تقسیمِ ہند اور چکوال سے جُڑی یادیں

تحریر۔۔۔ راجندر کمار گھئی

ترجمہ و تالیف۔۔۔۔علی خان

دوسری قسط۔۔۔

میرے دادا شری بدھ راج گھئی نے جموں میں کچھ عرصہ گزارا مگر واپس چکوال آ گئے۔ چکوال میں انھوں نے ایک گھر خریدا اور تجارت شروع کر دی۔ ان کی دکان ان کے گھر کے پاس ہی تھی۔ میرے دادا کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ انھوں نے یہ محسوس کیا کہ ان کا خاندان بڑا ہے چنانچہ اپنا کاروبار بڑھانا ہوگا۔ اس موقعہ پر بہت تگ و دو کے ساتھ ساتھ قسمت نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ وہ چکوال میں برما شیل کمپنی کا ایک پیٹرول پمپ الاٹ کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کے پاس علاقہ بھر میں مٹی کا تیل سپلائی کرنے کا اجازت نامہ بھی تھا۔ اس کاروبار میں لالہ ہری چند بھی ان کے حصے دار تھے۔ وہ میرے دادا کے رشتہ دار بھی تھے۔

یہ پیٹرول پمپ تلہ گنگ روڈ چکوال پر ایک کونے میں واقع تھا۔یہاں سے سڑک ریلوے اسٹیشن چکوال کی طرف جاتی تھی۔ اس پیٹرول پمپ کو میرے والد مرحوم شری شادی لال گھئی اور شری ہری چند گھئی کے بڑے بیٹے دیو راج چلاتے تھے۔ اس پیٹرول پمپ کے ایک طرف بیڈمنٹن کا ایک خوبصورت کورٹ بھی تھا۔ میرے والد اور دیو راج ہر شام پانچ بجے باقاعدگی سے بیڈمنٹن کھیلنے آتے تھے۔ میرے دادا مرحوم روزانہ گیارہ سے بارہ بجے کے درمیان اپنے گھر سے اپنے پٹرول پمپ پر جاتے تھے اور شام پانچ سے چھ بجے تک موجود رہتے تھے۔ گھر واپسی پر وہ پھل اور سبزیاں ملیاریوں یعنی آرائیوں کی عورتوں سے خریدتے تھے۔ ملیاریاں پھل ، سبزی اپنی کھاریوں (ٹوکریوں) میں ڈالے انھیں اپنے سروں پر رکھ کر ہمارے گھر تک لاتی تھیں۔

ہمارا ایک بڑا کاروبار چکوال سے تقریبا آٹھ نو میل دور ڈھڈیال میں بھی تھا۔ وہاں دو بڑی بڑی دکانیں تھیں جو کم از کم پچاس فٹ لمبی اور بارہ فٹ چوڑی تھیں۔ ان کو میرے تایا جی مرحوم شری شانتی سروپ گھئی چلاتے تھے۔ ان میں سے ایک دکان صرف ڈرم سٹور کرنے کے لیے تھی جب کہ دوسری دکان میں انہوں نے اپنا سیل پوائنٹ اور دفتر بنا رکھا تھا۔ انہیں دن بھر لوگوں سے ملنا ہوتا تھا اس لیے وہ وہاں ایک معروف شخص تھے۔ مٹی کے تیل کی دو ایجنسیاں میرے ننھیال کے علاقے تلہ گنگ میں بنائی گئی تھیں۔ وہاں ایک سابق انسپکٹر مسٹر بندرا ان کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ پھر ہم نے انجرا (شاید جگہ کا نام درست نہیں ہے) اور مرید میں بھی گرد و نواح کے علاقے کے لیے ایک تیل کی ایجنسی بنا لی تھی۔ مٹی کا تیل بہت اہم اور بنیادی ضرورت تھا۔ یہ روشنی اور کھانے پکانے کے لیے بطور ایندھن استعمال ہوتا تھا۔ تیل کی ان ایجنسیوں نے ہمیں یہاں علاقے میں بہت اہم پوزیشن دلا دی تھی کیونکہ اس کی ہر کسی کو ضرورت رہتی تھی۔

میں 11 نومبر 1935ء کو چکوال میں پیدا ہوا۔ ہمارا گھر موجودہ پرانی سبزی منڈی سے تقریباً ستر اسی قدم ہی دور تھا۔ ہمارے خاندان میں میرے دادا بدھ راج گھئی مرحوم اور مرحومہ دادی شریمتی شیو دیوی گھئی اور میرے والد مرحوم شری شادی لال گھئی اور والدہ شریمتی شانتی دیوی گھئی کے علاوہ میری مرحومہ بہن اوشا کوچھر اور میرے چھوٹے بھائی کرنل (ر) وی کے گھئی شامل تھے۔ میرے ایک اور چھوٹے بھائی اشوک گھئی ہماری چکوال سے ہجرت کے بعد 1948 ء میں دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ہمارے گھر سے سو گز دور قدرے نشیب میں دو کپور خاندان رہتے تھے۔ ان کے نام شری مکھا شاہ کپور اور شری گیان چند کپور تھے۔ دوسرا خاندان شری مکھن شاہ کپور کا تھا۔ دونوں خاندانوں کے پانچ چھ چھ کنال کے بہت بڑے اور عالیشان گھر تھے جیسا کہ قدیم حویلیاں ہوا کرتی ہیں۔ ہم نے ان کے گھر میں اپنی گائیں اور بھینسیں رکھ چھوڑی تھیں۔ ہر صبح جب میرے دادا ان کا دودھ دوہنے کے لیے جاتے تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے کر جاتے تھے۔وہ بھنیس کے تھن سے نکلنے والی دودھ کی تیز دھار سیدھی میرے منہ میں ڈالتے۔ یہ گرم اور لذیذ دودھ ہوتا تھا۔ اس خاندان کے سربراہ کے دو پوتے تقریباً میرے ہم عمر تھے اور ہم سب اس بڑی سی حویلی میں مل کر کھیلتے تھے۔ ایک کا نام شری للت سبھروال اور اس کے چچا زاد کا نام دیش تھا۔ بعد میں دیش امریکہ چلا گیا اور چند سال پہلے ہم نے اسے کھو دیا ہے جبکہ للت کی تصویر آپ دیکھ سکتے ہیں۔

ہمارے گھر کے عین سامنے ایک حاجی صاحب کی صابن بنانے اور بیچنے کی دکان ہوا کرتی تھی۔ ہمارے گھر کے پچھواڑے میں غلام محمد صاحب رہتے تھے جو ٹیلر ماسٹر تھے اور ان کی دکان اتلا (اوپر والے ) بازار میں تھی۔ ان کا بیٹا بالو میرا ہم عمر تھا۔ بالو اور میں بھی اکثر اکٹھے کھیلتے تھے۔ درحققیت یہ ایک متحمل مزاج اور خوش باش معاشرہ تھا۔

(جاری ہے)



  تازہ ترین   
جنگ جاری رہے گی، ٹرمپ کا آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ایران پر مزید شدید حملے کرنے کا اعلان
کیا امریکا اسرائیل کی خاطر آخری امریکی فوجی تک لڑنے کیلئے تیار ہے؟ ایرانی صدر
شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج کی نقل و حمل ناکام، 8 دہشتگرد ہلاک
ٹرمپ کی باتیں مضحکہ خیز، کبھی سر نہیں جھکایا، آبنائے ہرمز بھول جائیں: ایرانی فوج
ایران میں مزید کیا حاصل کرنا باقی ہے؟ آسٹریلوی وزیراعظم
جنگ کا 34 واں روز: یو اے ای آبنائے ہرمز بزور طاقت کھلوانے کیلئے تیار: امریکی اخبار
لبنان میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر یوسف ہاشم اسرائیلی حملے میں شہید
ایران نے جنگ بندی کی درخواست کردی: ٹرمپ کا دعویٰ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر