بیجنگ (شِنہوا) چین میں پاکستان کے سفیر خلیل الرحمان ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین اس سال سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے تیار ہیں۔بیجنگ میں دسویں چین۔ جنوبی ایشیا ایکسپو (سی ایس اے ای) کی تشہیری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خلیل ہاشمی نے پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کو “آہنی دوستی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اچھے ہمسایہ، قابل اعتماد بھائی اور ہر موسم کے تزویراتی شراکت دار رہے ہیں۔سفیر نے کہا کہ چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان میں منعقد ہونے والی یہ ایکسپو چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکی ہے۔ ہاشمی کے مطابق یون نان جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کی جانب چین کا گیٹ وے ہے اور پاکستان اور یون نان کے درمیان زراعت، کان کنی اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں اس ایکسپو کے ذریعے تبادلے بڑھے ہیں۔گزشتہ برسوں میں پاکستانی مصنوعات بھی یون نان کی منڈی میں تیزی سے داخل ہوئی ہیں۔ سفیر کے مطابق 2025 میں یون نان کو پاکستان کی برآمدات 16 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں 90 فیصد سے زائد زرعی مصنوعات شامل تھیں۔ہاشمی نے کہا کہ پاکستان آئندہ ہونے والی دسویں سی ایس اے ای کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے تعاون کو مزید وسعت دینا، کاروباری برادریوں کے درمیان روابط بڑھانا اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا چاہتا ہے۔چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان نے چین کو 2.841 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء برآمد کیں جبکہ چین سے درآمدات 22.399 ارب امریکی ڈالر رہیں۔سفیر نے کہا کہ پاکستان-چین آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) نے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک تقریباً 75 فیصد ٹیرف لائنز پر صفر ٹیرف نافذ کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ٹیرف رعایتوں کے دائرہ کار کو مزید بڑھانے پر بھی کام کر رہے ہیں، جس سے دو طرفہ تجارت کو مزید تقویت ملے گی۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں چین-پاکستان اقتصادی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو روایتی اشیاء کی تجارت سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری پر مبنی صنعتی تعاون کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ہاشمی کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد دو طرفہ تجارت میں موجود ساختی عدم توازن کو کم کرنا اور پاکستان کی مقامی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی بڑی منڈی، نوجوان افرادی قوت، جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کو ملانے والی تزویراتی جغرافیائی حیثیت، محنت کی مسابقتی لاگت اور وافر وسائل کے باعث چینی سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے۔ حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے ٹیکس مراعات اور ڈیوٹی میں چھوٹ سمیت کئی پالیسیاں بھی متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان اور چین کے درمیان سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کے متعدد پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ہاشمی نے کہا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مزید فروغ پائے گا اور ایک خوشحال مستقبل کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی حامل چین-پاکستان برادری کی تعمیر کو مزید آگے بڑھائیں گے۔
پاکستان چین اقتصادی تعاون نئے مرحلے میں داخل، سرمایہ کاری پر توجہ بڑھ گئی ہے، پاکستانی سفیر



