سہولت سے زندگی تک — ایک کٹھن سفر کی داستان

تحریر: عابد حسین قریشی

یہ جو گزر رہی ہے، سہولت سے زندگی
ہم اس مقام تک بڑی مشکل سے آئے ہیں
عباس تابش کا مذکورہ بالا شعر سنا تو آنکھوں کے سامنے ایک زمانہ گھوم گیا۔ بہت سی بھولی بسری باتیں یاد آئیں اور ذہن کی اسکرین پر جیسے ایک فلم چل پڑی۔ بہت سے آشنا چہرے، قیمتی دوست اور عزیز، مرحوم بزرگ اور خیرخواہ—جو وقت کی گرد میں کہیں کھو گئے مگر دل کے آئینے میں اُن کی ہنستی مسکراتی تصویریں آج بھی زندہ ہیں۔
کتنی بڑی حقیقت شاعر نے کس سادہ انداز میں بیان کر دی! کیا یہ متوسط اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی مشترکہ کہانی نہیں؟ وہ لوگ جو بچپن اور نوجوانی کٹھن ترین حالات میں گزارتے ہیں، زندگی کی تلخ حقیقتوں سے نبرد آزما ہوتے، نوکیلے پتھروں والی سنگلاخ زمینوں پر چلتے رہتے ہیں۔
ہم جیسے سفید پوش یا نیم سفید پوش لوگوں کے لیے تعلیم کی تکمیل کا مرحلہ کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا۔ یہ سفر رک رک کر چلتا ہے اور چل چل کر رکتا ہے۔ نوّے فیصد سے زائد لوگ تعلیم جاری رکھنے کے لیے جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں۔ ایک طویل عرصہ خود کو سنوارنے، کیریئر کی تلاش اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں گزر جاتا ہے۔
پھر جیسے ہی کچھ استحکام نصیب ہوتا ہے، شادی کے بندھن میں بندھ کر زندگی کے ایک اور مشکل مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اہلیہ کے ناز و نخرے، اولاد کی پرورش اور تعلیم کے گورکھ دھندوں میں انسان خود کو کھپا دیتا ہے۔ اولاد کو خوش رکھنے اور اُن کے اطمینان کی خاطر ہر بازی لگانے کو تیار رہتا ہے۔
چاہے استطاعت ہو یا نہ ہو، بچوں کو بہترین اور مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھانا ہر باپ کی خواہش ہوتی ہے۔ کچھ والدین تو اپنی ساری جمع پونجی قربان کرکے بچوں کو بیرونِ ملک بھیج دیتے ہیں۔ وہ اپنی اولاد کی کامیابی کے ایسے حسین خواب دیکھتے ہیں کہ اُن خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں اپنی جوانی اور توانائی قربان کر دیتے ہیں۔
مرنے دیتے ہیں نہ جینے کا مزہ دیتے ہیں
خواب انسان کو سولی پہ چڑھا دیتے ہیں
اکثر اولاد کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی کہ اُن کی آسائش کے لیے گھر کے بجٹ میں کتنی خودساختہ پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ کتنی ذاتی خوشیوں کو قربان کیا گیا، کتنی صعوبتیں جھیلی گئیں، اور محدود وسائل میں ہر خواہش پوری کرنے کی کتنی کوشش کی گئی۔
بچوں کی تعلیم و تربیت کو ہموار رکھنے کے لیے بعض اوقات والدین کو سینکڑوں میل دور تنہا پوسٹنگز قبول کرنا پڑتی ہیں۔ بہتر تعیناتیوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ ویک اینڈ پر دھند، بارش اور تپتی دھوپ میں سفر کرنا معمول بن جاتا ہے۔
پھر وقت آتا ہے کہ کچھ والدین اپنی آنکھوں میں سجے سنہری خواب لیے اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ خوش نصیب وہ ہیں جو اپنی اور اپنی اولاد کی کامیابیوں کا پھل اپنی زندگی میں چکھ لیتے ہیں۔ بڑھاپے میں ملنے والی آسائش اور سکون سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اور اگر اس کے ساتھ اولاد کی فرمانبرداری اور محبت بھی شامل ہو جائے تو خوشی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔
ایسے لوگوں پر یہی شعر صادق آتا ہے:
یہ جو گزر رہی ہے، سہولت سے زندگی
ہم اس مقام تک بڑی مشکل سے آئے ہیں
لیکن اگر اولاد کامیاب ہو کر بوڑھے والدین کو نظر انداز کر دے، اُنہیں زمانے کے تھپیڑوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، یا اولڈ ہومز کے سپرد کر دے، تو زندگی کا تلخ روپ کچھ یوں سامنے آتا ہے:
یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
یہی زندگی کا سچ ہے—سہولت سے نظر آنے والی زندگی کے پیچھے ایک طویل، کٹھن اور اکثر اَن کہی داستان چھپی ہوتی ہے۔



  تازہ ترین   
ایران کا امریکا کے 6 فوجی اڈوں، مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی
پاکستان دل و جان سے ایران کیساتھ، فریقین کو مذاکرات کیلئے آمادہ کر رہے ہیں، اسحاق ڈار
ایرانی 174 بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے: اماراتی وزارتِ دفاع
مشرق وسطیٰ جنگ، حکومت کا پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے: خواجہ آصف
لبنان پر اسرائیلی حملے جاری: جاں بحق افراد کی تعداد 52 ہوگئی، 150 سے زائد زخمی
سعودی عرب کی آرامکو آئل ریفائنری پر اسرائیل نے حملہ کیا: ایرانی میڈیا
ٹرمپ نے ایرانی رجیم چینج کی کوشش ترک نہ کی تو تیسری عالمی جنگ ہوگی: روس





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر