لاہور(نیشنل ٹائمز) ڈی جی وائلڈلائف پنجاب مبین الٰہی کے خلاف مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیرقانونی اقدامات سے متعلق درخواستوں پر گزشتہ دو برس کے دوران کسی مؤثر انکوائری کے نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے سرکاری نظام میں شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کے شہری اور مقامی سی بی او کے سیکرٹری جنرل راجہ محمد قیصر نمبردار نے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ڈی جی وائلڈلائف کے خلاف مبینہ کرپشن کے شواہد پر مبنی متعدد درخواستیں ارسال کیں۔ درخواست گزار کے مطابق مختلف فورمز پر شکایات جمع کرانے کے باوجود عملی کارروائی نہیں کی گئی۔

راجہ محمد قیصر نمبردار کا کہنا ہے کہ 25 فروری 2024 کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وفاقی وزیر کو تحریری طور پر انکوائری کی درخواست دی گئی، جبکہ یکم مئی 2025 کو وزیراعلیٰ پنجاب کے شکایات سیل کو بھی شکایت ارسال کی گئی۔ شکایات سیل نے 25 جون کو درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی، تاہم 2 جولائی کو بغیر کسی وضاحت اور درخواست گزار سے رابطہ کیے شکایت حل ہونے کا پیغام موصول ہوا۔
ادھر فروری 2025 میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری کی جانب سے مبینہ طور پر انکوائری کے احکامات سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات پنجاب کو بھجوائے گئے، جس کے بعد متعلقہ محکمے نے اس وقت کے ڈی جی وائلڈلائف سے رپورٹ طلب کی۔ تاہم درخواست گزار کے مطابق باقاعدہ اور آزاد تفتیش کے بغیر ہی معاملہ نمٹا دیا گیا۔ اسی دوران مبینہ طور پر مبین الٰہی کو مختصر رخصت پر بھیجنے کے بعد دوبارہ ڈی جی وائلڈلائف تعینات کر دیا گیا، جبکہ اب انہیں 20ویں گریڈ میں ترقی کے لیے کورس پر بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

الزامات کے مطابق مبین الٰہی نے کالا باغ سی بی او کو مقررہ کوٹے سے زائد ٹرافی ہنٹنگ پرمٹس جاری کیے، جہاں چار کی بجائے سات پرمٹس جاری ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور چڑیا گھر کے ہولوگرام منصوبے میں نجی کمپنی اور چڑیا گھروں کے لیے جانوروں کی خریداری کے دوران کراچی کے جانوروں کے تاجروں سے ترقیاتی منصوبوں کے عوض مبینہ طور پر کک بیکس وصول کیے جانے کے الزامات بھی شامل ہیں۔
مزید الزام ہے کہ کالا باغ اور پدھری کی نجی رجسٹرڈ شکار گاہوں میں غیر ملکی مہمانوں اور قریبی رشتہ داروں کے لیے بغیر مقررہ فیس اور لازمی این او سیز کے غیرقانونی شکار کروایا گیا۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ڈی جی وائلڈلائف نے مبینہ طور پر اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے متعدد انکوائریوں کو التوا میں ڈلوایا، جبکہ بعض معاملات اس وقت عدالتوں میں بھی زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام الزامات کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور آزاد تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور اداروں پر اعتماد بحال ہو۔




