لاہور(نیشنل ٹائمز) سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ایران جنگ میں امریکا کو کچھ نہیں ملا ،وہ آبنائے ہرمز کا کوئی راستہ نہیں نکال سکا،ایران کے پاس اور کارڈ بھی ہیں،جنگ سے چین خوش ہے ،وہ سکون میں رہا،دنیا نیوز کے پروگرام ‘‘ دنیا مہر بخاری کے ساتھ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا یہ جوابھی اعلامیہ آیا ہے یہ امت مسلمہ کا نہیں ہے کیونکہ یہ او آئی سی کا اعلامیہ نہیں،یہ تو دس بارہ سلیٹکڈ ممالک ہیں جن کوبلایا گیا،ان سے یہ اعلامیہ جاری کروایا گیا،عمان اس اجلاس میں شریک نہیں ہوا، اس میں افسوسناک بات یہ ہے کہ جو اٖصل جرم اور مجرم ہے ،جو روٹ کاز ہے، اس کا اس میں ذکر نہیں،وہ امریکا بہادر اور ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت ہے۔وزرائے خارجہ اجلاس میں سچ نہیں بولا گیا، منافقت ہوئی، دہرا معیاراپنایا گیااور اس مشکل وقت میں امن کیلئے کوئی راستہ نہیں دیا گیا،یہ حقیقت ہے کہ امت مسلمہ کے جذبات اور ہیں،سرکاری لوگوں کے جذبات اور ہیں،اس بیس دن کی جنگ میں روس کوفائدہ ہوا ہے ، چین سکون میں رہا، اس کی سٹاک مارکیٹ اچھی رہی،اب ایران کو فائدہ دیا جارہا ہے کہ پابندیاں ہٹا کر،ہم ڈرتے رہے کہ ایران سے تیل لیا تو کوئی ناراض نہ ہوجائے ، کوئی پابندیاں نہ لگ جائیں، اس جنگ میں امریکا کو کچھ نہیں ملا۔ میں سمجھتا ہوں امریکا سابق سپر پاور بن گیا ہے ،اس جنگ سے چین خوش ہے ،ان کو پتا تھا کہ آئندہ پانچ سال جنگ امریکا نے کرنی تھی چین کے خلاف،کیونکہ امریکا کا ہدف چین ہے ،وہ اب جنگ نہیں ہوگی، کیونکہ ایران نے جنگ کوہینڈل کرلیا ہے ، امریکا ابھی تک آبنائے ہرمز کا کوئی راستہ نہیں نکال سکا،ایران کے پاس اور کارڈ بھی ہیں،یہ جنگ عالمی بحران بن گئی ہے۔
ایران جنگ میں امریکا کو کچھ نہیں ملا:مشاہد حسین سید



