سپرٹیکس سے پونے 4سو ارب روپے وصولی ہوگی،ریونیوشارٹ فال ختم ہونے کا امکان

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) وفاقی آئینی عدالت نے سپرٹیکس کانفاذ درست قراردیتے ہوئے کیس کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات مسترد کردئیے اور کہا پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار ہے ، آئل اینڈ گیس سیکٹر انفرادی طور پر رعایت کے حصول کیلئے متعلقہ ٹیکس کمشنر سے رجوع کرے ،عدالت نے 2015 اور 2022کی تمام درخواستیں مسترد کردیں ،سپرٹیکس درست قرار پانے سے حکومت کو تقریباً 310 ارب روپے ملیں گے ۔مضاربہ، میوچل فنڈز اور بینوولنٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔مختلف سیکٹرز کو الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے کی جبکہ چیف جسٹس امین الدین خان نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ فیصلے میں عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4 بی کو آئینی اور درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔تاہم عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق ہائیکورٹس کے بعض فیصلوں کو جزوی طور پر کالعدم بھی قرار دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ سپر ٹیکس پہلی مرتبہ 2015 میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔جس کے تحت 30کروڑ روپے سے زیادہ سالانہ منافع کمانے والوں پر 3 سے 4 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا گیا۔تمام ہائیکورٹس نے اس نفاذ کو درست قرار دیا تھا۔عدالت نے فیصلے میں یہ بھی ہدایت کی کہ آئل اینڈ گیس سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ادارے کسی بھی انفرادی رعایت کے حصول کے لیے متعلقہ ٹیکس کمشنر سے رجوع کر سکتے ہیں۔سپرٹیکس درست قرار دینے سے حکومت کو تقریباً 310 ارب روپے ملیں گے ۔ مضاربہ،میوچل فنڈز اور بینوولنٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔مختلف سیکٹرز کو الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔2022 میں سپر ٹیکس کا دائرہ بڑھاتے ہوئے 15 کروڑ روپے سالانہ منافع کمانے والوں پر بھی لاگو کیا گیا اور اس کی شرح زیادہ سے زیادہ 10 فیصد تک مقرر کی گئی۔اس اقدام کو مختلف کاروباری شخصیات، بینکوں اور کمپنیوں نے ہائیکورٹس میں چیلنج کیا۔مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپر ٹیکس کا ماضی سے اطلاق دہرے ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے ۔یاد رہے وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس پر 17 سماعتیں کیں۔یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں 2019 میں دائر ہوا تھا اور سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں سنا جاتا رہا۔بعد ازاں 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد کیس آئینی بینچ جبکہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیا گیا۔دوران سماعت ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے حافظ احسان کھوکھر جبکہ کمشنر کراچی کی نمائندگی ڈاکٹر شاہ نواز اور کمشنر لاہور کی جانب سے عاصمہ حامد نے دلائل دئیے ۔مختلف پرائیویٹ کمپنیز کی وکالت کرنیوالے سلمان اکرم راجہ،مخدوم علی خان،فیصل صدیقی ودیگر وکلا عدالت میں پیش ہوتے رہے ۔



  تازہ ترین   
پنجاب کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 7 پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز
ایم او یو میں واضح کہا ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا: ٹرمپ
لبنان پر اسرائیلی حملہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا: ایران
کشمیر میں فارن فنڈڈ تنظیم مہاجرین نشستوں پر بلیک میل کر رہی ہے: خواجہ آصف
پنجاب: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد، پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ تجویز
پنجاب حکومت 5131 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کرے گی، تنخواہ، پنشن میں 7 فیصد اضافہ متوقع
ایران کو 300 ملین ڈالرز دینے کی باتیں مخالفین کا سیاسی پراپیگنڈا ہے: ٹرمپ
ایران کو زرمبادلہ اثاثوں کی پہلی قسط موصول





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر