیچھے پیچھے جونہی ہم داخل ہونے لگے ، چپراسی نے ایمپائر کی طرح انگلی کھڑی کر دی … آپ نہیں ۔

ہم نے مدد کے لیے آواز بلند کی ، صاحب نے گردن موڑی اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ چپراسی کو کہا … انہیں آنے دو ، میرے ساتھ ہیں …

ہانپتے کانپتے اندر داخل ہوئے ….اب تک صاحب کی مسکراہٹ مزید گہری ہو چکی تھی ۔ کاریڈور میں چلتے ہوئے ہم نے ضروری سمجھا کہ کلرک بادشاہ کے کمرے کی طرف ان کی رہنمائی کریں …

کیا ؟ تمہارا مطلب ہے کہ میں کلرک سے بات کروں گا … وہ چیخے ۔

چلو ادھر … ہم سہمے ہوئے ان کے پیچھے چل پڑے ۔

ڈپٹی سکریٹری کے دروازے پہ صاحب نے چق اٹھائی اور سیدھے اندر …

سر جھکائے ہم بھی پیچھے پیچھے . …

یہ وہ دروازہ تھا جو ہم پہ کبھی نہیں کھلا تھا ، باہر کھڑا چپڑاسی ہمیشہ یہ نوید سناتا کہ صاحب فارغ نہیں ہیں … کبھی کبھی تو وہ زبان کو تکلیف دیے بنا ہاتھ سے یوں اشارہ کرتا جیسے مکھی اُڑا رہا ہو … ہم مکھی مچھر ہی تو رھے اس کی نظر میں … اس کے صاحب کے گرد منڈلا نے والے …

خیر اس دن چپڑاسی فورا پیچھے ہٹ گیا اور صاحب اور ہم اندر داخل ہوئے …سیکرٹری صاحب نے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا ، بٹھایا ، غرض پوچھی … صاحب نے بتائی ۔ سیکرٹری صاحب نے فون اٹھا کر کلرک کو ہماری فائل لانے کا کہا … اور فائل پہ فوری طور پہ چار لفظ لکھ کر دستخط کر دیے … ساتھ میں چائے بھی پلائی گئی۔

موقع تو خوشی کا تھا مگر جی چاہا کہ چیخیں مار مار کر روئیں … یہ وہی کُوچہ تھا جہاں سے کئی بار بے آبرو ہو کر نکالے گئے تھے اور خود کو کوستے ہوئے ہم نے دفتر چھوڑا تھا کہ کیوں بنے ڈاکٹر ؟ بی اے کرتے ، سی ایس ایس کا امتحان دے کر کرسی سنبھالی ہوتی تو یوں رسوا تو نہ ہوتے ۔

کام ہو گیا … مگر صاحب آج تک ہماری ٹانگ کھینچتے ہیں کہ تمہارا دفتر تک تمہاری عزت نہیں کرتا ، کوئی اور کیوں کرے گا ؟



  تازہ ترین   
پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ذخائر بڑھانے کی ہدایت
آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے: رانا ثناء
پاکستان اور امریکا کی سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے: اسحاق ڈار
کل سے بارشوں کا نیا طاقتور سپیل داخل ہونے کا امکان، سیلاب کا خدشہ
امریکا کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی: ایرانی فوج
میر پور ڈویژن کے انتخابات: ن لیگ 7 نشستوں پر کامیاب، پیپلزپارٹی کی 4 سیٹیں
حملے عارضی طور پر روکے، مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ
میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر