چین کے بڑے چاول کاشتکار کا انعامات سے بھرپور زرعی ماڈل پاکستان لانے کا اعلان

نان چھانگ (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبہ جیانگ شی میں موسم سرما کے دوران ایک صحن میں 100 یوآن کے بینک نوٹوں کے بنڈل ایک چھوٹے سے پہاڑ کی طرح ڈھیر کئے گئے تھے۔ یہ منظر بیک وقت ڈرامائی بھی تھا اور سوچا سمجھا بھی، کیونکہ یہ کسانوں میں سال کے اختتام پر بونس کی تقسیم کی ایک سالانہ روایت کا نقطہ عروج تھا۔اس منظر کے مرکز میں 65 سالہ لِنگ جی حہ کھڑے تھے جن کے بال مکمل طور پر سفید ہو چکے ہیں اور جو برسوں سے ایک ہی سیاہ جیکٹ پہنے ہوئے ہیں۔ مائیکروفون اٹھا کر انہوں نے اعلان کیا کہ ایک بار پھر بونس تقسیم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔2025 میں لِنگ اور ان کی ٹیم نے 80 ہزار مو (تقریباً 5 ہزار 333 ہیکٹر) سے زائد زرعی زمین کا انتظام کیا اور 63 ہزار 500 ٹن اناج پیدا کیا۔ اس سال بونس کی مجموعی رقم 2 کروڑ 12 لاکھ 90 ہزار یوآن تک پہنچ گئی جو مقامی لوگوں کے مطابق “دھان کے کھیتوں کے منافع” کا نیا ریکارڈ ہے۔ 2012 سے اب تک لِنگ مجموعی طور پر 9 کروڑ 9 لاکھ 90 ہزار یوآن بونس کی صورت میں تقسیم کر چکے ہیں۔چین میں نئے قمری سال سے قبل دفاتر اور فیکٹریوں میں سال کے اختتام پر بونس دینا عام بات ہے، لیکن خودمختار کسانوں کے لئے یہ تقریباً ناممکن تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود لنگ جو دیہاتیوں سے زمین لیز پر لے کر بڑے پیمانے پر کاشتکاری کرتے ہیں، مسلسل 15 برسوں سے بونس تقسیم کر رہے ہیں۔ اگرچہ دیہی چین میں موبائل ادائیگیاں عام ہو چکی ہیں، لِنگ پھر بھی نقد ادائیگی پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ روایت خاص اہمیت رکھتی ہے۔لِنگ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ جیکٹ اب بھی کام دیتی ہے۔ میں اسے کھیتی باڑی کے لئے بھی پہنتا ہوں اور بونس بانٹنے کے وقت بھی، یہ دونوں کے لئے موزوں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر سال بونس بڑھ رہے ہیں اور مسکراہٹیں بھی۔اب دھان کے ہزاروں ایکڑ کھیت کامیابی سے سنبھالنے کے بعد لِنگ چین سے باہر بھی نظریں جما رہے ہیں۔ وہ چاول کاشت کرنے کی چینی ٹیکنالوجی پاکستان میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں مقامی قدرتی حالات کو چینی مہارت کے ساتھ جوڑا جائے گا۔لِنگ نے کہا کہ ہر فریق کی اپنی طاقت ہے اور نشاندہی کی کہ پاکستان میں چاول کے لئے موزوں آب و ہوا، مزدوری کی کم لاگت اور بڑے پیمانے پر کاشتکاری کی صلاحیت موجود ہے تاہم زرعی ٹیکنالوجی میں بہتری کی ضرورت ہے۔ ان کی تجویز خصوصاً چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے تناظر میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت بڑھتے ہوئے زرعی تعاون سے ہم آہنگ ہے۔لِنگ کے منصوبے کا مرکز ٹیکنالوجی اور معیار ہے۔ چینی تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر ان کی کمپنی چاول کی بہتر اقسام، محفوظ زرعی وسائل اور پائیدار طریقوں پر توجہ دے رہی ہے۔ توقع ہے کہ یہ منصوبہ کاشتکاری سے آگے بڑھ کر پراسیسنگ اور برانڈنگ تک پھیلے گا جس کا مقصد بین الاقوامی منڈیوں کے لئے اعلیٰ معیار کے چاول کی مصنوعات تیار کرنا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ لِنگ کی کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ چین کی زرعی جدیدیت بتدریج بیرون ملک بھی اثر ڈال رہی ہے جہاں کسان انفرادی طور پر ٹیکنالوجی، تجربے اور مواقع کو سرحدوں کے پار منتقل کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔



  تازہ ترین   
آزاد کشمیر: 2 حلقوں کے 23 سٹیشنوں پر ری پولنگ، ایل اے 17 سے فیصل راٹھور کامیاب
سابق فوجیوں کا تجربہ اور رہنمائی پاک فوج کا ادارہ جاتی اثاثہ ہے: فیلڈ مارشل
وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت
بیوروکریٹس ہی اصل اور مستقل حکمران، کسی نے احتساب نہیں کیا: خواجہ آصف
صدر ٹرمپ نے مذاقاً آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا: وائٹ ہاؤس
دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، آسام، ناگالینڈ، منی پور میں بھی بھارت کا بائیکاٹ
تعمیراتی شعبے کی ترقی کیلئے ڈویلپمنٹ بورڈ اور الگ بینک بنانے کی تجویز
ملک بھر میں آج 79 واں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر