بیجنگ (شِنہوا) چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور سیاسی حل کی کوششوں کا مطالبہ کرتا ہے اور خطے کے مستقبل کے فیصلوں میں خلیجی ممالک کی حمایت کرتا ہے۔
وانگ یی جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں، نے اس سلسلے میں قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
الثانی نے خطے کی صورتحال اور قطر کے موقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قطر کو اپنی دفاعی ضروریات کے تحت اقدامات کرنا پڑے جبکہ وہ بحران کو پھیلنے اور شدت اختیار کرنے سے روکنے کے لئے سفارتی کوششیں بھی تیز کر رہا ہے۔
الثانی نے چین کے منصفانہ اور غیر جانبدار موقف اور اس کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ چین جنگ بندی کرانے اور مخاصمت کے خاتمے کے لئے مزید موثر کردار ادا کرے گا۔
وانگ یی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طورپر بین الاقوامی امور میں ہمیشہ اصولوں پر قائم رہا ہے اور انصاف و شفافیت کی حمایت کرتا ہے۔
وانگ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں سکیورٹی کونسل کی منظوری کے بغیر کی گئیں جو واضح طور پر یو این چارٹر کے مقاصد اور اصولوں اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی ضابطوں کی خلاف ورزی ہیں۔
وانگ یی نے مزید کہا کہ چین حملوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی حمایت نہیں کرتا اور شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر اندھا دھند حملوں کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی عرب ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔
وانگ یی نے کہا کہ جنگ کا جاری رہنا کسی کے لئے فائدہ مند نہیں بلکہ اس سے تمام فریقین کو مزید نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چین کشیدگی کم کرنے اور امن بحال کرنے کے لئے اپنے انداز میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
چینی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی پر زور، خلیج کی حمایت کا اظہار



