جی جی لا سے خوصپانگ
۳۰ جولائی ۲۰۲۵
قراقرم کے دل میں ۵۵۹۰ میٹر بلند گوندوگورو لا کی چوٹی پر میں، عاطف اور ہمارا گائیڈ نور عالم اپنے باقی ساتھیوں کے منتظر کھڑے تھے۔ نور عالم کچھ دیر پہلے ہی ٹیم لیڈر عمیر حسن کو ہمارے بحفاظت پہنچنے کی اطلاع دے چکا تھا۔ خون جما دینے والی سردی میں ہماری نظریں بار بار اس ڈھلوان پر جا ٹھہرتی تھیں جہاں سے ہم نے رسی کے سہارے آخری مرحلہ طے کر کے جی جی لا کو چھوا تھا۔ قدموں تلے برف کی سفید چادر تھی اور دائیں بائیں برف پوش چوٹیاں یوں سر اٹھائے کھڑی تھیں جیسے ہماری اس جسارت پر حیران ہوں۔ ابھی پو پھٹنے میں دیر تھی اور میں مسکراتے ہوئے اس خوابیدہ منظر کا حصہ بنی کھڑی تھی۔علی کیمپ سے روانگی کے وقت ٹیم لیڈر عمیر حسن نے انیس رکنی قافلے کو چھوٹے گروپوں میں تقسیم کرنے کے بعد ہر گروپ کو وقفے وقفے سے گائیڈز کی معیت میں روانہ کیا تھا تاکہ چڑھائی کا کٹھن مرحلہ ترتیب سے طے ہو سکے۔ میں، عاطف اور ہمارا گائیڈ نور عالم جب جی جی لا کی بلندی پر پہنچے تو ہم سے پہلے احتشام، فرحان، بابر اور طہ کک زمان بھائی کے ساتھ اُترائی کی سمت بڑھ چکے تھے۔ یوں ہم اپنی ٹیم کا دوسرا گروپ تھے جو جی جی لا پر پہنچے جبکہ عمیر حسن، گائیڈ نیک اختر، گائیڈ احمد اور موسیٰ باقی ساتھیوں کے ساتھ ابھی چڑھائی میں مصروف تھے۔میرا ساتھی بھی ابتدا میں میرے ساتھ تھا۔ ہم نے جی جی لا کی بیس سے ایک ساتھ سفر شروع کیا تھا مگر راستے کی کسی ڈھلوان پر وہ پیچھے رہ گیا۔ اس کی عدم موجودگی ایک انجانی تشویش بن کر میرے دل میں کھٹک رہی تھی اور میں بار بار پلٹ کر اسی سمت بے اختیار دیکھتی جہاں برفانی دھند میں ہمارے قدموں کے نشان تھے۔ہمیں زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا۔ کچھ ہی وقت میں عمیر حسن کے ساتھ اجیت، ستیش اور میرا ساتھی بھی جی جی لا پر آن پہنچے۔ اپنے ساتھی کو اس گروپ کے ساتھ صحیح سلامت دیکھ کر جیسے میری جان میں جان آ گئی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ چڑھائی کے دوران وہ میرے اور نور عالم کے پیچھے آ رہا تھا کہ ایک موڑ پر اس کے کیرابینر کے ساتھ بندھی رسی ڈے بیگ کے ساتھ الجھ گئی۔ اس اچانک افتاد سے خود کو چھڑانے کی کوشش میں اس کے پاؤں تلے کی برف سرک گئی اور وہ تقریباً عمودی دیوار پر معلق ہو کر رہ گیا۔ اس نے ہمیں آوازیں بھی دیں مگر سناٹے اور فاصلے نے اس کی پکار کو ہم تک نہ پہنچنے دیا۔ ہم سے پچھلا گروپ ابھی دور تھا۔ کافی دیر بعد چائنیز گروپ وہاں پہنچا اور انھوں نے اسے اس مشکل سے نکالا۔ اسے خیریت سے اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر جہاں دل کو تسلی ہوئی وہیں اس کی سرگزشت سن کر بے اختیار ہنسی بھی آئی۔اس گروپ کے بعد ذیشان، عمران، اسد، اخلاق، اویس، نصیر اور وقاص بھی گائیڈ نیک اختر اور موسیٰ کی رہنمائی میں جی جی لا پر پہنچ گئے۔ سب ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر مبارک باد دے رہے تھے۔ ٹیم لیڈر عمیر حسن نے میری حوصلہ افزائی کی اور کامیابی پر شاباش دی۔ پھر انہوں نے پوری ٹیم کی سلامتی اور کامرانی پر شکرانے کے نفل ادا کیے۔ ہر چہرہ مسکراہٹ سے روشن تھا اور آنکھوں میں اطمینان جھلک رہا تھا۔ یہ قابلِ فخر اور یادگار لمحے تصویروں میں محفوظ کیے جا رہے تھے۔ اسی اثنا میں آہستہ آہستہ پو پھٹنے لگی اور دھند کی دبیز تہیں چھٹنے لگیں۔ روشنی پھیلی تو گرد و پیش کا منظر واضح ہونے لگا۔ ہمارے سروں پر سرمئی بادلوں کی چادر تنی تھی، مگر افق کے کناروں سے جھانکتی روشنی برفانی دنیا کو بیدار کر رہی تھی۔ صاف موسم میں اس بلند درے سے چار آٹھ ہزار میٹر سے بلند دیو قامت پہاڑ کےٹو (۸۶۱۱ میٹر)، براڈ پیک (۸۰۵۱ میٹر)، گیشربرم ون (۸۰۶۸ میٹر) اور گیشربرم ٹو (۸۰۳۵ میٹر) کی چوٹیاں دکھائی دیتی ہیں۔ جب فضا شفاف ہو تو یہ چاروں ایک ہی منظر میں یوں سمٹ آتے ہیں کہ دنیا میں کم ہی مقامات ایسے ہوں گے جہاں یہ جلال ایک ساتھ دکھائی دے۔ان کے علاوہ میشر برم (۷۸۲۱ میٹر) ہوشے ویلی کی سمت اپنی پوری شان سے نمایاں ہوتا ہے جبکہ لیلیٰ پیک (۶۰۹۶ میٹر) اپنی مخروطی، نیزہ نما ساخت کے باعث فوراً پہچان لیا جاتا ہے۔ گیشربرم تھری اور گیشربرم فور بھی اپنی ہیبت کا احساس دلاتے نظر آتے ہیں۔ بالتورو اور ہوشے کے اطراف پھیلی ہوئی سات ہزار میٹر سے بلند برف پوش اور گرینائٹ کی نوکیلی چوٹیاں اس منظر کو مزید شاندار بنا دیتی ہیں۔ان چوٹیوں کے واضح نظارے کے لیے موسم کا مہربان ہونا ضروری ہوتا ہے اور عموماً صبحِ صادق کے لمحات سب سے زیادہ شفاف ہوتے ہیں۔ اس صبح قسمت ہم پر واقعی مہربان تھی۔ جی جی لا سے ان چوٹیوں کا نظارہ جادوئی محسوس ہو رہا تھا۔ کئی صعوبتوں کے بعد ملنے والا یہ منظر نصیب والوں کو ہی ملتا ہے اور یہ قیمتی گھڑیاں بلا شبہہ میری زندگی کے ان لمحات میں شامل ہو چکی تھیں کہ آئندہ جنہیں یاد کر کے ہمیشہ ایک خوشی کا احساس ہو گا۔اس وقت جی جی لا کی چوٹی پر خوب رونق اور چہل پہل تھی۔ چین اور جرمنی سے آئے ہوئے گروپس بھی وہاں پہنچ چکے تھے، جبکہ سعدیہ مقبول اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ ہم سے پہلے ہی اُترائی کی سمت روانہ ہو چکی تھیں۔ عمیر کے کہنے پر ہم سب گروپ فوٹو کے لیے اکٹھے ہوئے، مگر اسی لمحے میرے دل میں رش سے ہٹ کر ایک الگ تصویر بنوانے کی خواہش جاگی اور میں درے کے دائیں جانب تصویر کے لئے مناسب جگہ تلاش کرنے لگی۔ میرا ساتھی فون سنبھالے میرے پیچھے آ رہا تھا۔ ابھی میں دو تین میٹر ہی آگے بڑھی ہوں گی کہ اچانک میرے قدموں کے نیچے حرکت سی ہوئی اور میں کندھوں تک نرم برف میں دھنستی چلی گئی۔مجھے یوں یکایک برف میں اترتے دیکھ کر عمیر کی گھبرائی ہوئی آواز بلند ہوئی، “سعدیہ…!” میرا ساتھی فوراً لپکا اور بازو سے پکڑ کر مجھے برف سے باہر کھینچ لیا۔ یہ سب اتنا غیر متوقع تھا کہ چند لمحوں کے لیے میں ساکت رہ گئی۔ میں نے رک اس گڑھے کو دیکھا جو میرے دھنسنے سے بن گیا تھا، ایسے میں خیال آیا کہ اگر یہاں کوئی گہری کریوس ہوتی تو صورتحال یقیناً خطرناک ہو سکتی تھی۔ یہ محض خوش قسمتی تھی کہ تقریباً پانچ فٹ نرم برف سے میں بآسانی باہر نکل آئی۔ میری ایک معصوم سی خواہش پل بھر میں ایک سنگین غلطی کا روپ دھار چکی تھی۔ میں نے مسکراتے ہوئے دل ہی دل میں اپنی نادانی کا اعتراف کیا۔اس واقعے نے مجھے ٹریکنگ کا ایک اہم سبق سکھایا۔ ایسی حساس جگہوں پر گروپ سے الگ ہونا خطرے کو دعوت دینا ہے۔ جہاں میرے ساتھی اور باقی لوگ کھڑے تھے وہاں برف سخت اور محفوظ تھی مگر چند قدم کے فاصلے پر ہی وہ نرم تھی اور اس کے نیچے کریوسسز کا جال بھی ہو سکتا تھا۔ہمیں جی جی لا پر پہنچے پونا گھنٹہ گزر چکا تھا۔ پانچ بجے کے قریب نور عالم میرے پاس آیا اور اپنے مخصوص لہجے میں بولا،“باجی، اب ہمیں چلنا ہو گا، ورنہ رسی پر بہت رش ہو جائے گا اور ہمیں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔”صورتِ حال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے میں نے بغیر کسی تاخیر کے اس کے ساتھ جی جی لا کے آخری سرے کی طرف قدم بڑھا دیے۔ وہاں پہنچ کر میں نے اور میرے ساتھی نے کریمپونز اُتار کر بیگ میں رکھے اور اُترائی کی تیاری کرنے لگے۔ اسی دوران ہمارے گروپ کے باقی ساتھی وقاص، عمران اور سمیع گائیڈ احمد کی رہنمائی میں درے پر پہنچ گئے۔ عمیر نے آگے بڑھ کر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور اس شاندار کامیابی پر انہیں مبارک باد دی۔جی جی لا کے آخری کنارے پر پتھریلی زمین پر ایک خیمہ نصب تھا جس میں دو سے تین افراد پر مشتمل ریسکیو عملہ مقیم تھا۔ اس برفانی خطے کی ہڈیوں میں اتر جانے والی سردی میں شب و روز قیام کا تصور ہی میرے وجود میں کپکپی دوڑا گیا۔ ہم تو چند لمحوں کے مہمان تھے، مگر یہ لوگ پورے ٹریکنگ سیزن میں یہاں رہ کر رسیاں لگاتے اور ٹریکرز کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔“باجی چلیں۔۔۔”نور عالم کی آواز نے مجھے سوچوں کے حصار سے نکال کر حال میں واپس پہنچا دیا۔ جیسے ہی میں نے برفانی سطح چھوڑ کر اُترائی کی طرف قدم بڑھائے، میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اصل مہم تو اب شروع ہونے والی تھی۔ رات بھر ہم گھپ اندھیرے میں جگنوؤں جیسی مدھم روشنیوں کے سہارے ایک برفانی دیوار سر کرتے رہے تھے، مگر اب صبح کی واضح روشنی میں سامنے پہاڑ کی ڈھلان کے ساتھ ایک سخت پتھریلی اُترائی تھی جس پر رسی جھول رہی تھی۔ اسی رسی کو تھام کر نہایت نپے تلے قدموں سے ہمیں نیچے اترنا تھا۔موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات یہاں نمایاں تھے۔ ہر سال برف کم پڑ رہی ہے اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت اسے جلد پگھلا دیتا ہے۔ اسی باعث اس مرتبہ جی جی لا کی اُترائی پر برف کا نام و نشان تک نہ تھا۔ قدم رکھتے ہوئے ذرا سی بے احتیاطی سے ڈھلوان پر ٹکے پتھر لڑھک کر نیچے جانے والوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ اس لیے اجتماعی ذمہ داری کا احساس لیے ہم نہایت محتاط انداز میں رسی کے سہارے نشیب کی جانب بڑھنے لگے۔ گائیڈز بتا رہے تھے کہ ماضی میں یہی ڈھلان برف سے ڈھکی ہوتی تھی اور اس پر اُترنا نسبتاً آسان ہوتا تھا۔ میں نے لمحہ بھر رک کر سامنے اور بائیں جانب پھیلے وسیع منظر پر نظر دوڑائی۔ عین سامنے رسی کے ساتھ ایک چائنیز گروپ اُترائی میں مصروف تھا، جبکہ بائیں طرف برف سے ڈھکا ایک پہاڑی سلسلہ پوری شان سے کھڑا تھا۔ اسی اثنا میں نور عالم نے رسی کے ساتھ اپنا اور میرا کیرابینر فِکس کیا اور ہم نے بھی اُترائی کا آغاز کر دیا۔ میرے پیچھے میرا ساتھی اور اس کے بعد گروپ کے دیگر اراکین تھے۔ اصول یہی تھا کہ ہر فرد مناسب فاصلہ رکھے، مسلسل چلتا رہے اور اگر اس کے قدم سے کوئی پتھر لڑھکے تو بلند آواز میں “Rock” کہہ کر نیچے جانے والوں کو خبردار کرے۔مجھ سے آگے موجود چائنیز گروپ فاصلہ برقرار نہیں رکھ پا رہا تھا اور اس کے ممبرز رسی پر ایک جگہ جمع ہو جاتے تھے۔ یوں رسی تن جاتی اور اسے لگنے والے جھٹکوں سے ہمارے قدم ڈگمگانے لگتے۔ ہم نے وہیں رک کر ان کے کچھ نیچے اترنے کا انتظار کیا اور پھر تیزی سے آگے بڑھنے لگے۔ ابھی ہم نے رفتار پکڑی ہی تھی کہ اوپر سے “راک۔۔۔ راک۔۔۔” کی گونج دار آوازیں سنائی دیں۔ میں نے گھبرا کر سر اٹھایا تو بائیں جانب سے پتھر خوفناک شور کے ساتھ تیزی سے لڑھکتے گزر رہے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھی سمیع ایک پتھر لگنے سے زخمی ہو گئے تھے، جبکہ ایک جرمن ٹریکر بھی ان کی زد میں آیا مگر خوش قسمتی سے محفوظ رہا۔ہم پوری احتیاط اور حوصلے کے ساتھ رسی تھامے اترتے رہے۔ ہر گرہ پر قدم جما کر ایک ہاتھ سے رسی پکڑتے اور دوسرے سے کیرابینر کھول کر اگلی گرہ میں لگا دیتے۔ ایک مقام پر ڈھلوان اس قدر دشوار تھی کہ نور عالم نے مجھے ریسکیو گروپ کے ایک لڑکے کے سپرد کر دیا۔ وہ مجھ سے آگے اپنا جوتا جما کر کھڑا ہوتا اور میں اس کے قدم کے ساتھ قدم رکھتے ہوئے نیچے اترنے لگی۔ وہ مشکل حصہ پار کروانے کے بعد واپس اوپر کیمپ کی طرف لوٹ گیا اور میں دوبارہ نور عالم کے ساتھ ہو لی۔تقریباً دو گھنٹے کی جان لیوا اُترائی کے بعد رسی ختم ہو گئی۔ سوا سات بجے کے قریب ہم اس سے الگ ہوئے، مگر ڈھلوان ابھی باقی تھی اور ہم تیزی سے خوصپانگ کیمپ سائٹ کی جانب بڑھتے جا رہے تھے۔ اسی دوران موسم نے کروٹ لینا شروع کر دی۔ آج بارش کی پیش گوئی بھی تھی۔ پونے آٹھ بجے کے قریب ہم راستے میں ایک بڑے، سپاٹ پتھر پر سستانے کو بیٹھ گئے۔ چند جرمن ٹریکرز بھی وہیں آ کر رک گئے۔ سفر ابھی طویل تھا، بھوک اور تھکن شدت اختیار کر رہی تھی۔ مٹھی بھر ڈرائی فروٹ اور چند گھونٹ پانی سے ہم نے توانائی بحال کی اور ایک بار پھر قدموں کو سفر کے حوالے کر دیا۔جب ڈھلان کا کٹھن مرحلہ اختتام کو پہنچا تو راستے کے ایک کنارے دو گھوڑے اپنے مالکان کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے۔ اس سنگلاخ اور برفانی خطے میں گھوڑوں کی موجودگی نے مجھے حیران بھی کیا اور متجسس بھی۔ نور عالم سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک گھوڑا ہمارے زخمی ساتھی سمیع کے لیے اور دوسرا سعدیہ مقبول کے گروپ کی اس ممبر کے لیے منگوایا گیا تھا جو ہائی آلٹیٹیوڈ سکنس کا شکار ہو گئی تھیں اور بڑی مشقت سے اُترائی طے کر پائی تھیں۔ہمارے کچھ ساتھی آگے نکل چکے تھے اور کچھ پیچھے تھے۔ دور ایک خوشنما جھیل ہمیں اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ چلتے چلتے نور عالم نے ہاتھ کے اشارے سے سامنے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،“باجی، جب ہم اس جھیل تک پہنچیں گے تو میں کچھ دیر سو جاؤں گا۔”میں نے اس کے چہرے پر نظر ڈالی تو اس کی سرخ آنکھیں اور بوجھل پلکیں شدید تھکن کی گواہی دے رہی تھیں۔ ہمیں تو علی کیمپ پر چند گھنٹوں کا آرام مل گیا تھا مگر عملہ مسلسل اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا تھا۔تقریباً ساڑھے نو بجے ہم اُترائی مکمل کر کے جھیل کے کنارے نسبتاً ہموار جگہ پر پہنچ گئے۔ نور عالم نے یہاں کچھ دیر سستانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ بارش شروع ہو گئی اور اسے اپنا فیصلہ بدلنا پڑا۔ میں نے اس سے کہا،“نور عالم، اب میں خود آ جاؤں گی، تم کیمپ پہنچ کر آرام کرو۔”میں اور میرا ساتھی بارش میں کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے۔ جھیل کا سبز شفاف پانی آنکھوں کو یوں تراوٹ بخش رہا تھا جیسے روح تک تازگی اتر رہی ہو۔ اس سفر میں کتنے دنوں بعد ہم نے ایسا رنگین پانی دیکھا تھا۔ اب فضا بدل رہی تھی۔ جوں جوں ہم خوصپانگ کی سمت بڑھ رہے تھے، برفانی سطح کی جگہ سبزہ نمودار ہونے لگا تھا۔ خود رو پودے، خوشنما پھول اور دور سے آتی پرندوں کی آوازیں، یہ سب ہمیں ایک نئی دنیا میں لے آئے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے زندگی نے پھر سے اپنے در وا کر دیے ہوں۔بارش مسلسل برس رہی تھی۔ کپڑے، جوتے اور جیکٹس بھیگ چکے تھے مگر نہ رین جیکٹ پہننے کی ہمت تھی اور نہ دل چاہا تھا۔ اب جسم سے زیادہ روح ہلکی محسوس ہو رہی تھی۔ جی جی لا کو کامیابی سے عبور کرنے کا احساس ہمارے قدموں کو نئی توانائی دے رہا تھا۔ اس دوران پہاڑوں کی سمت سے وقفے وقفے سے گڑگڑاہٹ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ اچانک ہمارے بائیں ہاتھ ایک زور دار دھماکے کی آواز ابھری۔ میں اور میرا ساتھی ٹھٹھک کر رک گئے۔ بلند و بالا ڈھلوان سے برف کا ایک عظیم تودہ ٹوٹ کر نیچے کی طرف لپکا۔ پہلے سفید دھول کی مانند برف فضا میں پھیلی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ پورا منظر حرکت میں آ گیا۔ برف کے بڑے بڑے ٹکڑے پتھروں سے ٹکراتے ہوئے خوفناک شور پیدا کر رہے تھے اور نیچے گرتے ہوئے ایک سفید بادل سا اٹھ رہا تھا۔ کچھ لمحوں کے لیے زمین بھی جیسے لرز اٹھی اور دل کی دھڑکنیں اس گرج کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئیں۔ اس سے پہلے بارہا ایوالانچ کا منظر سکرین پر تو دیکھا تھا لیکن اسے براہ راست دیکھنا ایک اچھوتا تجربہ تھا۔ یہ آوازیں اس وسیع و عریض خاموشی میں قدرت کی ہیبت اور پہاڑوں کی بے پناہ طاقت کا احساس دلا رہی تھیں۔وقت کے ساتھ بھوک اور تھکن کا غلبہ بڑھ رہا تھا مگر ہم نے رفتار کم نہ ہونے دی۔ ایک مقام پر میں سیدھا اوپر چڑھنے لگی تو پیچھے سے عمیر کی آواز آئی،“سعدیہ، یہاں سے دائیں ہاتھ نیچے بولڈرز پر جانا ہے۔”میں نے پلٹ کر دیکھا تو عمیر اور موسیٰ میرے پیچھے تھے۔ اگر وہ بروقت رہنمائی نہ کرتے تو میں غلط سمت نکل جاتی۔ ہم نے بولڈرز پار کیے تو سامنے سبزے پر ایک تنگ پگڈنڈی کے اختتام پر ہموار زمین پر سجے رنگین خیمے دکھائی دیے۔ خوصپانگ کیمپ سائٹ جیسے ہمارے استقبال کے لیے منتظر تھی۔ خیموں کے سامنے پانی نالوں کی صورت بہہ رہا تھا۔ ساڑھے گیارہ بجے جب ہم وہاں پہنچے تو ہم سے پہلے آنے والے ساتھی بارش کے باعث اپنے خیموں میں دبکے ہوئے تھے۔ میں نے اپنا چار نمبر خیمہ ڈھونڈا، بھیگے کپڑے بدلے اور کھانے کے اعلان کا انتظار کرنے لگی۔پورے سفر میں آج سے پہلے میں نے کھانے کا اس شدت سے انتظار نہیں کیا تھا، مگر یہ انتظار طویل ثابت ہوا کیونکہ کھانا شام کو ملنا تھا جس سے میں لا علم تھی۔ شام ڈھلی تو کھانے کا اعلان ہوا اور ہم سب میس کیمپ میں جمع ہو گئے جہاں سعدیہ مقبول کا گروپ بھی موجود تھا۔ آلو گوشت، چاول اور میٹھے میں کسٹرڈ۔ لمبے انتظار کے بعد یہ کھانا کسی نعمت سے کم نہ تھا، مگر عجیب بات یہ کہ مجھ سے ایک لقمہ بھی نہ کھایا گیا۔ سفر کی تھکن اور پچھلی رات کی بیداری نے بھوک کو کہیں دبا دیا تھا۔کچھ دیر سب کے ساتھ بیٹھ کر میں اپنے خیمے میں آ گئی۔ تھکن سے چور جسم کو آرام کی ضرورت تھی اور اگلی صبح ہمیں سائیچو کی طرف واپسی کا سفر شروع کرنا تھا۔جاری ہے۔۔۔



