تحریر: عابد حسین قریشی
تین ہفتے قبل ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملہ کے وقت، خصوصاً پہلے ہی وار میں ساری ٹاپ کی سول و ملٹری لیڈر شپ کی شہادتوں کے بعد یہ نظر آرہا تھا، کہ ایران اتنی بڑی اور طاقتور فوج اور ٹیکنالوجی کے سامنے زیادہ دیر کھڑا نہ رہ سکے گا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ معاملہ الٹ نظر آنے لگا ہے۔ امریکہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود دنیا میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ یورپ اور نیٹو، جاپان اور کوریا سبھی اس جنگ سے بھاگ رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی غیر متوازن اور غیر متعین افتاد طبع اور اسرائیلی سازشوں سے امریکہ کے سبھی اتحادی آگاہ ہو چکے۔ چشم تصور نے یہ منظر کب دیکھنا تھا، کہ سارا اسرائیل بنکرز میں چھپا ہوا ہے، اور ایرانی مہلک میزائل سارے حفاظتی حصار توڑتے ہوئے اسرائیلی قوم پر قہر بن کر برس رہے ہیں۔ امریکہ کے مڈل ایسٹ میں سارے اڈے ایران کے نشانے پر ہیں۔ امریکی بحری بیڑے اور میرین آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کو سرک رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز بند ہے۔ تیل کی سپلائی رکی ہوئی ہے، مگر کسی میں ہمت نہیں کہ وہ یہ کھلوا سکے۔ کیا ہم اکیسویں صدی میں انسانی تاریخ کا بڑا معجزہ نہیں دیکھ رہے۔ اللہ تعالٰی اس ایرانی قوم سے کوئی بہت بڑا کام لے رہا ہے، اور امریکی اور اسرائیلی غرور خاک میں ملتا نظر آرہا ہے۔ وجہ صرف اتنی ہے کہ ایرانی قوم موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کرنا جانتی ہے، آج ساری دنیا اس سے خوف زدہ نظر آرہی ہے۔ یہ ہے وہ جزبہ ایمانی جو مدتوں سے مسلمانوں میں ناپید ہو چکا تھا۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو یہ جزبہ حریت پڑھ ہی نہ سکے۔ اسرائیل پچھلے ستر سال سے یکطرفہ جنگ لڑ کر نہتے فلسطینی عوام کو فتح کئے ہوئے تھا اور امیر عرب ممالک کو خوفزدہ۔ مگر اصل مقابلہ اسکا اب پڑا ہے۔ ایران کی نئی نوجوان قیادت زیادہ سخت گیر نظر آرہی ہے، اور وہ جنگ کو طول بھی دینا چاہتے ہیں، اور انکے جذبوں میں شدت اور حدت بھی زیادہ ہے۔ یہ بھی ممکن ہے،کہ جلد صدر ٹرمپ اس جنگ سے بھاگتے نظر آئیں۔ اس جنگ میں جہاں امریکہ اور اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا سخر ٹوٹا، وہیں دنیا انرجی اور معیشت کے ایسے تاریخی بحران کی طرف گامزن ہے، کہ جو بچ گئے وہ اس جنگ کو مدتوں بھول نہ پائیں گے۔ پاکستان کی گیس اور تیل کا تو سارا دارومدار ہی مڈل ایسٹ سے سپلائی میں تھا۔ ایران، قطر، UAE, کویت اور سعودی عرب کے تیل اور گیس کے ذخیرے تو میزایئلوں کی ذد میں ہیں۔ اللہ نہ کرے، مگر ہم توانائی کے شدید ترین بحران کی طرف تیزی سے گامزن ہیں، جو ہماری انڈسٹری، ٹرانسپورٹ اور بزنس کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ اس جنگ کی ہولناکی اس پورے خطے بلکہ شاید پوری دنیا کی معیشت کو لے ڈوبے گی۔ اگر یہ سب کچھ ایسا ہی ہوا، تو بہت خوفناک ہوگا۔یہ جنگ ہماری معیشت کے لئے ضرر رساں تو ہوگی، البتہ ایک بات طے ہے، کہ ایران یہ جنگ جیتے یا ہارے، وہ امریکہ اور اسرائیل کو کافی عرصہ تک کسی نئی جنگ کو شروع کرنے کا قابل چھوڑے گا نہیں۔



